صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
ٹرمپ دنیا سے ایک معاشی جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے اتحادیوں اور دشمنوں سے بھی معاشی جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں
سال 2024 پاکستان کی تاریخ میں ایک انقلابی باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا
معیاری تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانا بھی ہمارے تعاون کا مرکزی حصہ رہا ہے
مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کی حمایت سے کیوں بنی، کس نے بنوائی سب کو پتا ہے
شمس الدین جبار نے یہ قاتلانہ فعل انفرادی حیثیت میں کیا
آئے دن اخبارات میں خبریں چھپ رہی ہیں کہ عمرے کے ویزے پر بھکاری بھیک مانگنے جاتے ہیں
قرائن بتاتے ہیں کہ برصغیر میں بولی جانے والی زبانوں میں سے یہ ایک بہت پرانی زبان ہے
آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق پاکستان نے گندم ، گنا سمیت دیگر زرعی اجناس کی ’’امدادی قیمت خرید‘‘ کا تعین ختم کردیا ہے
اسرائیل کے قیام سے یہودیوں کو ایک مذہبی ریاست کا تصور دوبارہ سے ملا
ہمارے ہمسائے افغانوں میں بے شمار خوبیاں ہیں‘ یہ جنگجو ہیں‘ بڑی سے بڑی طاقت سے خائف نہیں ہوتے
اگر افغانستان میں آگ لگے گی تو چنگاریاں پاکستان تک بھی آئیں گی
’’پری‘‘نہفہ رخ و دیودر کرشمہ حسن بسوزعقل زحیرت کہ ایں چہ بولعجبی ست
طلبہ یونین کی بحالی پر منتخب نمایندوں کا مکمل اتفاق ہے۔
مہنگائی صرف حکومتی اعلان میں کم بتائی جاتی ہے مگر عملاً ایسا نہیں
بانی تحریک انصاف کو علم تھا کہ ان سے پہلے اقتدار نے شہباز شریف کے دروازے پر دستک دی تھی۔
پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے
اگر ملک کے نوجوانوں کو اِن حقائق سے روشناس کرایا جاتا تو انھیں آزادی کی قدرو قیمت معلوم ہوتی
تحریک تحفظ آئین کو پی ٹی آئی اہمیت دیتی ہے نہ سیاسی معاملے پر ان سے مشاورت کرتی ہے
2010 کی دہائی میں کراچی میں دھرنوں کی سیاست اپنے عروج پر پہنچ گئی۔
یوں اب معاملہ انسانی حقوق کے تحفظ اور سیاسی جدوجہد کے بجائے فرقہ وارانہ شکل اختیار کر گیا۔
یاد رکھو! تم جیسے غلاموں کو یہاں رہ کر ٹھیک کریں گے، اس کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی منت ترلے ہی کیوں نہ کرنے پڑیں۔
یہ تحفہ کوئی انھوں نے اپنی جیب سے تو خریدا نہیں تھا کہ وہ سیدھا اپنے گھر لے گئے۔
یہ حملے ایک واضح پیغام ہیں کہ اسرائیل صرف فلسطین تک محدود نہیں ہے
’’جنرل آپ میری تازہ ترین کتاب کا صفحہ نمبر328 پڑھ لیں‘ آپ کو سمجھ آ جائے گی‘‘
وزیر اعلیٰ، کمشنر اور میئر تجاوزات کے خاتمے کے دعوے اکثر کرتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔
فلسطینی قیادت نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا مگر فلسطین کی یہودی قیادت نے شدید مخالفت کی۔
امریکا سے بیان آجائیں گے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔
سیاسی عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان تعلقات کا بگاڑ بھی ہے۔
کرم کے فرقہ وارانہ واقعات میں درجنوں افراد کی ہلاکت یقینا افسوس ناک اور تکلیف دہ ہے۔
تارکین وطن کی اسمگلنگ کرنے والے یہ کام سستے میں نہیں کرتے۔
ان کے وجود کا احساس ہر کسی کو ہوتا ہے۔ صحافت کی دنیا میں ارشد زبیری کو میں نے ایسا ہی پایا۔
یہ ایک دلیل پر مبنی بحث ہے۔ جو اتنے مختصر کالم میں سموئی نہیں جا سکتی۔
وہ تو بس یہ چاہتے تھے کہ کسی بھی طرح اس قلیل وقت میں پاکستان کے خواب کی تکمیل ہو جائے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نئی کابینہ میں کئی ایسے چہرے شامل کیے ہیں جو بھارتی نژاد امریکی ہندو ہیں ۔
وفاقی حکومت کے پیپلز پارٹی کے ساتھ جاری رویے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں
نامساعد حالات کے باوجود اس نے ہمیشہ کم وقت میں بڑے بڑے پروجیکٹ شروع کیے
پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی کی لہر ابھر کر سامنے آئی ہے۔
کرم میں جرگہ معاہدے کی سیاہی خشک بھی نہ ہونے پائی تھی کہ وہاں شرپسندوں نے سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کردی
غرناطہ انتہائی مصروف سیاحتی شہر ہے‘صرف الحمراء دیکھنے کے لیے روزانہ ساڑھے آٹھ ہزار لوگ آتے ہیں
حکومت کا بیانیہ سیاسی استحکام اور حزب اختلاف کا بیانیہ یقینی طور پر سیاسی عدم استحکام کی نشاندہی کرتا ہے
آج ہم ہندوستان کا رخ کرتے ہیں وہ سرزمین جس کی ادبی روایت کئی تہذیبوں زبانوں اور فکر کے امتزاج سے عبارت ہے
شاید اربوں سال کا یہ چرخہ جیسے ایک پل ہے۔ سمے کا ایک پل، اسٹیفن ہاکنگ کو یہ سب وقت کا عکس نظر آتا ہے
سارا قصور ہماری اس ناکارہ’’سمجھدانی‘‘ کا ہے کہ ہم ’’حساب ‘‘کو پشتو کا حساب سمجھ رہے تھے اور وہ اردو نکلا
اس سلسلے کا تازہ ترین خوبصورت نام سال نو کے آغاز پر اگلے پنج سالہ ترقیاتی منصوبے ’’اڑان‘‘ کی صورت میں سامنے آیا
معاشی کامیابی کے مرکز میں ٹوٹل فیکٹر پروڈکٹیویٹی (TFP) ہے
ہر سال کی طرح اس سال کا سورج بھی بہت سی امیدوں کے ساتھ طلوع ہوا
یہ جو جھگڑے ہو رہے ہیں، یہ مذہب کے لیے نہیں، زمین کے لیے ہیں
’’فلم پار‘‘ نے اپنی کہانی کی ندرت اور نصیرالدین شاہ و شبانہ اعظمی کی کمال اداکاری سے 14 فلمی ایوارڈ حاصل کیے
اس کا مضمون ایک استرا تیز طنز تھا جس کا مقصد انگلش پالیسیوں پر تنقید تھا جو آئرش کو ڈسپوز ایبل سمجھتی تھیں
ڈاکٹر علامہ اقبال اور ان کی شاعری کو وہی لوگ پسند کرتے ہیں جن کو اسلام سے محبت ہوتی ہے