صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
ان حالات میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی ضرورت قومی یکجہتی ہے
پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں
جی ایس پی پلس کا اسٹیٹس پاکستان میں انسانی حقوق کی بالادستی کے حوالے سے وابستہ ہے
حکومت نے عوام سے قربانی نہیں قربانیاں لینے کا ریکارڈ ضرور قائم کر دیا ہے
ندیدی کہ چوں گر بہ عاجز شود برآرد بہ جنگال چشم پلنگ
بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ ہمیشہ محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کیے رکھی
پاکستان نے ہمیشہ امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا
ایران اور افغانستان میں خواتین کی آواز کو دبانے کے نئے طریقے تلاش کیے جا رہے ہیں
آج ہمیں بھارت کی طرف سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ اگر ہم عقل کے اندھے نہیں تو ہمیں اس سازش کا مکمل احساس ہونا چاہیے
سندھ حکومت کو اپنے اس قانون پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے
پی آئی اے نے ایک سال میں دو ارب روپے سے زیادہ منافع کمایا ہے یعنی اُس وقت پی آئی اے ایک کامیاب اور منافع بخش ادارہ تھا
اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم پاکستان کی کامیاب سفارکاری کی وجہ سے پاکستان کے حق میں نظر آرہا ہے
اگرچہ حکومت نے برآمدات بڑھانے کے کچھ اقدامات کیے ہیں لیکن ان کے اثرات کم نظر آ رہے ہیں
بھارت کی حکمت عملی بہت محتاط اور منصوبہ بندی پر مبنی ہے
ہمارے ملک میں ڈاکے اور قتل جیسے خوف ناک جرائم کے بعد مدعی بار بار لٹتا ہے
شہر کے مختلف علاقوں میں قلت آب کے خلاف مظاہرے معمول بنے ہوئے ہیں
لامتناہی انسانی ذہن کے برعکس ہر مشین اسی ڈیٹا کی مدد سے فیصلے کرتی یا جواب دیتی ہے جو انسان نے اسے فیڈ کیا ہو
بانی تحریک انصاف جیل سے باہر ہوتے تو کیا پاک بھارت کشیدگی پر ہونے والے کسی بھی اجلاس میں شرکت کرتے
دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں سے ڈیڈ لاک ہے اور دو طرفہ بات چیت کے دروازے بھی بند ہیں
ہر کسی کو دور ماند از اصل خویش باز جوید روزگار وصل خویش
پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم امن چاہتے ہیں
یادیں قلم بند کرنے کے لیے حافظے کی سلامتی ضروری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب کا حافظہ کمال کا ہے
موجودہ صورت حال کی طرف نظر ڈالیے تو معاملہ حد درجہ خوفناک معلوم ہوتا ہے
اگر ابھی نندن یا اس جیسا کوئی پاکستانی سرحد میں گھسا تو اسے چائے کے ساتھ بسکٹ بھی ضرور کھلائیں گے
ابدالی میزائل کی رینج 450 کلومیٹر ہے۔ مطلب: بھارت کا کوئی کونا کھدرا پاکستان کی دسترس سے باہر نہیں ہے
ہمارا سب سے بڑا دفاعی ہتھیار یہ ہمارا ایٹم بم ہی ہے جسے استعمال کیے بغیر ہمارا دشمن ہم سے مغلوب ہوجاتا ہے۔
بھارتی فوج گزشتہ ایک ہفتے سے کنٹرول لائن کے اطراف رہائشی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کر رہی ہے
پاک بھارت تعلقات کی تاریخ کشیدگی، بداعتمادی اور تنازعات سے بھری پڑی ہے
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی فضا مسلسل برقرار ہے
جاپانی وزیراعظم کانتاروسوزوکی نے ہیروشیما کا انتقام لینے کا اعلان کر دیا
بہرحال مودی نے اس وقت دنیا کے بگڑے ہوئے بے ہنگم حالات کی وجہ سے یہ سازشی پلان بنایا ہے
شکاگو کے ان شہداء کو صرف اس لیے مارا گیا کہ انھوں نے اپنے حق کی بات کی
نریندر مودی تیسری بار وزیرِ اعظم بنے ہیں مگر اس دفعہ ان کی کامیابی دو تہائی اکثریت سے نہیں ہوئی
علامہ اقبال کی نظر میں اکبر نہایت اہم شخصیت تھے۔ اس بات کا اندازہ ان کے خیالات سے ہوتا ہے
آج کل تعلیم کے میدان میں نمبرز کی گیم ہے تو والدین بھی بچوں کو تعلیمی کیڑا بنانا چاہتے ہیں
غصہ اسی لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ یہ انسان کے دماغ کی ساری حسیات کو سلا دیتی ہے
مزدورو! تمہاری لڑائی شروع ہو چکی ہے، آگے بڑھو فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا
ادارتی صفحہ کو اخبارکا دل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اخبار کی پالیسی اور اس کے نقطہ نظر کی نمایندگی کو بھی ظاہر کرتا ہے
ہزاروں سال تک یہود اللہ تعالیٰ کے قہر کا نشانہ بنتے رہے
امریکی جنگی جہازوں کے خلاف یمن کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے
پانی کی کمی کے باعث ان علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی شروع ہو چکی ہے
شاعر علی شاعرکے تنقیدی آئینے حقیقت کی زبان بولتے دکھائی دیتے ہیں
عمومی طور پر پڑھائی، لکھائی ہماری نوجوان نسل کو انسان بنانے میں قاصر معلوم ہو رہی ہے
کبھی کبھی دونوں طرف کے میڈیا کے بیانیے سے محسوس ہوتا ہے کہ جنگ قریب ہے
ہمارا ملک افرادی قوت کے لحاظ سے دنیا کی نویں بڑی افرادی قوت والا ملک ہے
اسرائیل نے کہیں گیارہ برس بعد ( دو ہزار اٹھارہ) شامی جوہری مرکز تباہ کرنے کا اعتراف کیا
پی ٹی آئی اپنے طور پر ملک کے سیاسی استحکام کے علاوہ معاشی استحکام کو خراب کرنے میں مسلسل مصروف ہے
جغرافیائی سرحدوں کے علاوہ یہ جنگ میڈیا کی سرحدوں پر بھی جاری ہے
پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کا بھارتی پروپیگنڈا بھی محض افواہ ہی ثابت ہوا ہے
شمس تبریز کے جانے کے بعد رومی بے چین ہو گئے۔ وہ اضطراب اور رنج میں گھومتے رہتے تھے