سلور اسکرین کی ستاروں بھری آسکر نائٹ

بہترین ہدایت کار کے لیے کسی خاتون کو ’’شارٹ لسٹ‘‘ نہیں کیا گیا


Editorial February 10, 2020
بہترین ہدایت کار کے لیے کسی خاتون کو ’’شارٹ لسٹ‘‘ نہیں کیا گیا

بین الاقوامی فلمی دنیا کی سب سے بڑی تقریب ''آسکر نائٹ'' کے نام سے منعقد کی جاتی ہے، اس تقریب کی خاصیت عالمی فلمی دنیا کے مختلف شعبوں میں آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والوں کے علاوہ فلمی دنیا کی نامور شخصیات کی شرکت ہے۔ عام فلم بینوں کے لیے ان مشہور ستاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے دیکھنا سب سے بڑی خوشی اور تفریح کی بات ہوتی ہے۔ سلور اسکرین کے چمکتے دمکتے ستاروں کو سرخ قالین پر اپنے سامنے چلتے پھرتے دیکھنا ہی ان کے لیے زندگی بھر کی ایک یاد گار تفریح بن جاتی ہے۔ دنیا بھر کے فلم شائقین اور شوبز سے وابستہ شخصیات کی نظریں آسکر ایوارڈ لینے والوں پر مرکوز ہوتی ہیں۔

اتوار کو ہونے والی اس تقریب میں بہترین اداکار اور بہترین اداکارہ کے علاوہ بہترین ہدایتکار اور بہترین موسیقار کا بھی انتخاب کیا گیا ہے۔ جنھیں یہ ایوارڈ ملتا ہے ، ان کی زندگی کی یہ سب سے بڑی اچیومنٹ ہوتی ہے۔ آسکر کے انعامات میں کوئی ایسی فلم جو انگریزی زبان میں نہ ہو کبھی چوٹی کا انعام حاصل نہیں کر سکی۔ یہ انعام بالعموم انگریزی زبان کی فلم کے حصے میں ہی آتا ہے۔ اس برس آسکر انعام کے لیے آنے والی فلموں میں ایک ایسی فلم کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کے اداکار سفید فام نہیں ہیں۔ ہاریٹ نام کی اس فلم کی اداکارہ سنتھیا اریوو کو نامزد کیا گیا ہے جس پر ناقدین کی طرف سے زبردست تنقید بھی کی گئی ہے۔ بہترین ہدایت کار کے لیے کسی خاتون کو ''شارٹ لسٹ'' نہیں کیا گیا۔ اس مرتبہ ہونے والی آسکر تقریب میں کے لیے بھی کسی کو مہمان خصوصی نہیں بنایا گیا البتہ مہمانوں کی فہرست خاصی لمبی ہے جن میں اسپین کی پینی لوپ کروز' میکسیکو کی سلمی ہائیک اور اسرائیل کی گال گیڈٹ بھی شامل ہیں۔ آسکر نائٹ کی رنگا رنگ تقریب میں میوزیکل پرفارمنس کی ایک خصوصی اہمیت ہوتی ہے ۔

برطانوی پاپ سنگر ایلٹن جان بھی اس تقریب کی رونق بڑھانے والوں میں شامل ہیں۔ انھوں نے لیڈی ڈیانا کی حادثاتی موت پر ایک المیہ گانا پیش کیا تھا۔ ایلٹن جان کی زندگی پر راکٹ مین کے نام سے ایک فلم بھی بن چکی ہے۔ آسکر نائٹ کی ترتیب میں پہلی مرتبہ ایک خاتون موسیقار ای میئر نونی آرکسٹرا کو ٹیون کریں گی۔ ہر سال آسکر نائٹ میں گزشتہ عرصے کے دوران انتقال کرنے والے فلمی دنیا کے نامور لوگوں کے لیے بھی کچھ وقت مخصوص کیا جاتا ہے اور اس مرتبہ گولڈن ایج کے لیجنڈ کرک ڈگلس کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جس کا انتقال پچھلے دنوں 103 سال کی عمر میں ہوا۔ اپنے طویل فلمی کیرئیر میں ڈگلس نے بے شمار ناقابل فراموش کردارادا کیے۔ اگر اس حوالے سے ہم وطن عزیز کی طرف دیکھیں تو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملتا، کبھی ہمارے ہاں بھی نگار ایوارڈ اور دیگر ایوارڈ کی تقریبات ہوتی تھیں، یہاں ایک برس میں سیکڑوں فلمیں تیار ہوتی تھیں اور لاکھوں افراد اس انڈسٹری سے وابستہ تھے۔لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

مقبول خبریں