پاکستان سے نیٹو سامان کی پہلی پرواز 15 فوجی گاڑیاں لیکر افغانستان پہنچ گئی

فضائی ترسیل2012 میں پاک امریکا مفاہمتی یاداشت کا حصہ ہے، اجازت خیرسگالی اقدام کے طورپردی، وزارت دفاع


Numaindgan Express May 06, 2014
فضائی ترسیل2012 میں پاک امریکا مفاہمتی یاداشت کا حصہ ہے، اجازت خیرسگالی اقدام کے طورپردی، وزارت دفاع

پاکستان سے پہلی مرتبہ پڑوسی ملک افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کے لیے عسکری ساز و سامان کی ترسیل فضائی راستے سے کی گئی۔

وزارت دفاع کے ایک بیان کے مطابق کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پہلی کمرشل پرواز افغانستان کے بگرام ایئر بیس گئی جس کے ذریعے افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے لیے15فوجی گاڑیاں روانہ کی گئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان فورسز کے لیے عسکری سازوسامان کی فضائی راستے سے ترسیل کی اجازت حکومت پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے ایک اقدام کے طور پر دی گئی ہے، بیان میں اس امید کا بھی اظہارکیا گیا ہے کہ یہ اقدام دونوں ملکوں کے موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا بھی سبب بنے گا۔ وزارت دفاع کے مطابق افغانستان کے لیے فوجی سامان کی فضائی راستے سے یہ ترسیل بنیادی طور پرجولائی 2012ء میں امریکا اور پاکستان کے درمیان طے پانے والی ایک مفاہمتی یاداشت کا حصہ ہے۔

پاکستان سے افغانستان کے لیے فوجی سامان لے جانے والی پروازکی روانگی سے قبل سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یاسین ملک بھی ہوائی اڈے پرموجود تھے جوگاڑیاں،افغانستان بھیجی گئیں ان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے لیے انتہائی اہم ہیں اوران کیفوری ضرورت بھی تھی،دفاعی امورکے ماہرلیفٹیننٹ جنرل رٹائرڈ طلعت مسعود نے وائس آف امریکا سے گفتگو میں کہا کہ انھیں توقع ہے کہ یہ اقدام نا صرف پاکستان اور افغانستان کی سیاسی حکومتوں بلکہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان بھی ہم آہنگی کا سبب بنے گا۔ اسلام آباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق پاکستان نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے ذریعے امریکی، ایساف اور نیٹو فورسز کو ہوائی راستے سے افغانستان سامان بھجوانے کی اجازت دے دی ہے، اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے باضابطہ طور پر کسٹمز جنرل آرڈر نمبر ایک جاری کردیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ سے افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے لیے ہوائی راستے سے 1628گاڑیاں افغانستان بھجوائی جائیں گی ۔

افغانستان کو ہوائی راستے سے گاڑیاں بھجوانے کی اجازت ایک مرتبہ کے لیے ہوگی،مذکورہ کسٹمز جنرل آرڈرمیں ترسیل کا پروسیجروضع کیا گیا ہے کہ افغانستان کے لیے سامان کی ترسیل کے لیے تمام کسٹمز کے قواعدو ضوابط اور پروسیجر پورے کرنے اور سامان کومکمل سیل کرنے کے بعد پورٹ آف انٹری سے نکالنے سے پہلے سامان کوکنٹینرز میں بند کیا جائے گااور مذکورہ سامان وزارت دفاع کے نوٹیفکیشن شُدہ روٹ کے ذریعے ہوگی اور اس کسٹمز جنرل آرڈر(سی جی او) کے ذریعے صرف بااختیار بونڈڈ کیریئرز اورکسٹمز رُولز 2001 ء کے تحت لائنسنس حاصل کرنے والے ٹرانسپورٹ آپریٹرز ہی سامان کی ترسل کرسکیں گے ۔

علاوہ ازیں اس سی جی او کے تحت افغانستان بھجوانے والے سامان پر ایس آر او نمبری 413(I)/2012 کے ذریعے جاری کردہ ٹریکنگ اینڈ مانیٹرنگ آف کارگو رُولز2012 ء کا بھی مکمل اطلاق ہوگا اور انھیں رپولز کے تحت اس سامان کی مانیٹرنگ و چیکنگ کی جائے گی مذکورہ کسٹمز جنرل آرڈر میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کوبھجوائے جانے والے سامان کے باریمیں کراچی میں قائم امریکی قونصلیٹ کو30دن کے اندر اندر سامان کی ڈیلیوری کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا اس کے علاوہ کسٹمز جنرل آرڈر نمبر ایک کے تحت ٹرانزٹ سامان کی نقل و حمل کے لیے 31 جولائی 2012کو جاری کردہ کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 10 کی تمام شقوں کا بھی اس پر اطلاق

مقبول خبریں