نئے سال کی آمد کے ساتھ آنے والی اچھی خبریں

حکومت کی سادہ پالیسی رہی کہ زور ہے تو منا لو


مزمل سہروردی January 02, 2017
[email protected]

KARACHI: نیو ایئر نائٹ منانی چاہیے کہ نہیں۔ ہم شاید ابھی تک یہ فیصلہ بھی نہیں کر سکے ہیں۔ آدھا پاکستان کہہ رہا تھا کہ یہ ہمارا سال نہیں۔ ہم کیوں نیو ایئر نائٹ منائیں۔ آدھا پاکستان نیو ائیر نائٹ منانے کے لیے بے تاب تھا۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھی عجیب شش و پنج میں تھے، آدھی آبادی کو نیو ائیر نائٹ منانے سے روکنے میں مصروف تھے اور باقی کے نیو ائیر نائٹ کی حفاظت میں مصروف تھے۔ لیکن رات گئے تک پاکستان کے بڑے شہروں کی بڑی سڑکوں پر رش تھا۔ غریب سڑکوں پر گھوم کر نیو ائیر نائٹ منا رہے تھے اور امیروں کے تو انداز اور شان ہی نرالی تھی۔ لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی سب نے اپنے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے نیو ائیر نائٹ منائی۔

حکومت کی سادہ پالیسی رہی کہ زور ہے تو منا لو ۔ اگر کمزور ہو تو گھر بیٹھو۔ غریب کے لیے کوئی تفریح نہیں تھی۔ اور امیر تو حکومت کے محتاج ہی نہیں تھے۔ خود کفیل تھے، ہیں اور رہیں گے۔کراچی کے سمندر پر کنٹینر لگانے کی خبروں نے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔ غریب آدمی سمندر پر جا کر سستی تفریح کے ساتھ نیا سال منا سکتا تھالیکن اس کے بھی راستے بند کر دیے گئے۔ اس ملک کو تفریح کی سخت ضرورت ہے ۔ ڈپریشن کو دور کرنے کے لیے عام آدمی میں جینے کی مانگ پیدا کرنا ہو گی۔ خوشیوں کو قومی سطح پر منانا ہو گا۔

یہ کیا منطق ہے کہ یہ نیا سال ہمارا نہیں۔ جب ہم بجٹ اس سال کے مطابق بناتے ہیں۔ تنخواہیں اس سال کے مہینوں اور دنوں کے حساب سے دیتے ہیں۔ عدالتوں میں سماعت کی تاریخیں اس سال کی نسبت سے طے کی جاتی ہیں، شادیاں اور گھروں کے تہوار اس سال کی تاریخوں کے حساب سے طے کرتے ہیں، بینکوں کے چیک پر اس سال کی تاریخ ڈالی جاتی ہے، تعلیمی سال کا کیلنڈر اس سال کی تاریخوں کے حساب سے طے کیا جاتا ہے تو اس سال کا نیو ائیر منانے میں کیا حرج ہے۔اسی طرح ویلنٹائن ڈے کی بھی مخالفت کی جاتی ہے لیکن وہ بھی منایا جاتا ہے۔ ہم یہ کیوں نہیں مانتے کہ سب سے بڑی عدالت عوام کی ہے اور سب سے بڑے منصف بھی عوام ہیں جو چیز عوام کو قبول ہے اسے رد کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں۔ کیا ہم خود کو عوام سے اوپر سمجھتے ہیں۔

نیا سال چند اچھی خبریں بھی ساتھ لایا ہے۔ نئے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے خود کو پانامہ کیس کے بنچ سے علیحدہ کر کے ناقدین کے منہ بند کر دیے ہیں۔ ان کے اس فیصلہ نے پانامہ کیس میں ایک مرتبہ پھر جان ڈال دی ہے۔ ورنہ مخالفین غلط تاثر پھیلا رہے تھے کہ اب پانامہ کیس بند ہو گیا۔ گزشتہ دو ہفتہ کے دوران سوشل میڈیا پر ایک مخالفانہ منظم مہم چلائی گئی۔ اب تو ایف آئی اے والے اس مہم کے سپانسرز کی تلاش میں ہیں۔کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مہم چلانے والے کم از کم کسی حد تک اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئے ۔ باقی قانون کی گرفت میں آنا اور نکلنا پاکستان میں کوئی بڑی بات نہیں۔

نئے سال کی بات کر رہے ہیں تو نئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ نے افغانستان کے صدر چیف ایگزیکٹو اور آرمی چیف کو نئے سال کی مبارکباد کے لیے فون کیا ہے۔ یہ سال نو کی ایک پیش رفت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات گزشتہ دو سال سے نہایت کشیدہ ہیں۔ بالخصوص چند ماہ قبل بھارت میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغان صدر کی پاکستان مخالف تقریر کے بعد تو پاک افغان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ نیا سال پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے حوالہ سے بھی خوشخبری لایا ہے۔ اسی لیے پاک فوج کے سربراہ نے نئے سال کی مبارکباد کے لیے افغانستان کی پوری قیادت کو فون کیا ہے۔ اس کو بھی نئے سال کی ایک اچھی خبر کہا جا سکتا ہے۔

حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کو نئے سال برقرار رکھا ہے۔ اس کو بھی نئے سال کی عوام کے لیے خوشخبری کہا جا سکتا ہے۔ ورنہ خدشہ تو یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ نئے سال پر پٹرولیم کی مصنوعات میں اضافہ ہو جائے گا۔ تاہم وزیر اعظم پاکستان نے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔ لیکن پاکستان میں پٹرولیم کی قیمتیں گزشتہ ایک سال سے مستحکم ہیں۔اور ان کو بڑھنے نہیں دیا جا رہا۔ شاید وفاقی حکومت عوام کو ہر بار یہ باور کروانا چاہتی کہ یہ ریلیف وہ عوام کو دے رہی ہے۔ لیکن کہا جا رہا ہے کہ اب نیا سال الیکشن کا سال ہے۔ اس میں مسلم لیگ ن کی قیادت اگر عوام کو کچھ دے نہیں سکتی تو واپس بھی نہیں لے سکتی۔ اگر ووٹ لینے ہیں تو عوام کو ریلیف دینا ہو گا۔ بلکہ بجلی جو مہنگی کی گئی تھی اسے بھی 2013 کی قیمتوں سے نیچے لانا ہو گا۔ ورنہ وہ عوام کے دل نہیں جیت سکے گی۔

نئے سال کی ایک اور اچھی چیز پنجاب میں ضلعی اور بلدیاتی حکومتوں کا قیام ہے۔ کراچی کے بعد لاہور کے لارڈ میئر نے بھی حلف اٹھا لیا۔ ویسے تو کراچی کی طرح لاہور کے لارڈ میئر بھی مکمل طور پر بے اختیار ہیں۔ لیکن پھر بھی کراچی اور لاہور کے لارڈ میئرز کے کام کرنے کی ترکیب میں ایک واضح فرق نظر آرہا ہے۔

کراچی کے لارڈ میئر وسیم اختر کہہ رہے ہیں کہ جب تک انھیں اختیارات نہیں ملیں گے وہ کام نہیں کر سکتے لیکن چونکہ لاہور کے لارڈ میئر سیاسی طور پر ایسا کہہ نہیں سکتے۔ ان کے لیے ایسا کہنا سیاسی خود کشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے لاہور کے نو منتخب لارڈ میئر کرنل (ر) مبشر جاوید نے کہا ہے کہ کام کرنے کے لیے مزید کسی اختیار کی ضرورت نہیں۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ کراچی کے لارڈ میئر کہہ رہے ہیں کہ جب تک ان کے پاس اختیار نہیں ہو گا وہ کراچی کا کوڑا اور گند نہیں صاف کر سکتے۔

آپ کی اس ضمن میں کیا حکمت عملی ہوگی۔ تو انھوں نے کہا کہ جہاں کوڑا اور گند ہو گا میں وہاں خود جا کر کھڑا ہو جاؤں گا۔پھر دیکھوں گا کوڑا اور گند کیسے صاف نہیں ہو گا۔ محکمہ میرے ماتحت ہونا ضروری نہیں۔ گند صاف ہو گا تو میں جگہ سے جاؤں گا۔ یہ ایک اچھی حکمت عملی ہے۔ اگر لاہور میں کامیاب ہو گئی تو ہم وسیم اختر سے بھی درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ بھی اپنا لیں۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ سال الیکشن کی تیاریوں کا سال ہے۔ اس لیے یہ سال عوام کا سال ہے۔ سب سیاسی جماعتیں عوام کا دل جیتنے کی کوشش کریں گی۔ عوام کے مفاد کی بات ہو گی۔ عوام کے حقوق کی بات ہو گی۔ نمائندے بھی حلقوں میں نظر آئیں گے۔ خوشیاں اور غم سانجھے ہو جائیں گے۔ کام بھی ہونے لگیں گے۔ نوکریاں بھی بٹیں گے۔ ترقیاتی کام بھی ہونگے۔ اس لیے یہ سال خوشیوں کا سال ہے۔ اللہ کریم ہمیں خوش رکھے اور ہم مظلوم عوام کی خوشیوں کو قائم رکھیں۔ بس ہر سال ایسا ہی سال ہو۔ کیونکہ اگلے سال انتخاب جیتنے کے بعد پھر عوام لاوارث ہو جائیں گے۔ اس لیے اس سال عوام کو دل بھر کر خوش ہونا ہے۔

مقبول خبریں