صفحۂ اول
تازہ ترین
بجٹ
کھیل
فیفا ورلڈکپ
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
موجودہ حالات جس میں اسرائیل نے ایران پر یک طرفہ جنگ مسلط کر ڈالی ہے
ایران کے تمام صوبوں میں موجود میزائل سسٹم اور ذخائر اب بھی محفوظ ہیں
ٹاؤنز کے رٹائرڈ ملازمین کو عدالتوں میں مقدمات لڑنے پڑے
کراچی انتظامیہ میں فعال اسسٹنٹ کمشنروں کی چیکنگ سے سرکاری خزانہ زیادہ بڑھا
گزرے 9 دنوں میں ایک ہزار سے زائد ایرانی بے گناہ عوام بھی شہید کیے جا چکے ہیں
آج ہندوستان کے پورٹ، امریکی جہازوں کو سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں
بہرحال ایران کا جو بھی فوجی یا ایٹمی نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ تو ہو ہی جائے گا
یہ جنگ محض امریکا ،اسرائیل اور ایران تک محدود نہیں رہی
اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی کم نہیں۔
خیبر پختونخوا، بلوچستان اورکراچی میں مہاجرکیمپ قائم کیے گئے
یہ واقعات محض اخلاقی لغزشیں نہیں تھیں۔ نہ ہی یہ کسی ایک یا دو مقامات کا نوحہ ہے
حکومتی اداروں سے انتظامی طور پر اس کی حیثیت بالکل علیحدہ ہوتی ہے
ایران پر مسلط کی گئی ہولناک جنگ کو تقریباً ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہر جانب بربادی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
بیرونی تجارت سے متعلق تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا فروری 2006 کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر کی دہلیز پار کر چکا ہے۔
کند ہم جنس باہم جنس پرواز ، کبوتر با کبوتر باز بہ باز۔یہ ضرب المثل ہم میں سے اکثر نے ہوش سنبھالتے ہی کسی نہ کسی سے ضرور سنی ہو گی۔
تحریک انصاف ایک جمہوری پارٹی ہے جس میں فیصلے جمہوری طور پرکیے جاتے ہیں اور پی ٹی آئی میں مکمل جمہوریت ہے۔
دوستو ! آج کے کالم میں ہم ذکر کریں گے، وینزویلا کے سابق صدر ہوگوشاویز کا۔ ہوگو شاویز 28 جولائی 1954 کو وینزویلا کے قصبے سبانیتا میں پیدا ہوئے
پھرآہستہ آہستہ تعویذ بھی لکھتے تھے ، لوگ آتے اوربچوں بلکہ بڑوں کی بیماریوں کے لیے یہ پرچ پیالے لکھواتے تھے
عالمی سیاست کے افق پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور غیر یقینی کی علامت بن چکا ہے۔
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر تصویر کا
پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتیں ’’احتساب‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں
میرے سامنے ایک ایسی نئی کتاب پڑی ہے جسے دلکشا بھی کہا جا سکتا ہے ، دل افروز بھی اور ایمان پروربھی ۔
طویل اقتدار میں رہنے والے جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جنھیں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی سیاسی حکومتیں آمر قرار دیتی ہیں
بالآخر امریکا اور اسرائیل اپنے منصوبے کے تحت ایران کو نشانہ بنا کر سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے جون 2025 کی جنگ میں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں سے بم باری کروا کے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام صفحہء ہستی سے مٹ چکا ہے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی اس تناظر میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان اپنی تیل کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور یہ تمام سپلائی ’’آبنائے ہرمز‘‘ کے راستے پاکستان پہنچتی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنایا جائے جس میں تمام امریکی اور اسرائیلی مخالف جماعتیں شامل ہیں۔
امور مملکت خویش خسرواں دانند گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش
ایران امریکا اور اسرائیل جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔جب تک میں تحریر لکھ رہا ہوں ایران قابل قدر مزاحمت کر رہا ہے۔
جنوبی پنجاب میں بنیادی صحت کی فراہمی اور اس سے جڑی سہولیات اہم مسئلہ ہے ۔
افغانستان کی طالبان حکومت اور وہاں موجود دہشت گرد گروپوں کے حوالے سے دنیا کو تشویش ہے
فلسطین سے ایران ،ایران سے افعانستان، افعانستان سے پاکستان اور خطے کے تمام اسلامی ممالک میں خونِ مسلم بہایا جا رہا ہے۔
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔
کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ ہمارے عہد کی سب سے بڑی محرومی غربت یا بے روزگاری نہیں بلکہ سچ کی کمی ہے۔
سب کی باراتیں آئیں میری بھی تم لانا دلہن بنا کے مجھے اپنے گھر لے جانا
رمضان المبارک رحمتوں کا مہینہ ہے، یہ عبادات کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں ہر مسلمان زکوۃ اور فطرے کی مد میں ایک مخصوص رقم خیرات کرتا ہے۔
امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ جاری ہے اور مجھے ابھی کئی دن یہ جنگ جاری رہنے کی توقع ہے۔
افغانستان کے حوالے سے صدر پاکستان کا مؤقف بھی نہایت واضح تھا
پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ ایک طرف بھارت اور اسرائیل باہمی گٹھ جوڑ اور دوسری طرف بھارت افغانستان گٹھ جوڑ پاکستان اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر سامنے کھڑا ہے ۔
بالآخر امن بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوگیا۔ اس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی اور اعلان کیا کہ امریکا غزہ کی تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر امداد دے گا۔
محمود احمدی نژاد دو ہزار پانچ سے دو ہزار تیرہ تک ایران کے صدر رہے۔بعد ازاں کھلی کھلی گفتگو کے سبب ان کے اعلی قیادت سے اختلافات بڑھتے چلے گئے۔
کراچی شہر میں عمارتوں کا گرنا، عمارتوں میں آگ لگنا اب کوئی اتفاقی حادثات نہیں بلکہ معمول کے واقعات بن گئے ہیں۔
مولانا خان رشید جب دارالعلوم دیوبند سے فاضل ہوکر اپنے گاؤں آیا تو اس کا ارادہ یہ ہر گز نہیں تھا کہ وہ دین کو ذریعہ روزگار بنائے گا۔
سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty ) 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا'
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے صورتحال کو مزید اشتعال انگیز بنا دیا ہے۔
تسنیم کوثر ایک کمال نثر نگار ہیں۔ چند دن پہلے ان کی ایک کتاب موصول ہوئی جس کا عنوان ہے ’’مجھے اس دیس جانا ہے۔‘‘
حکومت کی اہم شخصیت نے گزشتہ دنوں کہا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو کوئی ڈیل آفر نہیں کی اور نہ ہی ہوگی
پہلے امریکا نے رواں برس کے طلوع ہوتے ہی وینزویلا کے صدر ( مادورو) اور اُن کی اہلیہ کو رات کے اندھیرے میں گرفتار کرکے امریکا پہنچا دیا ۔