صفحۂ اول
تازہ ترین
پی ایس ایل 11
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا موقف ہے کہ انھیں تیراہ آپریشن کے لیے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
میں کہتا ہوں گل پلازہ ،گلُ نہیں ہوا، ہماری اقدارگلُ ہوگئی ہیں اور یہ اقدار ایک فرد سے لے کے حکومت تک تمام جگہ ہی دم توڑ گئی ہیں
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کی یہ نئی دھمکی ٹرمپ انتظامیہ اور یورپ جیسے روایتی اتحادیوں کے درمیان دشمنی پر مبنی ہفتے کے اختتام کے بعد آئی ہے
خواجہ محمد زکریا رقم طراز ہیں :حالانکہ تمام بنی نوع انسان بنیادی طور پر ایک ہی شجر کی شاخیں ہیں
اب تو مطلع صاف ہو گیا ہے اور اُن لوگوں کو منہ کی کھانا پڑی ہے جو اِس معاملے میں نواز شریف کو ملوث کرکے اپنے جَلی اور خفی مفادات سمیٹنا چاہتے ہوں گے
پاکستان اور مسلم دنیا نے باہمی مشاورت کے بعد اتفاق رائے سے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک حکمت عملی ترتیب دی ہے۔
ذاتی رائے دینے کا ہر ایک کو حق ہے مگر انھیں پہلے یہ وضاحت بھی دینی چاہیے ایسا نہ ہونے سے دو بڑی جماعتیں آمنے سامنے آگئی ہیں
ریاض صدیقی کو اردو، سندھی، پنجابی و انگریزی زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا، انھوں نے اردو کی چودہ کتابیں تحریر کیں جن میں چند ایک کے نام یہ ہیں۔
عالمی منظر نامے کا دوسرا اور کہیں زیادہ تشویشناک پہلو مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے
پاکستان کے دو صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہیں
کئی شکایتیں، رنجشیں اور شکوے ہیں، کراچی کی آواز سے جو مقتدرہ قوتوں اور ایوانوں تک پہنچ نہیں پاتیں
17جنوری کی رات سوا دس بجے کے قریب کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں خوفناک آگ لگنے کا دلخراش واقعہ رونما ہوا
اصل مسئلہ آگ نہیں، اصل مسئلہ غفلت کو معمول بنا لینا ہے
ایوب خان کی ولولہ انگیز قیادت کا بابرکت، باحرکت اور بے ہمت زمانہ تھا
گل پلازہ کی ہولناک آتشزدگی کے شعلے ٹھنڈے ہوئے تو اس سانحے پر سیاسی دشنام طرازی کے شعلے اسی تیزی سے بھڑک اٹھے
صبح کے آٹھ بج چکے ہیں… صفائی والی ابھی پہنچی ہے، ملازم نے گیٹ کھولا ہو گا اور وہ اندر آئی ہو گی
مودی کے دورِ حکومت میں بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ تیزی سے مسخ ہو رہا ہے
10 اگست 2025 کو غالب لائبریری کے انتخابات کے لیے ایک خوبصورت محفل کا اہتمام کیا گیا
سلطان نوح بن منصورکے بھتیجے کے بارے میں ایک مفصل مضمون پڑھا،احساس ہوا کہ یہ کوئی تصوراتی کہانی ہے
غزہ بورڈ آف پیس در اصل گزشتہ برس ستمبر میں غزہ جنگ بندی سے متعلق معاہدے کا تسلسل ہے
قانون قدرت ہے جب کوئی شے معرض وجود میں آتی ہے تو ابتدائی طور پر ضعف و ناتوانی اس کا خاصہ ہوتی ہے
گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے اورقیمتی جانوں کے ضیاع نے پورے ملک میں ایک افسوسناک صورتحال کو جنم دیا ہے
ڈاکٹر سعید اقبال سعدی کا شمار عہدِ موجود کے اہم ترین شعراء میں ہوتا ہے
برطانوی فوجیوں سے بھری ایک ریل گاڑی جوکہ سکھر سے بلوچستان جا رہی تھی اور اس میں اسلحہ بھی لدا ہوا تھا
ہمارے ملک کا بیرونی قرضہ تقریباً 138بلین ڈالر کے قریب ہے۔ ہماری جعلی اشرافیہ اس قرضہ کو ہر طریقہ سے ہڑپ کر چکی ہے۔
سانحہ گل پلازہ اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑگیا۔ آگ کیوں لگی، اور لوگوں کو باہر نکلنے کا موقع کیوں نہ مل سکا؟
لگی بندھی اجرت پانے والے کارکنوں اور تنخواہ دار طبقے کی روزمرہ حالت لامحالہ تکلیف دہ ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سی پیک کے منصوبہ کے تحت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت یہ منصوبہ مکمل ہونا تھا۔
وزیر اعظم پاکستان کے بار بار توجہ دینے کے باعث پاکستان ریلوے ایک نئے دور کے دروازے پر کھڑا ہے۔
تحقیق بنیادی طور پر شواہد اور علمی بنیادوں پر ہوتی ہے تو اس سے ترقی اور آگے بڑھنے کے امکانات اور زیادہ ہوتے ہیں ۔
غزہ کی تاریخ درد، مزاحمت اور ناانصافی سے بھری پڑی ہے۔
قرۃ العین حیدرکو متعدد ایوارڈ بھی ملے ہیں جن میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ 1967 میں ان کے افسانے ’’پت جھڑکی آواز‘‘ پر دیا گیا۔
ہمارا ملک اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ یہ بحران واقعی بھی ہے اور بعض صورتوں میں مصنوعی بھی۔
اقتدار و اختیار کا لالچ اور لوبھ بُری بلا ہے ۔ لالچ سے مغلوب و مجبور ہو کر انسان اپنے حق سے بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔
اس سامنے پنکھے کو دیکھ رہے ہو ہاں کیا ہے اس میں
جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ یہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل پلیٹ فارم بننے جا رہا ہے۔ میں اس بات کو کافی حد تک درست سمجھتا ہوں۔
مسلسل فاقوں نے اس بچی کا جسم کھا لیا تھا۔اس کی شکل و صورت تو اچھی تھی لیکن ہڈیوں کا ڈھانچہ لگتی تھی
غزہ پر اسرائیلی حملے میں تین صحافیوں سمیت 11فلسطینی شہید ہوگئے ۔
پاکستان میں انصاف کی فراہمی کا نظام کریمنل جوڈیشل سسٹم دو متوازی نظاموں میں بٹا ہوا ہے
مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس داخلی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے
ایک تجزیہ کارکا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کراچی مافیاز کے قبضے میں ہے
ایران میں بادشاہت کے خلاف جدوجہد کا آغاز کمیونسٹ پارٹی جو ’’ تودہ پارٹی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی نے کیا تھا
شدید سردی کی حالیہ لہر نے ایک بار پھر ہمارے سماجی نظام کی بے حسی کو بے نقاب کردیا ہے
حکومت کی بنیادی خصوصیت ہر شعبے میں عوام کی فلاح سے جڑی ہوتی ہے
چوہدری سردارخاں نے اگرچہ اپنے والد حیات محمد خاں سے علم دوستی ورثہ میں پائی تھی
اب عقل ماننے لگی ہے کہ اس کا کیس بہت مضبوط ہے۔ اُدھر قافلہء ملحدین کی جانب یا مکمل خاموشی ہے یا اندھیرا ہے۔
ملک کا نوجوان طبقہ پہلے ہی مایوسی اور بے دلی کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ روزگار کے مواقع کا فقدان ہے
میں اس نتیجے پر پہنچتی ہوں کہ ہر ملک کی عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دینا نہیں بلکہ ان کے حقِ خود ارادیت کے ساتھ کھڑا ہونا، اصل اخلاقی موقف ہوتا ہے۔
محض ملبہ میں 23 گھنٹوں تک پھنسے رہنے والا شخص اگر زندہ بھی ہوگا تو کسی آواز پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔
مجھے نہیں لگتا کہ کے پی بند ہونے سے کوئی دبائو آئے گا۔ بلکہ ایک دو دن بعد خود تحریک انصاف اور ان کی حکومت دبائو میں آجائے گی کی سڑکیں کھولی جائیں۔