دلائی لامہ ارونا چل پردیش میں
تبت چین کا حصہ نہیں تھا لیکن بھارت نے اسے زیر نگین کرنے کی بات مان لی
1962ء میں چینیوں کے ہاتھوں بھارت کی فوجی شکست کے بعد میں ''بملاپاس'' یعنی اس پہاڑی درے پر گیا جہاں سے دلائی لامہ بھارت میں داخل ہوئے تھے اور پناہ کی درخواست کی تھی۔ دلائی لامہ کے علاقے تبت پر چین نے قبضہ کر لیا تھا، اور ان کی ثقافت بھی تباہ کر دی۔ چینیوں نے وہاں کمیونزم نافذ کر دیا۔ ان کے نزدیک دلائی لامہ کی یا ان کی عبادت گاہ کی کوئی تکریم نہیں تھی۔
دلائی لامہ نے حال ہی میں اروناچل پردیش کا دورہ کیا ہے جس سے مجھے وہ وقت یاد آ گیا ہے جب چین نے تبت کو اپنے ملک میں شامل کر لیا۔ بھارت کے اولین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے کوئی اعتراض نہ کیا کیونکہ چینی وزیراعظم چو این لائی کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات تھے۔ تبت بیجنگ کے زیر نگین رہا لہٰذا ان کی آزاد معاشی حیثیت کا قائم رہنا مشکل تھا۔ بالادستی کا مطلب کسی زیر نگین ریاست پر سیاسی اختیار ہے لیکن زیر نگین ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس ریاست کو اپنے اندر ضم کر لیا جائے۔
تبت چین کا حصہ نہیں تھا لیکن بھارت نے اسے زیر نگین کرنے کی بات مان لی۔ بیجنگ نے 1954ء میں دلائی لامہ کا لہاسا میں قیام ناممکن بنا دیا جو نئی دہلی سے دھوکے کے مترادف تھا لیکن اس سے بھی بڑا دھوکا چین نے اس واقعے کے 8 سال بعد بھارت پر حملہ کر کے دیا۔ دلائی لامہ کے ارونا چل پردیش کے دورے سے زیادہ شکوک و شبہات پیدا نہ ہوتے لیکن اس سے ایک بار پھر تبت کے چین میں شامل کیے جانے کے معاملے پر سوالات پیدا کر دیے۔ دلائی لامہ نے چند روز قبل اروناچل پردیش کا دورہ کیا حالانکہ چین نے بھارت کو خبردار کیا تھا کہ دلائی لامہ کے دورے سے چین اور بھارت کے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔ لیکن بھارت پر چین کے انتباہ کا کوئی اثر نہ ہوا بلکہ اس نے دلائی دلامہ کا استقبال کرنے کا پروگرام پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
تاہم مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ وزارت امور داخلہ کے وزیر مملکت کرن بی جیجو نے آخر اس بات پر زور کیوں دیا کہ دلائی دلامہ کے دورے کا مقصد خالصتاً مذہبی تھا۔ اب یہ دلائی لامہ پر منحصر ہے کہ وہ بتائیں کہ ارونا چل پردیش کا ایک ہفتے کا دورہ انھوں نے کس مقصد کے تحت کیا۔ چونکہ چین اور بھارت کے مابین اصل مسئلہ اروناچل پردیش پر چین کی طرف سے قبضے کے دعوے کا ہی ہے اور چین طویل مدت سے دعویٰ کر رہا ہے کہ بھارتی ریاست اروناچل پردیش درحقیقت چین کا علاقہ ہے اور وہ اسے مذہی پیشوا کی رہائش گاہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ دلائی لامہ کا اروناچل پردیش کا دورہ اس کے مفاد میں نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ چین والے دلائی لامہ کو علیحدگی پسند سمجھتے ہیں۔
جہاں تک کرن ری جیجو کے تبصرے کا تعلق ہے تو ان کا کہنا ہے کہ چین دلائی لامہ کو ایک سیاسی لیڈر ہونے کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے لیکن ہم دلائی لامہ کے ساتھ کوئی تعلق پیدا کرنا نہیں چاہتے مبادا کہ چین ہم سے ناراض ہو جائے جب کہ دلائی لامہ ارونا چل پردیش میں ایک ہفتے کے قیام کے دوران تاوانگ، پوم ڈیلا اور ریاست کے دیگر مقامات پر مذہبی اجتماعات منعقد کریں گے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دلائی لامہ نے 1983ء سے 2009ء کے دوران 6 مرتبہ اروناچل پردیش کا دورہ کیا۔ ری جیجو کا کہنا تھا کہ دلائی لامہ کے دورے کو مصنوعی طور پر متنازع نہ بنایا جائے کیونکہ وہ بھارت کے مہمان ہیںبلکہ بھارتی وزیر بذات خود اس دورے میں تبت کے روحانی پیشوا کے ہمرکاب رہنا چاہتے ہیں۔
بھارت کے ساتھ چین کا تنازعہ بنیادی طور پر برطانوی دور حکومت میں چین اور بھارت کی سرحدی حدود کے تعین سے پیدا ہوا، جس کو چین شروع ہی سے تسلیم نہیں کرتا۔ بھارت چین سرحد کو میک موہن لائن کہا جاتا ہے جس کے ذریعے اروناچل پردیش کو بھارت کا حصہ بنایا گیا۔ لہٰذا اس علاقے میں بھارت جو کارروائی بھی کرتا ہے چینی فوجی اسے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ بھارت کے سفارتی حکام یا حکومتی افسران اس علاقے کا دورہ کریں تو چین مشتعل ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر دلائی لامہ نے تاوانگ میں اپنے پیروکاروں سے خطاب کے لیے جو دورہ کیا اس سے چین سخت مشتعل ہو گیا۔ بھارت چین تعلقات پر نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ چین دلائی لامہ سے کتنی نفرت کرتا ہے۔
علاوہ ازیں ریاستی انتخاب میں رائے دہندگان کا بھاری تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں پر آنا بھی چین کو بہت ناگوار گزرتا ہے۔ 2009ء کے ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں 72 فیصد افراد نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ اس وقت چین نے بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی کے دورۂ اروناچل پردیش پر بھی سخت احتجاج کیا تھا۔ انھوں نے تو بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی طرف سے ریاست کے دورے پر بھی اعتراض کیا۔ مجھے اس بات کی بھی سمجھ نہیں آئی کہ آخر بھارت چین کو خوش کرنے کے لیے مختلف قسم کی رعایتیں کیوں دیتا ہے جیسے اس نے تجارت کے لیے چین جانے والوں کو ویزے ان کے پاسپورٹ کے بجائے علیحدہ کاغذ پر مہر لگا کر جاری کیے۔ چند سال پہلے چین نے بھارتی فضائیہ کے ایک افسر کو چین کا ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس کا تعلق اروناچل پردیش سے تھا۔
اس پر بھی بھارتی حکومت نے کوئی احتجاج نہیں کیا بلکہ اس فوجی وفد سے مذکورہ افسر کو نکال دیا اور وہ وفد جو 30 افسروں پر مشتمل تھا اس کی تعداد صرف 15 رہ گئی۔ بھارت چین تعلقات کے حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ نئی دہلی حکومت کی پالیسی خاموشی پر منحصر ہے۔ چین نے تبت میں ایک اور عوامی بغاوت کچل دی ہے۔ لیکن بھارت اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں بولا۔ تبت کے مقامی لوگوں کے احتجاجی مظاہرے پر چینی پولیس نے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جس سے کئی مظاہرین ہلاک ہوگئے اور کئی ایک کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ تبت میں بدھ مت بہت مضبوط ہے جب کہ بھارت میں 80 آبادی ہندوؤں پر مشتمل ہے۔
ریاست بہارکی تالندا یونیورسٹی میں اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ اگر بدھ مت ہندو مت ہی کی ایک شکل ہے تو وہ ہندو مت سے علیحدہ کس طرح ہوا اور پھر ایک علیحدہ مذہب بن گیا حالانکہ ان دونوں مذاہب میں اب بھی گہرا رشتہ موجود ہے۔ مہاتما بدھ کو ہندو بھی ایک دیوتا مانتے ہیں اور ان کی پرستش کرتے ہیں۔ اگرچہ چین سارے ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ دلائی لامہ کی میزبانی نہ کریں لیکن بھارت کے ساتھ اس کا رویہ مختلف ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہندو جذباتی طور پر بدھ مت کے ساتھ بھی وابستہ ہیں اور یہی حالت دلائی لامہ کے ساتھ ان کے تعلق کی ہے۔ چین کہتا ہے کہ دلائی لامہ صرف دھرم شالا تک محدود رہیں جہاں پر وہ اور ان کے پیروکار 1959ء سے رہ رہے ہیں۔ اس حوالے سے چین کی پالیسی بظاہر کامیاب لگتی ہے۔ (ترجمہ: مظہر منہاس)