آئی جی سندھ نے شہریوں کو گرفتار کرنے سے روک دیا

حالات کوفساد ، جھگڑے کی طرف جانے سے روکنے کیلیے بھرپور اقدامات کیے جائیں


Staff Reporter March 25, 2020
حالات کوفساد ، جھگڑے کی طرف جانے سے روکنے کیلیے بھرپور اقدامات کیے جائیں

آئی جی سندھ مشتاق مہر نے پولیس فورس کو اپنے دوسرے اہم پیغام میں مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔

پولیس کے محکمے کو آئندہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اس صورتحال کے پیش نظر انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہے ، بدقسمتی سے ہم ایسے لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں جو بذات خود حالات کے جبر کا شکار ہیں ، ہمیں ایسے افراد سے تحمل اور ہمدردی سے پیش آنا ہوگا ، مشکل کے اس وقت میں پولیس عام شہریوں کو گرفتار کرنے کے بجائے انھیں در پیش آفت سے آگاہ کر کے شائستگی سے انتباہ کے ساتھ جانے دے ، مشکل کی اس گھڑی میں پولیس لازمی طور پر عوام دوست اور ہمدرد کے طور پر سامنے آئے نہ کہ عوام میں اس کا ناپسندیدہ و بے رحم تاثر قائم ہو ، مشتاق مہر نے سندھ پولیس کے افسران و جوانوں کو اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ یہ بحران روز بروز بڑھتا جائے گا تاہم ہمیں امن و امان قائم رکھنے کے لیے اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھنی ہوگی اور اس نئی صورتحال میں ہمیں پولیسنگ بھی ایک نئے طریقے سے کرنی ہوگی۔

قانون نافذ کرنے کے عمل کیدوران ہمیں خلاف ورزی کرنے والوں کو روایتی قانون شکن نہیں سمجھنا چاہیے، آئی جی سندھ نے فیلڈ میں کام کرنے والے افسران و جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقہ معززین کی مدد سے ایسے لوگوں کی نشاندہی کریں جن کی آمدنی انتہائی کم ہے لہذا ہمیں قانون نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کی مدد کرنے اور انھیں سہولیات پہنچانے کا انتظام بھی کرنا ہے ہمیں ایک مدد گار کا بھی کردار ادا کرنا ہوگا ، انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے مخیر حضرات کی فہرست موجود ہو جو ضرورت کی اس گھڑی میں لوگوں کو خوراک اور ادویات پہنچا سکتے ہوں ، مشتاق مہر نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں بھوک ، بیروزگاری اور بیمار افراد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، عوام کے پاس ضروریات زندگی کی اشیا کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہوگا جو عوامی میں بے چینی اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

ضلع کی تمام کچی آبادیوں میں ایسے نمائندگان مقرر کیے جائیں جو ان آبادیوں میں روز مرہ معاملات خصوصاً کسی کے انتقال کے موقع پر نماز جنازہ و تدفین کی رسومات یا پر ان علاقوں میں کھانے پینے اور فراہمی آب کی کمی کے سلسلے میں ڈی آئی جی آفس میں نامزد آفیسر رابطے میں رہیں۔

مشتاق مہر نے کہا کہ میڈیا کے تعاون سے عوام کے سامنے اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ مشکل کے اس وقت میں بھی سندھ پولیس سے وابستہ افسران و جوان اپنی جانوں کو لاحق خطرات کو بھی خاطر کو لائے بغیر عوام کی حفاظت اور انھیں مشکل حالات سے نکالنے کے لیے مستعد ہیں۔

آئی جی سندھ اپنے پیغام میں مزید کا ہے کہ حالات کو بلوہ (فساد ، جھگڑے) کی طرف جانے سے روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں اور یہ بات زہن نشین کرلیں کہ ملکی تاریخ کے سب سے مشکل ترین دور میں صورتحال کسی بھی وقت ہماری سوچ کے برعکس بدتر ہو سکتی ہے ، اس لیے جس قدر ہو سکے عوامی تحفظات کے لیے اقدامات کیے جائیں کیونکہ اس وقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے اور خود کو اپنے گھروں تک محدود نہ کرنے والے اگر بڑے پیمانے پر اس مہلک بیماری میں مبتلا ہوئے تو مریضوں کی ایک بڑی تعداد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ، انھوں نے کہا کہ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس اور عوام کے درمیان پائیدار اعتماد اور اہم آہنگی کو فروغ دیا جائے ، مشکل اور دکھ کی اس گھڑی میں عوام پر طاقت کے استعمال سے ہرممکن گریز کیا جائے اور خدمت انسانیت کو ترجیح دی جائے۔

مقبول خبریں