غلطی ہائے کتابت اور کیچڑ میں پھنسا وزیر
ہم اخباروں میں لکھنے والوں کا پروف ریڈر حضرات سے اٹوٹ رشتہ ہے۔ ہم جو بھی لکھتے ہیں اگر یہ ہوبہو چھپ بھی جائے تو۔۔۔
ISLAMABAD:
ہم اخباروں میں لکھنے والوں کا پروف ریڈر حضرات سے اٹوٹ رشتہ ہے۔ ہم جو بھی لکھتے ہیں اگر یہ ہوبہو چھپ بھی جائے تو پروف ریڈر کی مہربانی ورنہ معافی۔ گزشتہ کالم کے آغاز میں لکھا کہ میاں صاحب کی حکومت کو مہینہ ڈیڑھ مہینہ ہی ہوا ہے، اس مہینے کو پروف ریڈر نے ہفتہ میں مختصر کر دیا یعنی میاں صاحب کی حکومت کو ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ ہی ہوا ہے۔ اس غلطی سے تاریخ تو نہیں بدلتی لیکن یہ کالم شروع ہی سے بدل گیا ہے۔ بہرکیف
ع این ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر'' ایک اعتراف کرتا ہوں کہ میں خود اب بہت ہی بدخط ہو گیا ہوں اور قصور میرا بھی ہے۔
اخباروں میں پروف ریڈنگ کی غلطی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ لندن کے مشہور و معروف اخبار لندن ٹائمز کا دعویٰ تھا کہ کوئی اس کی پروف ریڈنگ کی غلطی پکڑ لے تو اسے شکریے کے ساتھ اتنے عرصے کے لیے مفت اخبار ملے گا۔ اب ملاحظہ فرمایئے کہ لندن کی غلطی لاہور میں پکڑی گئی۔ ہمارے بزرگ م- ش (میاں محمد شفیع) اس اخبار کے مستقل قاری تھے اور امریکی سینیٹر جا کر ہر روز پڑھتے تھے۔ ایک دن انھوں نے اخبار کی پروف ریڈنگ کی غلطی پکڑ لی اور فوراً ایڈیٹر کو خط لکھ دیا۔ اخبار نے شکریے کے ساتھ یہ خط چھاپا اور مفت اخبار بھیجنا شروع کر دیا۔ ہمارے یہ کہنہ مشق صحافی اپنی اس کامیابی کو بڑے فخر سے بیان کیا کرتے تھے کہ یہ اخبار دنیا کا ایک بہترین اخبار تھا اور سابق غلام مُلک کے ایک صحافی نے اس کی غلطی پکڑی تھی۔ ہمارے ہاں بزرگ اور علماء اپنے دستخطوں کے ساتھ ایک جملہ لکھا کرتے ہیں ''عفیٰ عنہ'' یہ معافی کا جملہ تھا۔
ایک کاتب مولانا شبلی کا ایک مکتوب کتابت کر رہا تھا جس کے آخر میں لکھا تھا ''شبلی عفیٰ عنہ'' یہ جملہ اس کی سمجھ میں نہ آیا اور بہت زور مارنے کے بعد طے کیا کہ یہ ''ستلی دو عدد'' ہے۔ یہ چھپ کر بہت مشہور ہوا اور کتابت کی یہ غلطی مولانا کے اسم گرامی کے ساتھ چپک گئی۔ کتابت کی غلطیوں کی کئی مثالیں ہیں اور بعض مشہور اور ذو معنی بھی اس وقت یہ غلطیاں میری اپنی ایک غلطی کے حوالے سے یاد آ گئیں۔ اچھا ہے اگر کبھی اپنے آپ کو بھی مشق سخن بنا لیا جائے۔ ہمیشہ اپنی تعریف ہی کیا جو اب ایک معمول بن گیا ہے اور بڑا ہی بُرا معمول، کبھی لوگ جس بات پر شرمندہ ہوتے تھے اب وہ تحریر میں آ گئی ہے۔ میں نے ہیر وارث شاہ کا ایک پرانا نسخہ دیکھا تھا جو ہمارے گاؤں کے ایک میراثی کے پاس تھا۔ اس کے عنوان فارسی زبان میں لکھے ہوئے تھے اور جن اشعار میں شاعر یعنی وارث شاہ خود اپنے بارے میں کچھ کہتا تھا اس کا عنوان ہوتا تھا ''شاعر در مدح خود می گوئد'' کہ شاعر اب اپنی تعریف میں کہہ رہا ہے۔ اب جب میں اپنے دوستوں کی تحریروں میں خودستائی پڑھتا ہوں تو ان کی جگہ خود نادم ہو تا ہوں کہ جو کام اگر کرنا تھا تو قارئین نے کرنا تھا اب یہ کام ہم خود کر رہے ہیں اور ''کالم نگار در مدح خود می گوئد'' والی بات ہو گئی ہے۔
اب خودستائی کی بات شروع ہوتی ہے تو ہمارے بعض دوست اس مرض میں بڑی شدت کے ساتھ مبتلا تھے۔ ایک مشہور صاحب نے تو عید کے بعد ان تمام عید کارڈ بھیجنے والوں کے نام تک چھاپ دیے جو ان کے نام بھیجے گئے تھے۔ یہ کارڈ روٹین میں دوسروں کو بھی بھجوائے گئے لیکن ان کے ذہن سلامت تھے اور انھوں نے ان کا بے وجہ ذکر نہ کیا۔ ایک اور صاحب تو حد سے گزر گئے تھے۔ مرحوم خود بہت مشہور ہونے کے باوجود دوستوں سے مطالبہ کرتے تھے کہ ان کی تعریف لکھی جائے۔ عجز اور انکساری کے الفاظ لغت میں تو موجود ہیں لیکن ان کا استعمال اب بہت کم رہ گیا ہے۔ میں نے ایک دوست سے کہا کہ یار تم کبھی اپنی تعریف کیوں لکھ دیتے ہو، جواب تھا اس لیے کہ ان دنوں دوسرے صرف اس صورت میں آپ کی تعریف کرتے ہیں جب آپ خود اپنے بارے میں رطب اللسان ہوں۔ لوگ بہت کنجوس ہو گئے ہیں، اس لیے یہ سب خود کرنا پڑتا ہے۔ تم نہیں کرتے تو تمہارے فین کتنے ہیں۔ اب میں ان کو کیا بتاتا کہ پاکستانی اس قدر بے مہر نہیں ہیں۔ زیادہ حد ادب۔
ہماری نئی حکومت اب تک اپنا دبدبہ قائم نہیں کر سکی اور اس کے اپنے ملازمین اس کے وزیروں کو تنگ کرتے ہیں۔ خبر چھپی ہے کہ صوبائی وزیر آبپاشی ایک چھاپہ مار دورے کو ادھورا چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ وزیر موصوف شکایات کے جواب میں پانی چوری پکڑنے کے لیے شیخوپورہ پہنچے۔ ان کے افسر انھیں جائے وقوعہ پر لے جانے کی بجائے انتہائی دشوار گزار راستے سے دوسری جگہ مریدکے ڈسٹری بیوٹری لے گئے۔ مقصد چوری چھپانی تھی۔ انھوں نے وزیر کو اس قدر تنگ کیا کہ وہ دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس آ گئے۔ ان کے دورے کے دشوار گزار راستے کی تصویریں چھپی ہیں کہ وزیر کی کار کیچڑ میں پھنسی ہوئی ہے اور علاقے کے کمسن بچے اس کو دھکا دے کر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خود افسروں کی ایک گاڑی بھی بطور مثال پھنسی ہوئی دکھائی دے رہی ہے تا کہ ان کی بے گناہ ثابت ہو سکے۔ میرا خیال ہے اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔ نامہ نگار کے الفاظ کے ساتھ کیمرے کی آنکھ بھی یہ سچ دکھا رہی ہے۔ اب وزیر صاحب موصوف نے یہ کارروائی کی ہے کہ متعلقہ افسروں کو معطل کر دیا ہے جو ان کو چکمہ دے کر کہیں اور لے گئے تھے۔ حکومت جاری کرپشن کے اس دور میں معطلیوں سے نہیں چلتی، یہ انصاف کے آہنی ہاتھ سے چلتی ہے لیکن یہ آہنی ہاتھ وہ ہوتا ہے جو خود صاف ستھرا ہو۔ پہلے حکمران اپنے ہاتھوں کو صابن نہیں کسی کیمیکل سے دھوئیں اور پھر کسی کام میں ڈالیں۔ اگر کمسن بچوں نے وزیروں کی گاڑیاں دھکے دے کر کسی کیچڑ سے باہر نکالنی ہیں تو پھر یہ حکومت چل گئی۔