پاکستان کی جمہوریت میںاستعفیٰ مانگنے اور استعفیٰ نہ دینے کا رواج
پی آئی اے کی فلائٹ کے المناک حادثہ کی وجہ سے جہاں ملک کی فضا سوگوار ہے
لاہور:
پی آئی اے کی فلائٹ کے المناک حادثہ کی وجہ سے جہاں ملک کی فضا سوگوار ہے۔ وہاں استعفوں کے مطالبے بھی سامنے آناشروع ہو گئے ہیں۔کوئی پی آئی اے کے چیئرمین اور کوئی ایم ڈی کا استعفیٰ مانگ رہاہے۔ حادثہ کا افسوس اپنی جگہ۔ لیکن استعفوں کی مانگ تو مذاق ہی ہے۔ ایک تو پاکستان میں کچھ بھی ہو جائے استعفیٰ دینے کا کوئی کلچر موجود نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی جہاں استعفیٰ دینے کا کوئی کلچر موجود نہیں ۔ وہاں استعفیٰ مانگنے کا کلچر اپنی جگہ موجود ہے۔
حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ اپنے سید خورشید شاہ استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔ جن کے اپنے دور حکومت میں حاجی لٹ گئے لیکن کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔ رحمٰن ملک استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔ جن کے دور میں ریکارڈ سانحات ہوئے ہیں۔ دہشت گردی عروج پر تھی۔ وہی رحمٰن ملک استعفیٰ مانگ رہے ہیں جن کے دور میں پاسپورٹ بھی نایاب ہو گیا تھا۔ اسٹاک ایکسچینج کئی ماہ بند رہی مگر کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔ رینٹل منصوبے بے رنگ ہو گئے کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔ گورنر کو اپنے ہی سرکاری باڈی گارڈ نے گولی ماردی تو بھی کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔
پاکستان میں استعفیٰ کلچر کو کوئی وجود نہیں۔ یہاں پہاڑ گر جائے ۔ آسمان گر جائے لیکن استعفیٰ دینے کا کوئی رواج نہیںہے۔ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آرہی کہ گزشتہ چند ماہ میں ریلوے کے بھی کئی حادثے ہوئے ہیں۔ جن میں بے گناہ لوگ شہید ہو ئے ہیں لیکن کسی نے ریلوے کے وزیر سے استعفیٰ نہیں مانگا۔ یہاں تو سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بھی کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔ لیکن پھر بھی ہر وقت استعفیٰ کی رٹ لگائی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے استعفیٰ مانگنا بھی ایک فیشن بن کر رہ گیا ہے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جس سے بھی استعفیٰ مانگا جا تا ہے۔ وہ یہی کہتا ہے کہ میں کیوں استعفیٰ دوں ۔کیا مجھ سے پہلے کسی نے ایسے کسی کام پر استعفیٰ دیا تھا۔ جو مجھ سے مانگا جا رہا ہے۔ یہ روائت مجھ سے ہی شرع کرنے کی کیوں کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لیے جس سے بھی کسی نہ کسی بات پر استعفیٰ مانگا جائے اس کی اس جوابی دلیل میں وزن رہتا کہ میں ہی کیوں۔ جب مجھ سے پہلے کسی نے استعفیٰ نہیں دیا وہاں اب مجھ سے کیوں مانگا جا رہا ہے۔
ہم یقیناً اس بات پر بحث کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں استعفیٰ دینے کا کلچر کیوں موجود نہیں ہے۔ جب کہ دیگر جمہوری معاشروں میں رضا کارانہ استعفیٰ دینے کا ایک خوبصورت کلچر آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ رضا کارانہ طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کے کلچر نے ہی ان ممالک کی جمہوریت کو حسین اور دلفریب بنا دیا ہوا ہے۔
لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ شائد اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بنیادیں اس قدر مضبوط نہیں ہیں۔یہاں جمہوریت کی کشتی ہر وقت ڈولتی رہتی ہے ۔اسٹبلشمنٹ ہر وقت جمہوریت کی بساط کو لپیٹنے اور کمزور جمہوریت کا شب کون کرنے کے درپے رہتی ہے۔ اسٹبلشمنٹ کے خوف میں پروان چڑھنے والی اس جمہوریت میں کسی کو بھی اپنی دوسری اننگ کا یقین نہیں ہو تا ۔ جا کر واپس آنے کا کسی کو کوئی یقین نہیں ہے۔کل کیا ہو ۔اس ماحول میں شائد کوئی بھی کسی قسم کا رسک لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
استعفیٰ دینا کوئی کمزوری نہیں بلکہ جرات کا کام ہے۔ استعفیٰ نہ دینا بزدلی اور کمزوری ہے۔ یہ کہنا غلط ہو گا کہ کمزور لوگ استعفیٰ دے دیتے ہیں بلکہ اصل صورتحال یہی ہے کہ صرف بہادر اور جرات مند لوگ ہی اپنی غلطی مان کر استعفیٰ دیتے ہیں۔ جس کو جانے کا ڈر نہ ہو ۔ جس کو اپنے اوپر یقین ہو۔ اور جو سسٹم پر مکمل یقین رکھتا ہو۔ صرف وہی استعفیٰ دیتا ہے۔
جن ممالک میں بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر استعفیٰ دیتے نظر آتے ہیں ۔ وہاں نظام کی مضبوطی پر ان ان کا یقین کامل ہو تا ہے۔ وہاں صرف سرکاری عہدوں سے استعفیٰ دینے کا رواج نہیں بلکہ غیر سرکاری نوکریوں سے بھی سربراہ اپنی کارکردگی اور غلطیوں کی بنیاد پر استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ اس طرح جہاں پاکستان میں سرکاری عہدوں سے استعفیٰ دینے کا رواج نہیں وہاں پرائیوٹ سیکٹر میں بھی چاہے کتنی بڑی غلطی ہو جائے استعفیٰ دینے کا کوئی رواج نہیں۔
پاکستان کی سیاست میں آپ کی جماعت چاہے الیکشن مکمل طور پر ہار جائے لیکن پھر بھی کسی بھی سیاسی جماعت کا سربرا ہ استعفیٰ دینے پر یقین نہیں رکھتا۔ پیپلزپارٹی کی شکست کے بعد بھی وہاں قیادت کے استعفیٰ کی کوئی بات نہیں ہے۔ اسفند یار ولی کی جماعت بھی ہار گئی لیکن ان سے بھی کوئی استعفیٰ نہیں مانگ رہا۔ کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کے بعد کوئی بھی استعفیٰ نہیں دیتا۔ سب اپنے اپنے عہدوں پر بیٹھ کر اس دہشت گردی کی کارروائی کا دفاع کرتے ہیں۔ ایک کی ٹوپی دوسرے کے سر پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ کسی بھی غلطی پر اپنی غلطی مان کر استعفیٰ دینا جمہوریت کا حسن ہے ۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ حسن پاکستان کی جمہوریت میں کیسے آسکتا ہے۔ اس ضمن میں میری اپنے دوستوں سے گزارش ہے کہ کسی بھی رنگ گورا کرنے والی کریم کے استعمال سے جمہوریت کا رنگ گورا نہیں کیا جا سکتا۔ایسا ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنی ضرورت اور خواہش کے تحت اس کا چہرہ یا جسم کا کوئی اور حصہ حسب خواہش گورا کر لیں اور باقی جسم کا رنگ وہی بدنما رہنے دیں۔ جمہوریت پر کوئی بھی مصنوعی رنگ نہیں چڑھا یا جا سکتا۔ اس کا جو بھی رنگ ہو گا مکمل طور پر وہی رنگ ہو گا۔ پاکستان میں استعفوں کا کلچر تب ہی شروع ہو سکے گا جب جمہوریت پر سے اسٹبلشمنٹ کے خوف کے سائے ختم ہو جائیں گے۔ اوریہاں آنے اور جانے کا کھیل کسی کے نہیں عوام کے کنٹرول میں ہو گا۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ اب تک اسٹبلشنٹ نے اپنے ڈنڈے کے زور پر جس سے بھی استعفیٰ لیا ہے یا جس کو بھی گھر بھیجا ہے وہ واپس آیا۔ عوام نے اس کو زبردستی گھر بھیجنے کے اس عمل کو یکسر مسترد کیا ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں کسی کو بھی گھر بھیجنے کا اختیار صرف اور صرف عوام کے پاس ہو تا ہے۔ ہمیں عوام کا یہ اختیار عوام کو واپس لوٹانا ہے۔ جب کسی کو گھر بھیجنے کا اختیار عوام کے پاس آجائے گا ۔ تو لوگ خود بخود استعفیٰ دینے بھی شروع کر دیں گے۔ یہ استعفیٰ دینے کا کلچر کسی کے ڈنڈے اور دباؤ سے شروع نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف عوام کے دباؤ سے ہی شروع ہو گا۔ باقی جہاں تک بیچارے ایم ڈی پی آئی اے سے استعفیٰ کا سوال ہے تو یہ چند دن کا شور ہے۔ میرا ان کومشورہ ہے مشکل کے چند دن ہیں خاموشی سے گزار لیں۔ پھر سب بھول جائیں گے۔ استعفیٰ کے ان مطالبوں کو سنجیدہ لینے کی کوئی ضرورت نہیںہے۔