ہار کا خوف دل سے نکال دیں

کراچی ٹیسٹ کے لیے بھی کوئی خاص ماحول نہیں بنایا گیا،شائقین کو اسٹیڈیم لانے کے لیے خاص اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے


Saleem Khaliq March 12, 2022
کراچی ٹیسٹ کے لیے بھی کوئی خاص ماحول نہیں بنایا گیا،شائقین کو اسٹیڈیم لانے کے لیے خاص اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوٹو : فائل

وقت بہت تیزی سے گذر جاتا ہے،انسان کے ذہن میں بس یادیں ہی باقی رہتی ہیں،1998میں جب نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان اور آسٹریلیا کا ٹیسٹ دیکھا تھا تو اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دوبارہ ایسا موقع 24سال بعد آئے گا،بدقسمتی سے ہمارے میدان طویل عرصے تک ویران رہے تاہم شکر ہے اب حالات بہتر ہونے سے انٹرنیشنل کرکٹ بھی لوٹ آئی ہے،آسٹریلیا سے دوبارہ ہوم سیریز کا انعقاد بہت بڑا موقع ہے۔

آخری بار جب کراچی میں دونوں ٹیموں کا میچ ہوا تو ان دنوں میں منیر حسین صاحب کے کرکٹ میگزین ''اخبار وطن ''میں ملازمت کرتا تھا،اس وقت پاکستان میں کرکٹ میڈیا کے لیے موجودہ دور جیسا گھٹا گھٹا ماحول نہ تھا،کنٹرولڈ میڈیا پالیسی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور سب کو کام کرنے کی مکمل آزادی تھی،میں نے آسٹریلوی ٹیم کے رابطہ آفیسر مسعود الحسن سے درخواست کر کے کپتان مارک ٹیلر اور وکٹ کیپر ای ین ہیلی کے انٹرویوز بھی کیے تھے۔

اب تو کوئی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا،شاہد آفریدی کا وہ ڈیبیو ٹیسٹ تھا،ان دنوں میڈیا میں اتحاد بھی بہت تھا،کسی ایک کو کوئی تکلیف پہنچے تو سب اکھٹے ہو جاتے تھے،جیسا کہ اسی میچ میں ہوا،ایک انگریزی اخبار کے اسپورٹس رپورٹر کا ان دنوں بڑا نام تھا،وہ اپنے کسی ٹی وی آرٹسٹ دوست کے ساتھ میچ دیکھنے آئے،مین بلڈنگ میں داخلے کے وقت ان کی پولیس اہلکار سے تلخ کلامی ہو گئی اور معاملہ بگڑ گیا،میں ان دنوں بہت جونیئر تھا،اچانک میڈیا سینٹر میں شور مچ گیا کہ فلاں صحافی کو پولیس نے زدوکوب کیا ہے۔

یقین مانیے چند منٹ میں سب اپنا کام چھوڑ کر مرکزی بلڈنگ کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے تھے،ایک اعلی حکومتی شخصیت کی آمد پر معاملہ ختم ہوا،مذکورہ صحافی سے معذرت کرتے ہوئے نقصان کی تلافی کی گئی،وہ صاحب کون تھے ،پورا واقعہ کیا تھا،یہ سب کچھ کسی اور وقت کے لیے چھوڑ دیں،میں اب یہی سوچتا ہوں کہ اس وقت صحافی کتنے یکجا تھے،ہر روزبڑی خبریں بھی سامنے آتی تھیں،اب تو بیشتر کو پریس ریلیز کا عادی بنا دیا گیا ہے۔

پھر کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں اسپورٹس جرنلزم کا وہ معیار نہیں رہا،جب آپ کام کی آزادی نہیں دیں گے تو ایسا ہی ہو گا،اس وقت بیرون ملک سے بھی کوریج کے لیے صحافی پاکستان آتے تھے،بیچارے ایک گورے کا لیپ ٹاپ بھی کسی نے چوری کر لیا تھا،خوشی کی بات یہ ہے کہ اب پھر ماضی کی طرح غیرملکی رپورٹرز پاکستان آنے لگے ہیں،آسٹریلیا سے بھی کئی صحافی یہاں آئے اور اپنے دورے سے لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں،پی سی بی کے سامنے کچھ کہنا بھینس کے آگے بین بجانے جیسا ہے۔

کراچی ٹیسٹ کے لیے بھی کوئی خاص ماحول نہیں بنایا گیا،شائقین کو اسٹیڈیم لانے کے لیے خاص اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے،ٹیسٹ میچز میں زیادہ کرائوڈ نہیں آتا مگر اتنے عرصے بعد آسٹریلیا سے کراچی میں میچ ہو رہا ہے،اس وقت تو زبردست ماحول بنانا چاہیے تھا،شہر کو کچھ سجاتے مگر یہاں تو اسٹیڈیم کے اطراف میں بھی پی ایس ایل کے ہی کچھ بینرز نظر آتے ہیں،اسکول اور کالج کے طالب علموں میں شاید مفت ٹکٹس تقسیم کرنے کا ارادہ تو کیا گیا ہے،اب اس پر عمل بھی ہونا چاہیے۔

ٹرانسپورٹ ،صاف واش روم،اچھی کرسیاں اور معیاری کھانے پینے کی اشیا کا انتظام بھی یقینی بنائیں،اس سیریز پر دنیائے کرکٹ کی نظریں مرکوز ہیں،تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم کا منظر ٹی وی پر بھی اچھا لگے گا،جہاں تک معیاری کرکٹ کی بات ہے تو اس کے لیے بہتر پچ لازمی ہے،شکست کے خوف سے راولپنڈی میں جو پچ تیار کی گئی اس کی وجہ سے جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا،رنز کے ڈھیر تو لگا لیے لیکن آئی سی سی کی جانب سے معیار سے کمتر پچ کا ٹائٹل بھی سہنا پڑا،ڈی میرٹ پوائنٹ بھی مل گیا۔

افسوس تو یہ دیکھ کر ہوا کہ پچ کی وضاحت کے لیے بھی چیئرمین بورڈ رمیز راجہ کو خود سامنے آنا پڑا حالانکہ یہ میڈیا ڈپارٹمنٹ کا کام تھا،خیر امید ہے غلطیوں سے سبق دیکھ کر دوسرے ٹیسٹ کیلیے ڈیڈ پچ بنانے سے گریز کیا جائے گا،بہتر پچ پر بھی ہمارے کھلاڑی اچھا پرفارم کر سکتے ہیں،ٹیم مینجمنٹ کو ان پر اعتبار کرنا ہوگا،اب تو حسن علی اور فہیم اشرف بھی فٹ ہو گئے ہیں،اس لیے پاکستان کو تگڑا بن کر سامنے آنا چاہیے،بیٹنگ لائن میں تو کوئی تبدیلی ممکن نہیں لگتی۔

بیچارے شان مسعود بدقسمت رہے کہ اچھی فارم کے باوجود پہلے ٹیسٹ میں نہ کھلایا گیا ورنہ جس قسم کی پچ تھی وہ بھی سنچری بنا کر ٹیم میں جگہ پکی کر لیتے،اظہر علی کو بڑی اننگز کا آئیڈیل پلیٹ فارم ملا،فواد عالم کی بیٹنگ تو ہمیشہ مشکل صورتحال میں ہی آتی ہے،راولپنڈی میں سب ٹھیک رہا اس لیے وہ پیڈز باندھے بیٹھے رہے۔ آسٹریلوی کرکٹرز کی سوشل میڈیا پوسٹس اور انٹرویوز سے واضح ہوتا ہے کہ وہ دورئہ پاکستان سے بیحد لطف اندوز ہو رہے ہیں،انگلینڈ جیسے ممالک میں انھیں نفرت آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر پاکستان میں وہ سب کے ہیرو ہیں،اچھے کھیل پر شائقین سے مقامی کرکٹرز جیسی ہی شاباشی مل رہی ہے۔

بدقسمتی سے کوویڈ کی وجہ سے کھلاڑیوں کو بائیو سیکیور ببل میں رہنا پڑ رہا ہے،ورنہ وہ باہر شاپنگ وغیرہ کے لیے جاتے تو پاکستانیوں کی مہمان نوازی کا اور اندازہ ہوتا۔آخر میں پی سی بی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ سے درخواست ہے کہ میڈیا ٹاک سے قبل کھلاڑیوں کو کم از کم تھوڑا بریف تو کر دیا کریں،امام الحق نے دونوں اننگز میں عمدہ بیٹنگ کی سنچریاں بنائیں ،مگر دنیا بھر کے میڈیا میں ''کیوریٹرمیرا رشتہ دار نہیں '' جیسی باتوں کی ہیڈ لائنز بنیں،انھیں پچ وغیرہ کے سوال پر ڈپلومیٹک انداز اپنانے کا کہنا چاہیے تھا۔

اس موضوع پر ہیڈ کوچ یا بیٹنگ کوچ کو ہی بات کرنی چاہیے تھی،محمد یوسف نے تو بعد میں کوئی بیان دیا بھی ہے،خیر پہلے ٹیسٹ میں جو ہوا وہ سب تو اب ماضی کا حصہ بن چکا،ٹیم کو اب دوسرا میچ جیت کر سیریز میں برتری پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے،کھلاڑیوں میں اس کی صلاحیت بھی موجود ہے بس انھیں گھبرانا نہیں ہے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

مقبول خبریں