سلامتی پالیسی کا مسودہ اراکین قومی اسمبلی میں تقسیم پیر سے باقاعدہ بحث ہوگی

پالیسی پرعمل درآمد پر 32 ارب روپے خرچ ہوں گے جس میں 22 ارب صوبے دیں گے جبکہ دس ارب روپے وفاق فراہم کرے گا۔


ویب ڈیسک February 27, 2014
مجوزہ قومی سلامتی پالیسی 3 حصوں پر مشتمل ہے۔ فوٹو: فائل

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پیش کی گئی مجوزہ قومی سلامتی پالیسی کا مسودہ ارکان میں تقسیم کردیا گیا ہے جس پر پیر سے باقاعدہ بحث کا آغاز ہوگا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق 94 صفحات پر مشتمل مجوزہ پالیسی میں کہا گیا ہے کہ 2001 سے 2013 کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کی 13ہزار 897 کارروائیاں ہوئیں، اسی دوران ملک میں 973 فرقہ وارانہ واقعات ہوئے جس میں 2 ہزار 398 افراد جاں بحق ہوئے۔ 2002 سے 2013 کے دوران دہشتگردی کے 99 بدترین واقعات ہوئے، پالیسی کے کتابچے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں سول آرمڈ فورسز کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار 78 جبکہ پولیس اہلکاروں و افسران کی تعداد 3لاکھ 69 ہزار 811 ہے، ملک بھر میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 22 ہزار55 ہے۔

مجوزہ پالیسی کے مطابق سلامتی پالیسی پر عملدرآمد پر 32 ارب روپے خرچ ہوں گے، جس میں 22 ارب صوبے دیں گے جبکہ 10 ارب روپے وفاق فراہم کرے گا۔ دہشتگردی کے خلاف قومی انسداد دہشتگردی اتھارٹی مرکزی ادارہ ہو گا، انٹلی جنس نظام بہتر بنانے کے لئے وفاقی سطح پر جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم ہوگا، دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے ریپڈ رسپانس فورس قائم کی جائے گی جو کسی بھی کارروائی پر فوری ردعمل کے لئے تیار ہوگی اس سلسلے میں ریپڈ رسپانس فورس کا فضائی ونگ الرٹ رہے گا

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی میں قومی سلامتی پالیسی کے خدو خال بیان کئے تھے جس کے تحت پالیسی 3 حصوں پر مشتمل ہے پہلا حصہ خفیہ ، دوسرا اسٹریٹیجک جبکہ تیسرا حصہ آپریشنل ہوگا۔

مقبول خبریں