شباب کیرانوی نے 1955ء میں ’’جلن‘‘ سے فلمسازی کا آغاز کیا

بھائی حمید کے اشتراک سے ایک فلمساز ادارہ سربین لمیٹیڈ کے نام سے قائم کیا


Cultural Reporter October 07, 2013
’’ثریا‘‘ سے کامیاب ہدایتکار کے روپ میں سامنے آئے، انکی فلم ’’مہتاب‘‘ بھی سپرہٹ رہی۔ فوٹو: فائل

شباب کیرانوی کا اصل نام حافظ نذیر احمد تھا اور بنیادی طور پر حافظ قرآن تھے ۔ فلمی دنیا میں لانے کا سہرا اے حمید کا تھا۔

بے حد شریف النفس اور دیندار قسم کے انسان تھے ۔ بھائی حمید کے اشتراک سے ایک فلمساز ادارہ سربین لمیٹیڈ کے نام سے قائم کیا اور 1955ء میں فلمسازی کا آغاز''جلن'' نامی ایک فلم سے کیا جس کی ہدایت اے حمید ہی نے دی تھی ۔ یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی ۔ تین سال کے بعد سپرہٹ موویز کے بنیر تلے انھوں نے ''ٹھنڈی سڑک'' نامی فلم بنائی جس میں راجکپور سے مشابہت رکھنے والے ایک نئے اداکار کمال کو بحیثیت ہیرو اور مسرت نذیر جو اپنی پہلی فلم ''پتن'' کی عظیم الشان کامیابی کے بعد ایک مقبول ہیروئن بن چکی تھیں ۔ وہ پہلی بار پردہ سیمیں پر پیش ہوئے کمال کے ساتھ ہیروئن تھیں ۔ یہ فلم قدرے بہتر رہی ۔1960ء می اسی ادار ے کے تحت انھوں نے ایک جادوئی ٹائپ فلم ''گلبدن'' بنائی اور حسب معمول اس کی ہدایات بھی اے حمید ہی نے دیں۔ مسرت نذیر ، اعجاز، ناصرہ ، شیخ اقبال اور نذر فلم کی کاسٹ میں شامل تھے ۔



یہ فلم بھی ٹھیک ہی رہی ۔ پہلی بار انھوں نے اپنے ہی ادارے سپرہٹ موویز کی فلم ''ثریا'' کی ڈائریکشن دی ۔ فلم ایک عمدہ معیاری اور کامیاب شاہکار ثابت ہوئی اور شباب کیرانوی کے ہدایتکارانہ کیرئیر کے لیے سنگ میل بن گئی ۔ ''ثریا'' میں نیئر سلطانہ اور حبیب مرکزی رومانوی کرداروں میں پیش ہوئے تھے ۔ اگلے سال انھوں نے ''مہتاب'' جیسی سپرہٹ فلم پیش کرکے فلمی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا ۔ علاوالدین پر احمد رشدی کی آواز میں گایا ہوا یہ نغمہ ''گول گپے والا'' بے حد مقبول ہوا ۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد شباب کیرانوی نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ۔

انھوں نے بے شمار فلمیں بنائیں ''ثریا'' اور ''مہتاب'' کے بعد انھوں نے ''ماں کے آنسو'' ، ''شکریہ'' ، '' عورت کا پیار'' ، ''فیشن '' ، ''گھر کا اجالا'' ، '' آئینہ'' (محمد علی ،دیبا) ، '' تمہی ہو محبوب میرے''، '' انسان اور آدمی'' ، ''انصاف اور قانون'' ،'' افسانہ زندگی کا'' ، '' دل ایک آئینہ'' ،'' من کی جیت'' ، '' پردے میں رہنے دو'' ، '' دامن اور چنگاری'' ، '' آئینہ اور صورت'' ، '' بے مثال '' ، '' میرا نام ہے محبت'' ، '' دیوار '' ، '' انسان اور فرشتہ'' ،'' نشیمن'' ، '' محبت ایک کہانی'' ، '' شمع محبت'' ، '' سہلی '' ( رانی ، شبنم ، وحید مراد ) ، '' انمول محبت'' ، '' دامن'' ،'' وعدے کی زنجیر'' ، '' دو راستے'' ، '' لاجواب'' ، '' یہ زمانہ اور ہے'' ،'' ایک دن بہو کا'' ، '' بازار '' اور ''جمیلہ'' نامی فلمیں ڈائریکٹ کیں۔

مقبول خبریں