اسلام آباد:
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف تجارتی اور معاشی معاہدوں پر دستخط ہوگئے، دونوں ممالک نے دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ازبکستان کے صدر دورزہ دورے پر اسلام آباد نور خان ایئر بیس پہنچے، پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے چھ رکنی دستے نے صدر شوکت مرزائیوف کو پاکستانی فضائی حدود میں سلامی پیش کی مہمان نوازی، معزز مہمان کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی فضائی حصار میں لیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نور خان ایئر بیس پر ازبکستان کے صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر معزز مہمان کو توپوں کی سلامی بھی پیش کی گئی جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی استقبال کے موقع پر موجود تھے۔
شوکت مرزائیوف کا وزیراعظم ہاؤس آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔

وزیراعظم ہاؤس میں ازبکستان کے صدر کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے آغاز پر پاکستان اور ازبکستان کے قومی ترانے بجائے گئے، جبکہ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے صدر شوکت مرزائیوف کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ازبکستان کے صدر نے گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ازبکستان کے صدر سے متعارف کرایا، جبکہ صدر شوکت مرزائیوف نے اپنے وفد کے ارکان کا وزیراعظم سے تعارف کرایا۔ صدر شوکت مرزائیوف کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی پاکستان پہنچا ہے جس میں وفاقی کابینہ کے سینئر وزراء اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
اس موقع پر دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی روابط اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے نئی راہیں تلاش کی گئیں۔
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہے جو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مثبت پیش رفت اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ تاریخ، مشترکہ عقیدے اور وسطی و جنوبی ایشیا میں امن و خوشحالی کی مشترکہ امنگوں پر مبنی ہیں۔

معاہدوں اور ایم یوز پر دستخط
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کے سرکاری دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ خصوصی تقریب میں معاہدے طے پائے، جس میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور صدر شوکت مرزائیوف نے شرکت کی اور دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے مابین مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کر کے اس کا تبادلہ کیا، جس کے بعد مختلف شعبوں سے متعلق معاہدات اور ایم او یوز پر دونوں ممالک کے متعلقہ وزرا کے درمیان دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔
دونوں ممالک کے درمیان دستخط شدہ اہم معاہدوں اور ایم او یوز میں وزارتِ خارجہ کے مابین 2025 تا 2028 تعاون کا معاہدہ، ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت اشیائے تجارت کی فہرست میں توسیع، ٹیکسٹائل و ملبوسات میں دو طرفہ تعاون، کان کنی اور جیو سائنس کے شعبے میں اشتراک، سزا یافتہ مجرموں کے تبادلے یا حوالگی اور انسداد منشیات کے لیے تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، سائنسی تعلیم، ثقافتی اور آرکیٹیکچرل ورثے کے تحفظ، ثقافت، زراعت و غذائی تحفظ، پلانٹ پروٹیکشن (فائٹو سینیٹری پروٹوکول)، بحری تجارت و بندرگاہی انتظامات، دفاعی تعاون کے ایکشن پلان اور روڈ میپ، ماحولیاتی تبدیلی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، ادویہ سازی کے ریگولیٹری امور اور کھیلوں کے شعبوں میں بھی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
تعلیمی و ادارہ جاتی تعاون کے تحت یونیورسٹی آف پشاور اور تاشقند یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز، انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد اور ازبکستان کے اسٹریٹیجک ادارے، انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے ذریعے پا کستان-ازبکستان ایکسپرٹ کونسل کے قیام، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور ازبکستان کے متعلقہ ادارے، قومی احتساب بیورو اور ازبکستان کی اینٹی کرپشن ایجنسی کے درمیان ایم او یوز بھی شامل ہیں۔
گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا دورہ، آرمی چیف سے ملاقات

ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف نے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا دورہ کیا، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدر اور وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کے امور کار اور دستیاب سہولیات سے آگاہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران صدر کو گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز میں جدید دفاعی ساز و سامان کی تیاری کی دستیاب سہولیات، صنعتی صلاحیتوں اور تکنیکی جدت پر بریفنگ دی گئی۔
وفد نے اہم تنصیبات کا دورہ کیا اور مختلف دفاعی مصنوعات کا مشاہدہ کیا جو مقامی دفاعی پیداوار اور صنعتی ترقی میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی مہارت کی عکاسی کرتی ہے۔
اس دورے میں دفاع، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لئے پاکستان اور ازبکستان کے مشترکہ عزم پر زور دیا گیا۔
دونوں اطراف نے شراکت داری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
ازبک صدر کا یہ دورہ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور پاکستان اور جمہوریہ ازبکستان کے درمیان تعاون کے متعدد مواقع تلاش کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔