سرکاری بھرتیوں پر پابندی کے باوجود لیاری یونیورسٹی میں تقرریوں کیلئے دباؤ

یونیورسٹی انتظامیہ پرمختلف گریڈزمیں غیرتدریسی عملے کی بھرتی کیلیے شدید دبائو ڈالاجارہاہے،انتظامیہ تذبذب کاشکار


Safdar Rizvi February 12, 2013
وائس چانسلرکواعلیٰ حکام نے من پسندافرادکوتقررنامے جاری کرنے کا کہا، اتنے فنڈزنہیں کہ نئے افراد کو بھرتی کر کے تنخواہیں دی جا سکیں فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرعائد پابندیوں کے باوجود اعلیٰ حکام کی جانب سے شہید بینظیر بھٹو لیاری جنرل یونیورسٹی میں بھرتیوں کیلیے دبائوکاسلسلہ شروع ہوگیاہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ پرمختلف گریڈزمیں غیرتدریسی عملے کو بھرتی کرنے کے سلسلے میں شدید دبائو ڈالاجارہاہے جس کے سبب شہید بینظیربھٹولیاری جنرل یونیورسٹی کی انتظامیہ تذبذب کاشکار ہے، یونیورسٹی انتظامیہ فوری طورپریہ فیصلہ نہیں کرپارہی ہے کہ الیکشن کمیشن کے احکامات تسلیم کرتے ہوئے بھرتیوں سے انکار کردیا جائے یااعلیٰ حکام کی خواہش کااحترام کرتے ہوئے من پسند افرادکوبھرتی کرلیا جائے۔

اس سلسلے میں یونیورسٹی کے وائس چانسلرآراے شاہ کواعلیٰ حکام کی جانب سے بلاکرتقرری کے خواہشمند امیدواروں کی ایک فہرست بھی فراہم کی گئی ہے اورکہاگیاہے کہ ان افرادکی بھرتیاں نگراں حکومت کی تشکیل سے قبل کی جائیں، شہید بینظیربھٹولیاری جنرل یونیورسٹی کے ذرائع نے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ وائس چانسلرآراے شاہ کوگذشتہ جمعرات کواعلیٰ حکام نے طلب کیاتھا۔



سندھ کے کئی بااثر افراد نے ان سے ملاقات کی اوران سے کہاگیاہے کہ رواں ماہ فروری گزرنے سے قبل بھرتیاں مکمل کرکے ان افراد کو تقررنامے جاری کردیے جائیں، ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایاکہ اعلیٰ حکام سے ملاقات میں آراے شاہ نے موقف اختیارکیاکہ یونیورسٹی کے پاس اتنے فنڈز نہیں ہیں کہ وہ فوری طورپرایک درجن سے زائد امیدواروں کوبھرتی کرکے مستقل بنیادوں پران کی تنخواہیں جاری کرسکے ۔

تاہم اس معاملے پربعض بااثر افراد نے موقف اختیارکیاکہ یونیورسٹی کواگرمزید فنڈزدرکارہونگے توحکومت سندھ سے انھیں فنڈجاری کروادیے جائیں گے لہٰذایونیورسٹی انتظامیہ فنڈزکی پروانہ کرے، آراے شاہ نے فی الحال بھرتیوں کے معاملے پراعلیٰ حکام سے کچھ وقت مانگاہے اوراس سلسلے میں یونیورسٹی حکام سے ابھی مشاورت جاری ہے۔

مقبول خبریں