لاہور میں دہشت گردی

دہشت گردی کے خلاف جنگ چند دنوں کی بات نہیں یہ ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے


Editorial March 28, 2016
دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف یکساں حکمت عملی اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے، فوٹو : فائل

لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن میں واقع گلشن اقبال پارک میں اتوار کو خود کش دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 72 افراد شہید اور 340 کے قریب زخمی ہو گئے، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ پورا علاقہ دہل کر رہ گیا اور ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ دھماکے کے بعد اسلام آباد میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ سانحہ لاہور پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، میرے بچوں، بچیوں، بہن بھائیوں کو نشانہ بنایا گیا، دہشت گرد اپنا انجام دیکھ کر بزدلانہ وار کر رہے ہیں، بحیثیت قوم تفرقات سے آزاد ہو کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہے، ملک اس وقت قومی یکجہتی کا متقاضی ہے اور دہشت گردوں کو ہر حال میں کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

اس سانحے پر پنجاب میں تین روزہ جب کہ سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا، سرکاری عمارات پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔ سانحہ لاہور پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا طویل اجلاس ہوا جس میں کور کمانڈر راولپنڈی ، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی بھی شریک ہوئے۔ آرمی چیف نے اعلان کیا کہ معصوم شہریوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہوں کو حملہ آوروں کی جلد گرفتاری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو جلد پکڑا جائے، معصوم بچوں کے قاتلوں کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اپنی زندگی اور آزادی کے ساتھ وحشی درندوں کو کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے۔

اطلاعات کے مطابق گلشن اقبال لاہور میں رونما ہونے والے سانحہ نے ایک بار پھر پوری قوم کو افسردہ کر دیا، اس سانحہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے علاقے میں پہلے بھی دو بڑے خود کش دھماکے ہو چکے ہیں جس میں درجنوں افراد شہید ہو گئے تھے۔ پہلے دو خود کش حملے مون مارکیٹ میں ہوئے، یہ لاہور کا انتہائی رش والا شاپنگ سینٹر ہے، جہاں گرینڈ ڈیپارٹمنٹ اسٹورز، ہر قسم کی فوڈ آئٹمز کے ساتھ ملبوسات، پھل، سبزیاں ،اسٹیشنری اور جیولری کی مصنوعات فروخت ہوتی ہیں، شام اور رات کے اوقات میں یہاں بے پناہ رش ہوتا ہے۔

گلشن اقبال پارک بھی اس کے قریب ہی واقع ہے۔ اس پارک میں اتوار کو ہزاروں لوگ تفریح کے لیے آتے ہیں۔ دہشت گردوں نے ایک تفریحی مقام کو نشانہ بنایا جو ان کے لیے نہایت آسان ٹارگٹ تھا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کی دہشت گردوں سے کوئی دشمنی نہیں انھیں ٹارگٹ بنانا ظلم کی انتہا ہے۔ پولیس ذرایع کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک شناختی کارڈ ملا جس کے متعلق شبہ ہے کہ وہ خود کش بمبار کا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق خود کش حملے میں 8 سے 10کلو دھماکا خیز مواد استعمال ہوا ہے۔

گلشن اقبال پارک جہاں دھماکا ہوا خبروں کے مطابق وہاں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث دہشت گرد بغیر کسی چیکنگ کے اندر داخل ہو کر اپنے ہدف تک پہنچ گیا۔ گلشن اقبال ہی کیا ملک بھر میں عوامی تفریحی مقامات پر سیکیورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات ہوتے ہیں جس کے باعث دہشت گردوں کے لیے ان مقامات کو نشانہ بنانا بہت آسان ہوتا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کے ناقص انتظامات دیکھتے ہوئے یہ صاف واضح ہوتا ہے کہ حکومت کو شہریوں کی جان و مال کی کوئی پرواہ نہیں، جب کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو حکمران اور انتظامیہ اس وقت کارکردگی دکھانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتی ہے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن ایک دو دن گزرنے کے بعد جب معاملات ٹھنڈے پڑتے ہیں تو عوام کو ایک بار پھر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور حکومت کی طرف سے حفاظتی انتظامات کرنے کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی۔

ناقدین دہشت گردی کے واقعات دیکھتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ حکومت حقیقت میں دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہو چکی ہے۔ ملک بھر میں روزانہ ٹریفک حادثات میں درجنوں افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں کبھی ان ہلاکتوں کو روکنے کے لیے منصوبہ بندی نہیں کی گئی اسی سے حکومت کی ترجیحات واضح ہو جاتی ہیں اور اس کی گورننس کا معیار بھی سامنے آ جاتا ہے۔

ملک بھر میں ایک طویل عرصے سے جس طرح سے دہشت گردی کی لہر چلی آ رہی ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت تمام اہم مقامات کے ساتھ ساتھ تفریحی مقامات کی حفاظت بھی یقینی بناتی لیکن حکمرانوں نے اپنی حفاظت کے انتظامات تو پورے کر لیے مگر عوام کو دعوؤں اور بیانات کے سہارے پر چھوڑ دیا۔

فوج نے ضرب عضب کے ذریعے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ کر کے کافی حد تک امن قائم کر دیا ہے لیکن ملک بھر میں پھیلے ہوئے بے چہرہ اور بے شناخت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک موجود ہے جو وقفے وقفے سے دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے اپنے مذموم مقاصد کا اظہار کرتی رہتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ چند دنوں کی بات نہیں یہ ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے۔اس جنگ کو کامیاب بنانا صرف فوج ہی کا کام نہیں ہے سول انتظامیہ پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائے۔

وہ مراکز یا ادارے جہاں پر ایسی تعلیم دی جاتی جہاں سے دہشت گردی کو تقویت ملتی ہے تو ان اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اس لیے اسے کامیاب بنانے کے لیے بلدیاتی اداروں کو بھی متحرک کرنے کی ضرورت ہے جب تک گلی محلے کی سطح پر عوام کی ایک بڑی تعداد اس جنگ میں شریک نہیں ہوتی تب تک اس میں کامیابی ایک مشکل امر ہے۔

علماء کرام کا بھی فرض ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف عوام کی رہنمائی کریں اور ان نظریات کو باطل قرار دیں جن سے کسی بھی سطح پر دہشت گردی کو تقویت ملتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ پنجاب میں بھی دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائیوں کی تیاری ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی سطح پر یکجہتی کی انتہائی ضرورت ہے۔

ہمارے معاشرے میں انتہا پسندوں کو جہاں سے نظریاتی اور مالی غذا مل رہی ہے، اس کا سب کو پتہ ہے، یہ بھی خاصی حد تک آشکار ہے کہ ملکی سطح پر کونسی قوتیں اپنے مقاصد اور مفادات کے حصول کے لیے دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں، ریاستی اور معاشرتی سطح پر یہ مفاد پرستی ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے، دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف یکساں حکمت عملی اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے، معاشرے میں انتہا پسندی کو پروموٹ کرنے والی قوتوں کے ساتھ بھی آہنی ہاتھ سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت اور لاپروائی یا مفاد پرستی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں