امریکا دم توڑتے بچے کی یمنی ماں کو ویزہ دینے پر مجبور ہو گیا

3 سالہ عبداللہ کیلی فورنیا کے اسپتال میں زیر علاج تھا جہاں اسے مصنوعی طریقے سے سانس دی جا رہی ہے


ویب ڈیسک December 19, 2018
تین سالہ عبداللہ کو دو ہفتوں سے مصنوعی طریقے سے سانس دی جا رہی ہے۔ فوٹو : فائل

KARACHI: امریکی اسپتال میں اپنے دم توڑتے بچے کو دیکھنے کے لیے یمن کی بے تاب ماں ویزا قوانین کی جنگ جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے سوشل میڈیا پر شدید عوامی دباؤ کے باعث یمن سے تعلق رکھنے والی ماں کو بیٹے کی عیادت کے لیے ویزا جاری کردیا ہے جس کے بعد شائمہ صالح کیلی فورنیا پہنچ جائیں گی۔

یمنی خاتون شائمہ صالح کے 3 سالہ بیٹے عبداللہ کو کیلی فورنیا کے اسپتال میں مصنوعی سانس دی جا رہی ہے۔ زندگی کی تمام امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ ایسے موقع پر بھی امریکا نے ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔

شائمہ صالح اور علی حسن کی شادی یمن میں ہوئی تھی اور یمن میں ہی 2015 میں عبداللہ کی پیدائش ہوئی جسے 6 ماہ کی عمر میں علی حسن علاج کی غرض سے اپنے ہمراہ امریکا لائے لیکن بچے کی حالت بگڑتی ہی گئی۔

بیٹے کی حالت نہ سنبھلنے پر ماں نے ویزا کے لیے دوسری بار درخواست دی، تاہم گزشتہ برس 'مسلم بین' مہم کے دوران امریکا نے یمنی ماں کو ویزا دینے سے انکار کردیا جس پر وہ یمن سے مصر چلی گئی۔

گزشتہ دو ہفتے سے تین سالہ عبداللہ کو مکمل طور پر وینٹی لیٹر پر رکھا جا رہا ہے، بچے کی تشویشناک حالت کے باوجود امریکا نے ماں کو تیسری بار بھی ویزا دینے سے انکار کردیا جس کے بعد اس معاملے پر سوشل میڈیا پر کہرام مچ گیا تھا۔

مقبول خبریں