ریحان قتل ایک ملزم رہا 5 جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

ملزمان  کے خلاف اغوا، قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے، وکیل


کورٹ رپورٹر August 21, 2019
سماعت کے بعد مقتول کے اہلخانہ کا عدالت کے باہر شدیداحتجاج، انصاف کیلیے دہائی۔ فوٹو: فائل

مقامی عدالت نے چوری کے الزام میں 15 سالہ ریحان کے قتل کے مقدمے میں ضمانت پر رہا ملزم ایاز کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے باقی گرفتار 5 ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کے روبرو ریحان قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ مدعی مقدمہ کے وکیل عرفان عزیز ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ ملزموں سے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے۔ والدین کی جانب سے سیکریٹری داخلہ سندھ، آئی جی پولیس، ڈی جی رینجرز سندھ اور دیگر کو درخواستیں دی گئی ہیں۔ ریحان کو اغوا کرکے 3 گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ملزموں نے بچے کی برہنہ ویڈیوبناکرانٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی۔ملزموں کیخلاف اغوا، قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

مدعی مقدمہ کے وکیل نے عدالت میں جراح کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار ملزمان نے معصوم بچے کو ظالمانہ طور پر قتل کیا۔ ریحان جمعہ کے روز کام سے پیسے لے کر گھر جارہا تھا۔ بچے کو چوری کے جھوٹے الزام کے تحت باندھ کرقتل کیا۔ عدالت سے التجا ہے کہ انسداد دہشتگردی کی دفعات اور 30 اے سمیت دیگر دفعات شامل کی جائیں۔

ملزمان کے وکلاء نے عدالت میں موقف دیا کہ بے گناہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ایف آئی آر میں شاہ رخ اور یاسین کا نام ہی نہیں۔ پی آئی بی اور ملیر کے رہائشی افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس محلے میں جا کر جو ہاتھ آرہا ہے اسے گرفتار کررہی ہے۔ انوسٹی گیشن افسر مکمل تفتیشی رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو ریمانڈ بھیجنے سے قبل جانچ پڑتال کا حکم دیا۔ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے ریمانڈ پیپر کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد ریمانڈ پیپر عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا۔

ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق پولیس نے ہمارے دباؤ پر دفعہ 302 کا اضافہ کردیا ہے۔ پولیس نے دفعہ 316 کے تحت ایف آئی آر درج کی جو قابل ضمانت ہے۔ جانج پڑتال کے بعد ریمانڈ پیپر عدالت میں جمع کرادیا گیا۔

مقبول خبریں