صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
منظور رضی نے پیپلز پارٹی کی حکومت میں اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ بھٹو نے یوٹرن لیا۔
معرکہ حق کے ایک سال بعد بھارت نے آپریشن سندھور میں اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لیے ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے۔
بیورو کریسی کے لیے مشہور ہے کہ وہ ہر حکومت میں فٹ ہو جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہر قانونی کام طریقے اور خود کو محفوظ سمجھ کر کرتے ہیں
’’پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر پورے خطے کے دفاع اور سلامتی میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا‘‘
پاکستان کا سیاسی ،انتظامی ،قانونی ،گورننس اور معاشی نظام کمزور ہوتا جا رہا ہے۔اس کے حق میں اور اس کی مخالفت میں بہت سے ماہرین مختلف دلیلیں دیتے ہیں۔
جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج اور صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنے دیے مگر وفاقی حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا
جس کے عروج کی تھی بہت آرزو ہمیں اس کے عروج میں ہی ہمارا زوال تھا ( جون ایلیا )۔
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
کیتھرین بارکلے سے اس کی محبت اسی دنیا میں جنم لیتی ہے جسے جنگ مسلسل تباہ کررہی ہے۔
آبنائے ہرمز اس پوری کشیدگی کا سب سے حساس اقتصادی مرکز بن چکی ہے۔
سیاست کی کبھی نہ کھلنے والی گانٹھیں ایسی ہی رہیں گی۔ نظام کا تبدیل ہونا یا کرنا، ناممکنات میں سے ہے۔
کتاب کا ایک اور حصہ جو اس بحث کو ایک بالکل نیا رخ دیتا ہے وہ ہے گمشدہ تاریخ کا تصور
آج 17اگست2026ء ہے۔ آج52دنوں کے طویل وقفے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس ہو رہا ہے ۔
اہل زباں کہاں مانتے تھے حفیظ بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر والوں کو بلاشبہ بجلی اور آٹے کے نرخوں میں بہت ریلیف دیا ہے جو دیگر پاکستانیوں کو میسر نہیں
خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی تشویش اسی بدلتے ہوئے منظرنامے کا اہم اشارہ ہے۔
سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کے دشمن دہشت گردوں کو وسائل فراہم کر رہے ہیں
امریکا کو ایران کے وسیع جغرافیہ اور اس کی قومی حیثیت کا اندازہ ہی نہیں تھا
ہر طبقے کے لوگوں کو اپنی جیب کے مطابق کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے
پاکستانی ڈرامہ اس لیے زندہ ہے کہ اس نے خود کو بازار کے شور میں گم نہیں ہونے دیا
قیامِ پاکستان کے وقت ہم نے انتہائی کٹھن حالات میں سفر کا آغاز کیا تھا
بدقسمتی سے اسرائیل اور بھارت مسلم دشمنی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے
مجھے لگتا ہے کہ ایک انقلابی دانشور کی سب سے بڑی شکست یونیورسٹی میں فیل ہونا نہیں
اس دور کی تربیت میں میکے سسرال کا کوئی تفرقہ روا نہ رکھا جاتا سب مل جل کر رہتے
ماضی گواہ ہے کہ دور برطانیہ کا غیر منقسم برصغیر کایہ اہم شہر فرنگیوں کی پسندیدگی کا نگاہ مرکز رہا ہے
ضروری نہیں کہ خاندان کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے اخراجات کیے جائیں
لڑکیوں کو مفت کا مال سمجھ کر برے کاموں میں ملوث کر دینا روزکا معمول ہے
اس دور میں انگریزوں کے خلاف سخت نفرت اور بغاوت تھی
سندھ میں 1965 اور 1971 میں چھوڑی گئی متروکہ املاک پر صرف سندھ کے عوام کا حق ہے
درحقیقت ہم ایک مردہ قوم بن چکے ہیں جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں
کتاب انسان کی تنہائی کی ساتھی اور بہترین دوست سمجھی جاتی ہے
جامعات کی خود مختاری کے نظام اور اس سے جڑے مسائل پر تنقید کرنا آسان ہوتا ہے۔
پوری قوم نے اپنا 79 ویں یوم آزادی منایا، کچھ حلقے اپنی معاشی کامیابیوں کا جشن بھی منا رہے ہیں۔
’’ کسی ایک اتحادی پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور ہوگا‘‘۔
بلوچستان میں ایک بار پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ملک کے عوام حکومت سے نالاں اور مہنگائی اور بے روزگاری سے ازحد پریشان ہیں جن کی دونوں بڑی اتحادی پارٹیوں کو فکر نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ امریکا اور یورپ کے ممتاز پالیسی ساز اور فوجی مبصرین ایران سے متعلق پالیسی کی غلطیوں کو کھل کر اجاگر کر رہے ہیں۔
اس بار جشن آزادی کا جذبہ گزشتہ برس کے دفاعی معرکے کی یاد سے بھی جڑا ہوا ہے۔
قرآنِ مجید نے سورةآلِ عمران میں واضح ارشاد فرمایا ہے کہ "اللہ کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔"
ٹیکنالوجی اور مٹی کا یہ ملاپ زرعی معیشت کو ایک نئی جہت دے رہا ہے
زیبسٹ کے سوشل سائنسز فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر ریاض شیخ نے اس کتاب کا آسان اردو میں ترجمہ کیا ہے
جنگ ایک ہے، مگر اس کی ادبی زبانیں متعدد ہیں۔
24 کروڑ عوام صوبائیت، لسانیت اور عصبیت کے قانون میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اسلام صرف مدرسوں، مکتبوں اور درسی کتابوں تک محدود ہو گیا ہے۔
امریکا کے مشرق وسطیٰ میں کئی بڑے مفادات ہیں، لیکن ان میں دو نمایاں ترین ہیں۔ ایک اسرائیل۔ دوسرا، توانائی اور ڈالر کے عالمی مالیاتی نظام سے جڑا مفاد۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ اسی نفسیاتی جنگ کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
اِس وقت ملک میں قانون کی حکمرانی کا کوئی تصور نہیں، پارلیمنٹ irrelevant ہے۔
ایک دن بعد ہم جشن آزادی منائیں گے۔ سبز ہلالی پرچم گھروں کی چھتوں، گاڑیوں اور بازاروں میں لہراتے دکھائی دیں گے
رضا میر کا قتل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کس طرح کا مستقبل دے رہے ہیں۔
گھوسٹ اسکول سے مراد ایسے اسکول ہوتے ہیں جو سرکاری دستاویزات میں تو موجود ہیں مگر عملی طور پر یہ اسکول موجود نہیں ہوئے۔
متوفیہ بچی کے باپ نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو سزائے موت دی جائے