صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
ایک وقت تھا جب گھر کے دو چار فون نمبر ذہن میں محفوظ ہوتے تھے۔ آج ہمیں اپنے بعض قریبی لوگوں کے فون نمبر بھی یاد نہیں۔
ایران کی جانب سے امریکا پر انحصار کے خاتمے کی بات بھی اس بحث کو ایک وسیع تر تناظر فراہم کرتی ہے۔
سیاسی ادارے یا قوتیں مسائل کو حل کرنے کے لیے تواتر کے ساتھ مکالمہ اور باہمی مشاورت پر زور دیتے ہیں
غریب خاندان کو انصاف اپیلیں کرنے اور درخواستیں کرنے سے نہیں ملتا ہے۔ غریب لوگ رو دھو کر صبر شکر کرکے بیٹھ جاتے ہیں
آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضایع کر رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کی ایک رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ جو کام اپوزیشن کا تھا ،وہ کام پیپلز پارٹی نے کیا ہے۔
لڑکے نے نظریں جھکا کر آہستہ سے کہا۔ ’’سر... میرے ابو کہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، مگر عبادت صرف اللہ کی کرتے ہیں۔‘‘
ہم جو کچھ سوچتے ہیں جس طرح سوچتے ہیں اسے دوسروں تک پہنچانے کا عمل ابلاغ کہلاتا ہے۔ شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ آپ میں ابلاغ کی صلاحیت ہو
کبھی کبھی تاریخ کسی میدان جنگ میں نہیں، ایک بند دروازے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
جہان و کار جہان جملہ ہیچ بر ہیچ ست ہزار بار من این نکتہ کردہ ام تحقیق
یہ تو بالکل ایسی مثال ہے جیسے ایک بڑے کارخانے میں کچھ مخصوص بچوں کو مشینوں کے نقشے دیے جائیں اور انھیں چلانے کا فنی علم سکھایا جائے۔
مذکورہ معاہدے سے یقیناً تینوں معاہد مسلم ممالک کی سلامتی اور سیکورٹی کو مزید تقویت ملے گی ۔
مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟ اس موضوع پر کہنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ اس معاہدے پر عجلت میں کیے گئے تبصرے اپنی جگہ لیکن کچھ حقائق اپنی جگہ موجود ہیں۔
پاکستان میں پہلے بھوک و بے روزگاری سے تنگ آ کر خود کشیاں کرتے تھے مگر اب انھیں انتہائی مہنگی بجلی نے خودکشی کرنے پر مجبور کر دیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہند کے اول دن سے کشمیر کا تنازعہ بنیادی کشیدگی کا سب سے بڑا سبب بنا ہوا ہے۔
ایران بھی اس حقیقت سے پوری طرح واقف ہے، اسی لیے تہران کی زبان میں جنگی اعتماد اور مذاکراتی آمادگی بیک وقت نظر آتی ہے۔
ماضی قریب میں ہر چھوٹی بڑی سڑک کے کنارے اور درمیان میں فٹ پاتھ بنائے گئے تھے
یہ سفر کسی کے لیے بھی خوشی کا باعث نہ تھا، مسافروں کے گرد موت رقص کرتی نظر آتی تھی
خودی کا سرنہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغ ‘ فساں لا الہ الا اللہ
سماجی مسئلہ بھی گمبھیر ہوتا چلا جا رہا ہے، نوجوانوں کی شادیاں رک جاتی ہیں، ان کی بہنوں کے رشتے ناتے سست پڑ جاتے ہیں
فلسطینیوں کے خلاف جنگلی جانوروں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ بھی مسلسل ہے۔
1990کا سال کراچی کے لیے ایک نئے بحران کا آغاز تھا۔
خبر میں صرف 10 ’’ پاکستانی‘‘ کہہ دینا آسان ہے، لیکن ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہے،ایک شوہر، ایک باپ،ایک بیٹا،ایک بھائی،ایک دوست
پاکستان کا ٹیکس نظام بھی معاشی عدم مساوات کو مزید گہرا کرتا ہے
امیر خسرو دہلوی 1253میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو، فارسی اور ہندی شاعری میں ایک منفرد لہجہ اور عبقری شخصیت ہیں۔
لوگوں کو قائد اعظم کی دیانت، صداقت، اصولوں اور سیاسی نظریات و جمہوری جدوجہد پر کامل یقین تھا
’’زاویہ نیوز‘‘ موجودہ افغانستان کا ایک ایسا میڈیا آؤٹ لیٹ ہے جس نے تھوڑے سے عرصے میں افغان عوام کا اعتماد اور اعتبار حاصل کر لیا ہے ۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کو دھاندلی زدہ، گولی اور قاتل الیکشن قرار دیا ہے
جناب شہباز شریف وزیرِ اعظم ہیں، وہ اچھے اور محنتی مینیجر سمجھے جاتے ہیں اور انھیں مقتدر حلقوں کی تائید بھی حاصل ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات میں بھی نئے صوبوں کی تشکیل مشکل نظر آتی ہے ۔
آبنائے ہرمز کو محض ایک سمندری گزرگاہ سمجھنا حقیقت کو محدود کرنا ہوگا
تاریخ کے دھارے میں کچھ شخصیات ایسی خاموش، باوقار اور استقامت کی پہاڑ ہوتی ہیں کہ ان کا ہونا ہی پورے قافلے کے لیے اطمینان اور سکون کا باعث بن جاتا ہے
الخدمت کے مقابلے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے صدر جنرل پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کے سٹی ناظم کو بھرپور فنڈز دے کر اپنی کراچی سے محبت کا ثبوت دیا تھا
پاکستان بننے کے بعد بھی مختلف ادوار کے سیاسی و سماجی رجحانات کے تنقیدی جائزوں کے لیے اداریوں سے مدد لی جاتی رہی ہے
عالمی منڈی میں کم شرح سود پر قرض مل سکتا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے
کھلے گا ترک تعلق کے بعد باب فنا یہ ایک ’’آہ‘‘ کا پردہ بھی اب ہٹا ہی دو
اس بات کو بھی سمجھنا ہوگا کہ نئی نسل کی ان تحریکوں کو جمہوری تحریکوں کے طور پر دیگر ریاستی ملکوں میں تسلیم کیاجا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز اسی حقیقت کی زندہ علامت ہے
حکمران طبقات نے یہ حال کردیا ہے قائدؒ کے پاکستان کا۔ یہ ہیں وہ عوامل جن کی بناء پر سسٹم نہیں چل رہا ۔
حکمرانوں کی کارکردگی کے حوالے سے اگر ہم غربت کی شرح کا جائزہ لیں تو صورتِ حال کچھ یوں دکھائی دیتی ہے۔
دنیا کو ہجرت روکنے کے لیے سمندر میں مزید گشتی کشتیاں نہیں بلکہ دنیا میں انصاف چاہیے۔ تاروں کی باڑ نہیں بلکہ معاشی برابری چاہیے۔
ڈاکٹر طاہر مسعود ہمہ گیر شخصیت ہیں،وہ ذرائع ابلاغ کے مستند استاد ہیں اور اعلیٰ پائے کے محقق ہیں۔
پچھلے ایک کالم میں ہم نے قوم گجر کی بحث میںگجر لفظ کی بنیاد اور ارتقاء کے بارے میں بتایا تھا کہ گجر لفظ کو ’’گرجے‘‘ بھی لکھا گیا ہے ۔
وفاقی وزیر داخلہ کی چھوٹے صوبوں اور چھوٹے ایڈمنسٹریٹو یونٹس کے حوالے سے ایک تقریرنے پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اسی متضاد حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔
دہشت گردی کی موجودہ لہر کو محض چند منتشر واقعات قرار دینا حقیقت سے چشم پوشی ہوگی
جو معلومات ہمیں بلوچستان کے حوالے سے آرہی ہیں وہ کافی تلخ ہیں
ملک کو فلاحی ریاست بنانا حکومتوں کا کام ہوتا ہے عدلیہ کا نہیں
محمد علی جوہر یونیورسٹی کی اپنی مختصر تاریخ بھی بی جے پی والوں کو تاؤ دلانے کے لیے کافی ہے
غالب نے اپنے ایک خط میں کسی کو لکھا ہے کہ لوگوں کو گالیاں دینے کا بھی سلیقہ نہیں