لاپتہ صحافی پر امریکا اور برطانیہ کا سعودی کانفرنس کے بائیکاٹ پر غور

شاہی خاندان کے ناقد صحافی جمال خشوگی کے سعودی قونصل خانے میں قتل کیے جانے کا خدشہ ہے


ویب ڈیسک October 14, 2018
جلاوطن سعودی صحافی 2 اکتوبر کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ فوٹو : فائل

امریکا اور برطانیہ سعودی قونصل خانے میں لاپتہ صحافی کے معاملے پر احتجاجاً ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ریاض میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے بائیکاٹ پر غور کر رہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ استنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی پر امریکا اور برطانیہ احتجاجاً سعودی عرب میں ہونے والی عالمی کانفرنس کے بائیکاٹ پرغور کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں دونوں ممالک سعودی عرب کے اہلکاروں کے ہاتھوں صحافی جمال خشوگی کا قتل ثابت ہوجانے پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور ایک 'مشترکہ مذمتی بیان' جاری کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

یہ خبر پڑھیں : سعودی حکومت جمال خشوگی کے قتل میں ملوث ہوئی تو سزا دیں گے، ٹرمپ

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے انقلابی اصلاحات اور اس سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے امریکا و برطانیہ سمیت دیگر عالمی قوتوں اور میڈیا کو آگاہ کرنے کے لیے رواں ماہ ریاض میں عالمی کانفرنس مدعو کی ہے تاہم صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کا معاملہ کانفرنس کے کامیاب انعقاد میں رکاوٹ بنتا نظر آرہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے جمال خشوگی کو لاپتا کرنے سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیدیا

دوسری جانب جمال خشوگی کے معاملے پر بڑھتے عالمی دباؤ کے پیش نظر کانفرنس کے کئی اسپانسرز اور میڈیا ہاؤسز نے سرمایہ کاری کے اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر غور شروع کر دیا ہے جب کہ کچھ اسپانسرز سرمایہ کاری سے معذرت کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں دستاویزات کے حصول کے لیے جانے والے جلاوطن صحافی جمال خشوگی لاپتہ ہوگئے تھے اور تاحال اُن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں سعودی قونصل خانے میں ہی قتل کردیا گیا ہے۔

 

مقبول خبریں