وزیراعظم کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ اچانک نہیں شیڈول تھا

دورے پرحیرت نہ بھنویں سکیڑنے کی ضرورت،آئین وقانون نے حق تفویض کیاہے


Tanveer Qaisar Shahid July 12, 2013
دورے پرحیرت نہ بھنویں سکیڑنے کی ضرورت،آئین وقانون نے حق تفویض کیاہے. فوٹو: فائل

وزیرِ اعظم محمد نواز شریف نے گزشتہ روز انٹر سروسزانٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز کا دَورہ کیا کِیا ہے، اطراف و جوانب سے بھنویں سکیڑلی گئی ہیں ۔

بعض ناقدین نے اِس دورے کو حیرت انگیز بھی کہا ہے اور اِسے اچنبھا بھی قرار دیا ہے، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اِس میں حیرت و استعجاب کی بات ہے نہ کسی کو بھنویں سکیڑنے کی ضرورت۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم محمد نواز شریف نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ اچانک نہیں کیا ہے بلکہ یہ ان کا ایک پارٹ آف شیڈول تھا۔ وہ اِس دورے کے بعد کئی دوسرے اہم ترین شعبوں اور اداروں کا بھی دَورہ کریں گے تاکہ براہِ راست یہ جان سکیں کہ پاکستان کی سلامتی و معیشت کو مضبوط بنانے والے ادارے دراصل کہاں کھڑے ہیں۔



آئین و دستور اور قانون نے منتخب وزیرِ اعظم کو یہ حق تفویض کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نواز شریف نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دَورہ کر کے سب پر واضح کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی اور سیکیورٹی اداروں کے بارے میں کس قدر کنسرن رکھتے ہیں۔ اِسی لیے اُنھوں نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کو سب اداروں پر ترجیح دی ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان نئی سیکیورٹی پالیسی بنانے کیلیے جس لگن اور جانفشانی سے کام لے رہے ہیں، آئی ایس آئی کے مرکزی دفاتر کے دورے کو اِس کی ایک کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔

آئینی اعتبار سے بھی آئی ایس آئی کا ادارہ وزیرِ اعظم کے ماتحت ہے ،چنانچہ اُنہیں حق پہنچتا ہے کہ وہ جب چاہیں، اِس قابلِ فخر ادارے کا دَورہ کرسکیں ، آئی ایس آئی کا سربراہ اگر وزیرِ اعظم کو پاکستان کی سکیورٹی کے بارے میں بریفنگ دینے کیلئے وزیرِ اعظم ہائوس جاتا ہے تو اِس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو اِس بارے میں مشوش ہونے کی ضرورت ہے کہ وزیرِ اعظم آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کیوں پہنچے؟ ، وزیرِ اعظم محمد نواز شریف کا گزشتہ روز آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دَورہ کرنا بعض لوگوں کو گراں بھی گزرا ہے اور اِس پر تعجب کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں