سی این جی سیکٹر نے آڈٹ عالمی فرم سے کرانے کامطالبہ کردیا

وزارت پٹرولیم اور اوگرا کے نان پروفیشنلز کے فیصلے 400 ارب کی صنعت تباہ کر رہے ہیں


Khususi Reporter December 20, 2012
موجودہ بحران سے سی این جی مالکان کو 4 ارب، حکومت کو 12 ارب کا نقصان ہوچکا،غیاث پراچہ فوٹو: فائل

چیئرمین آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن سپریم کونسل غیاث عبداللہ پراچہ نے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی قیمت اور پیداواری لاگت کا آڈٹ کسی معروف بین الاقوامی چارٹرڈ اکاونٹنٹ فرم سے کرایا جائے۔

گزشتہ روزجاری بیان میں انھوں نے کہا کہ وزارت پٹرولیم اور اوگرا کے نان پروفیشنل افراد کے فیصلے 400 ارب روپے کی صنعت تباہ کر رہے ہیں جس سے کروڑوں افراد متاثر ہونگے، اوگرا نے اپنے آڈیٹروں اور اپنی ہی چنی ہوئی چارٹرڈ اکائونٹنٹ فرم کی آڈٹ رپورٹیں مسترد کر کے بحران کو طوالت دی ہے، ملک کوتوانائی کے بحران میں مبتلا کرنے والے بیوروکریٹس جنھیں اس اہم شعبہ کی ابجد کا بھی پتہ نہیں پر اہم فیصلے نہیں چھوڑے جا سکتے، ایسا کوئی فیصلہ نہیں مانیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس شعبے میںسی این جی مالکان کا 260 ارب جبکہ 37 لاکھ گاڑیوں میں عوام نے 104 ارب روپے کے سلنڈر اور کٹس لگوائی ہیں، موجودہ بحران کی وجہ سے سی این جی مالکان کو کم از کم 8 کروڑ روپے روزانہ کے حساب سے 4ارب سے زائدکا نقصان ہو چکا ہے جبکہ حکومت کو53 روز میں 23 کروڑ روپے روزانہ کے حساب سے 12 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

09

غیاث پراچہ نے کہا کہ سی این جی کی بندش کی وجہ سے پٹرول کی درآمد میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی گر رہی ہے اور اس سے غیر ملکی قرضوں میں اربوں کا اضافے کے ساتھ معیشت بھی کمزور ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک ہزار کے قریب چھوٹے سی این جی اسٹیشن بند ہونے والے ہیں، عوام کی پریشانی جبکہ ارباب اختیار کی بے حسی میں روز اضافہ ہو رہا ہے جس سے عوام، گاڑیوں اور سی این جی اسٹیشن مالکان سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں