اردو یونیورسٹی 8 سال تدریسی تجربہ رکھنے والا استاد ڈین مقرر

سلیکشن بورڈ کے ذریعے ایسوسی ایٹ پروفیسرمسعود مشکورکوپروفیسربنایا گیا.


Safdar Rizvi January 03, 2014
اسی روز انھیں رئیس کلیہ مقررکیے جانے کاخط بھی جاری کردیاگیا،قوانین نظرانداز۔ فوٹو: فائل

وفاقی اردویونیورسٹی کی انتظامیہ نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے رائج قواعد وضوابط کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے محض 8سال تدریسی تجربہ رکھنے والے استاد کو پروفیسرکے عہدے پر تفویض کردیا ہے۔

جبکہ اس سلسلے میں یونیورسٹی کے ایک گزشتہ سلیکشن بورڈکی قراردادکی بھی نفی کردی گئی ہے اور پروفیسرکاعہدہ ملتے ہی متعلقہ استاد پروفیسر مسعود مشکورکو رئیس کلیہ رئیس نظمیات ،کاروبار،تجارت ومعاشیات بھی مقرر کردیاگیاہے جس کیلیے استاد کاپروفیسرہونالازمی شرط تھاجبکہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے رائج قواعد وضوابط کے مطابق کسی بھی سرکاری یونیورسٹی میں پروفیسرکیلیے متعلقہ استاد کا ''15سالہ پوسٹ گریجویٹ تدریسی تجربہ''لازمی قرار دیا گیا ہے اورمطلوبہ تدریسی تجربہ کے بغیرکسی بھی استاد کو پروفیسر کا عہدہ تفویض نہیں کیاجاسکتاتاہم وفاقی اردویونیورسٹی کی انتظامیہ نے رئیس کلیہ نظمیات ،کاروبار،تجارت و معاشیات کا عہدہ خالی ہوتے ہی اس عہدے پر من پسند ٹیچر کی تقرری کے لیے کوششیں شروع کردیں اور اردو یونیورسٹی سے تین سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر جامعہ کراچی گئے ہوئے شعبہ کامرس میں ایسوسی ایٹ پروفیسر مسعود مشکورنے قبل از وقت ہی اردویونیورسٹی میں جوائنگ دے دی ۔



جبکہ ان کی ڈیپوٹیشن کی مدت میں ابھی تقریباًڈیڑھ برس کاعرصہ باقی تھا ، 30دسمبرکو اردویونیورسٹی میں ایک سلیکشن بورڈ کے ذریعے ایسوسی ایٹ پروفیسرمسعود مشکورکوپروفیسرکاعہدہ تفویض کردیاگیا اور اسی روز انھیں رئیس کلیہ مقررکیے جانے کاخط بھی جاری کردیاگیاحیرت انگیز طورپراس سلیکشن بورڈ میں اس امرکوصرف نذرکردیاگیاکہ کسی ٹیچرکوپروفیسربنائے جانے کے لیے 15سالہ پوسٹ گریجویٹ تدریسی تجربہ لازمی ہے، پروفیسربنائے گئے مسعودمشکورکا پوسٹ گریجویٹ تدریسی تجربہ محض 8برس ہے، چونکہ اردویونیورسٹی میں متعلقہ شعبہ میں پوسٹ گریجویٹ پروگرام کاآغاز ہی 2005میں شروع ہواتھا،واضح رہے کہ اس سے قبل 12دسمبر2010 کو ایک سلیکشن بورڈ کے ذریعے متعلقہ ٹیچر مسعود مشکورکو محض 5سالہ تدریسی تجربہ ہونے کے باوجود صرف اس شرط پر ایسوسی ایٹ ٹیچر بنایا گیاتھا کہ انھیں آئندہ یہ رعایت نہیں دی جائے گی ، یہ رعایت صرف ایک باردی گئی ہے،اس وقت بھی پروفیسر مسعود مشکورکا مطلوبہ تدریسی تجربہ میں 3برس کی کمی تھی۔

جبکہ اس رعایت کوبھی سینیٹ کی منظوری سے مشروط کیاگیاجس کی منظوری تاحال نہیں ہوسکی'' ایکسپریس '' نے اس سلسلے میں رئیس نظمیات ،کاروبار،تجارت ومعاشیات پروفیسر مسعود مشکور سے رابطہ کیا تو ان کاکہنا تھا کہ اردو یونیورسٹی کے قیام سے قبل اردو کالج کوانسٹی ٹیوٹ کادرجہ حاصل تھاجہاں وہ تدریس سے وابستہ رہے اور انسٹی ٹیوٹ میں پوسٹ گریجویٹ کلاسز ہوتی ہیں تاہم جب ان سے استفسارکیاگیا کہ اردوکالج میں ان کے متعلقہ شعبہ میں پوسٹ گریجویٹ کلاسز نہیں ہوتی توان کا کہناتھا کہ پروفیسرناہید ابرارکو بھی رئیس کلیہ بنایاگیاہے ان کے شعبہ میں آج تک پوسٹ گریجویٹ کلاسز نہیں ہوتی جبکہ سابق ڈین سلیمان ڈی محمد بھی اردوکالج مارننگ میں پڑھاتے تھے جبکہ پوسٹ گریجویٹ کلاسز شام میں ہوتی تھیں تاہم مزید استفسارپران کاکہناتھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ سے اس سلسلے میں رابطہ کیاجائے '' ایکسپریس '' نے یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر فہیم الدین سے رابطے کی کوشش کی تاہم ان کاموبائل فون بند تھا۔

مقبول خبریں