لوڈشیڈنگ خاتمہوزیراعظم کے بیانات سے ان کی صاف گوئی عیاں

مطلوبہ بجلی فراہمی کیلیے ناکافی وسائل اورانفرااسٹرکچرشائدحتمی تاریخ دینے میں رکاوٹ


Tanveer Qaisar Shahid July 16, 2013
مطلوبہ بجلی فراہمی کیلیے ناکافی وسائل اورانفرااسٹرکچرشائدحتمی تاریخ دینے میں رکاوٹ. فوٹو : فائل

KARACHI: رمضان المبارک کے آغاز سے قبل وزیرِاطلاعات ونشریات سینیٹر پرویزرشیدنے اعلان کیاتھا کہ ملک بھر میں تراویح،سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔

یہ اعلان ہمت افزا بھی تھا اور ایمان پرور بھی لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ چھ روزے گزرنے کے باوجود وزیرِاطلاعات کے اعلان ّمیں عمل کا رنگ نہ بھرا جاسکا۔وعدے کے ایفا نہ ہونے پر بجلی کے متاثرین،جوبعض علاقوں میں22/22 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے گزررہے ہیں،نے غصے میں آکر حکومت کیخلاف شدید مظاہرے بھی کیے ہیں اور بعض علاقوں میں واپڈا کے دفاتر بھی نذرِ آتش کیے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ پرویزخٹک نے توذاتی طور پر احتجاج میں حصہ لینے کا اعلان کررکھا ہے،اگرچہ اس پر ابھی عمل نہیں کیاجاسکا ہے۔ حکومت معرضِ وجود میں آئی تو وفاقی وزیرِ پانی وبجلی خواجہ آصف نے ابتدا ہی میں اعلان کردیاتھا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ چند ہفتوں اور مہینوں میں نہیں کیاجاسکے گا۔

اِس میں شک نہیں ہے کہ وزیرِاعظم محمد نوازشریف برسرِاقتدارآتے ہی ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے عوام کو نجات دلانے کیلیے بے قرار بھی ہیں اور اِس کیلئے اُن کی مسلسل کوششیں بھی جاری ہیں۔اُن کا چین کا پانچ روزہ دورہ بھی اِس امر کی دلالت کرتا ہے جس میں پاکستان میں نئے نئے اور جلدازجلد پاور اسٹیشنز قائم کرنے کے کئی معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط کئے گئے۔



دو روز قبل وزیرِاعظم نوازشریف کے ایک حکم کے تحت سیکریٹری پانی وبجلی اور واپڈا کے چیئرمین کو ہٹانے کے احکامات جاری کرنے کے پس منظر میں یہی سوچ کارفرما نظرآتی ہے کہ یہ دونوں اہم حضرات لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں بھی ناکام رہے ،وزیرِاعظم نوازشریف نے میرپور میں بھی صاف الفاظ سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں لوڈشیڈنگ میں بڑی حد تک کمی ہوجائے گی۔

اگرچہ نوازشریف نے اِن ''چند مہینوں''کی تعداد کا ذِکر کرنے سے دانستہ گریز کیا ہے لیکن یہ اعلان اِس لحاظ سے امیدافزائی کا سبب بنا ہے کہ بجلی کی کم دستیابی کے عذاب سے عوام نفسیاتی اعتبار سے تو مطمئن ہوجائیں گے۔وزیرِاعظم نوازشریف اور پنجاب کے وزیرِاعلیٰ میاں شہبازشریف لوڈشیڈنگ کے بے پناہ مصائب سے یقیناً آگاہ تو ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اِس بنیادی حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ بجلی پیدا کرنے کے موجودہ وسائل اور انفرااسٹرکچر اِس قابل نہیں ہیں کہ عوام کو فوری طور پر مطلوبہ بجلی کی ''مقدار''فراہم کرسکیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ وہ منتظر عوام کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی کوئی تاریخ دینے سے گریز پا ہیں۔ نومنتخب وزیرِاعظم کا یہ اعلان کہ بجلی اورگیس چوروں کو سخت سزائیں دی جائیں گی،اسی سلسلے کی ایک اور کڑی محسوس ہوتا ہے کہ بجلی کی بچت کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی کوئی سبیل بھی نکل سکے۔

مقبول خبریں