نقصان کس نے پہنچایا آخری حصہ

بوکو حرام کے چنگل میں پھنسی ہوئی یہ مظلوم لڑکیاں بھی کسی نہ کسی دن امریکی ایجنٹ کہلائیں گی ۔۔۔


Zahida Hina May 18, 2014
[email protected]

اس درد ناک انسانی المیے کے سامنے آتے ہی امریکا، برطانیہ، فرانس، چین اور اسرائیل نے نائیجیریا کے صدر گڈلگ کو پیشکش کی کہ وہ ان لڑکیوں کا کھوج لگانے اور انھیں واپس لانے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس پیشکش کو نیم دلی سے سہی قبول کر لیا گیا اور اس گھنے جنگل پر امریکی ڈرونز پرواز کرنے لگے جہاں امکانی طور پر یہ لڑکیاں رکھی گئیں ہیں۔

کچھ برسوں پہلے تک نائیجیریا کی فوج کا شمار تربیت یافتہ افواج میں ہوتا تھا لیکن سیاسی معاملات میں بار بار کی فوجی مداخلت، رشوت ستانی، اقربا پروری اور ایسے ہی مسائل نے پانچ ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے باوجود فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہت نقصان پہنچایا اور اب یہ عالم ہے کہ فوجی افسران بوکو حرام کے دہشت گردوں کا سامنا کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس جدید اسلحہ نہیں اور اگر ہے تو اس کے استعمال کرنے کی تربیت کا فقدان ہے۔ فوج میں مسیحی اور مسلمان کی تقسیم ہے۔ مسیحیوں میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ، مسلمانوں میں شیعہ سنی اور سنیوں میں مالکی، شافعی اور سلفی ہیں۔ مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر یہ تقسیم بھی نائیجیریا کی افواج کی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوئی ہے۔

اس سے یہ ہرگز نہ سمجھیے گا کہ نائیجیریا ایک غریب ملک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے علاقے کا سب سے امیر ملک ہے۔ تیل اور معدنی وسائل سے مالا مال، 2013ء میں وہاں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور اس کی معیشت بوکو حرام کی کارروائیوں کے باوجود ابھی تک بہت مستحکم ہے۔ دنیا کے ادبی نقشے پر وہ ایک نمایاں مثبت مقام رکھتا ہے۔ 1986ء میں نائیجیریا کے ادیب ولے موسیوکا کو ادب کے نوبل انعام سے نوازا جا چکا ہے۔ اس نے نائیجیریا اور اردگرد کے ملکوں میں شدت پسندی اور قتل و غارت کو خصوصی طور سے نشانہ بنایا ہے۔

نائیجیریا کی اغوا ہونے والی ان لڑکیوں کے بارے میں یوں تو مغرب میں بہت کچھ اخباروں میں چھپ رہا ہے، ٹوئیٹر اور فیس بک پر پیغامات لکھے جا رہے ہیں لیکن ایک دانشور اور کالم نگار نکولس کرسٹوف نے بجا طور پر یہ سوال یہ اٹھایا ہے کہ بوکو حرام کے بزعم خود جہادی ہوں یا پاکستان میں ملالہ کو نشانہ بنانے والے، ہزاروں ااسکولوں کے برباد کرنے والے، انھیں ذہین اور پڑھی لکھی لڑکیوں سے کیوں خوف آتا ہے۔ کرسٹوف نے یوں تو بہت سے نکتے اٹھائے ہیں لیکن وہ سخت الفاظ میں سے مغربی دنیا بطور خاص امریکی صدر بارک اوباما پر تنقید کرتا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں کو ڈرونز سے ختم کرنا چاہتے ہیں اور اربوں ڈالر اس حکمت عملی کی نذر کر رہے ہیں لیکن وہ ان علاقوں میں جو دہشت گردی کا شکار ہیں وہاں تعلیم اور بطور خاص لڑکیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جس کی ان ملکوں اور ساری دنیا کو ضرورت ہے۔ اس نے بنگلہ دیش، عمان اور کئی دوسرے مسلمان ملکوں کی مثال دی ہے جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کو اولین ترجیح دی اور اس کے بہترین نتائج حاصل کیے۔

ان سطروں کے لکھے جانے سے کچھ پہلے، پہلی مرتبہ اغوا ہونے والی کچھ لڑکیوں کی سترہ منٹ کی ایک ویڈیو جاری کی تو ان میں سے ہر لڑکی مکمل حجاب میں تھی۔ اس ویڈیو میں شیخائو نے اعلان کیا کہ ان لڑکیوں کو اسی صورت آزاد کیا جا سکتا ہے جب ان کے ساتھیوں کو حکومت رہا کرے جو مختلف جیلوں میں ہیں۔ شیخائو نے یہ بھی کہا کہ جن لڑکیوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا، ہم انھیں آزاد نہیں کریں گے۔ وہ ہماری باندیاں ہیں اور ہم ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جس کا ہمیں حکم ہے۔ یاد رہے کہ اغوا ہونے والیوں میں سے بہت سی لڑکیاں مسلمان ہیں۔

باندیاں بنانے کی یہ مہم کتنی کامیاب ہو گی اور کتنی لڑکیاں اس بھیانک چنگل سے آزاد ہو سکیں گی؟ ہم نہیں جانتے، لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ ہمیں اپنی اپنی حکومتوں پر یہ دبائو بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ شدت پسندوں کا مقابلہ ڈرونز اور کارپٹ بامبنگ سے نہیں بلکہ لڑکیوں اور لڑکوں کی تعلیم سے کریں کیونکہ ایک پڑھا لکھا سماج ہی انتہا پسندوں اور تاریخ کے تاریک دور میں رہنے والوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

نائیجیریا چونکہ نصف مسلمان اور نصف مسیحی آبادی میں تقسیم ہے، اسی لیے وہاں باری باری مسلمان اور مسیحی صدر ہوتے ہیں۔ اس وقت صدر گڈلک پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر شدید دبائو ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں، جب کہ صدر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ان لڑکیوں کو بہ حفاظت واپس لانے کی اپنی سی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ شیخاؤ کی اس پیشکش کو قبول کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں کہ ان لڑکیوں کا بوکو حرام کے ان قیدیوں سے تبادلہ کر لیا جائے جو اس وقت نائیجیریا کی جیلوں میں موجود ہیں۔

ٹیلی وژن پر قید لڑکیوں کی ویڈیو دکھائی گئی تو اس نے اغوا ہونے والی لڑکیوں کے والدین کو بے حد مشتعل کر دیا اور انھوں نے قریبی دیہاتوں کے نوجوانوں اور مردوں پر مشتمل ایک رضاکار دستہ ترتیب دے دیا۔ ان رضاکاروں نے بوکو حر۱م کے کئی ٹرکوں پر حملہ کر کے 10 سے زیادہ شدت پسند قید کر لیے اور درجنوں کو ہلاک کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہماری فوج اس قومی المیے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

نائیجیریا والوں کو اس کے ساتھ ہی اس بات کا بھی خوف ہے کہ ان مظلوم لڑکیوں کو آزاد کرنے کے بہانے کہیں امریکا اور مغرب کے دوسرے ملک ان کی سرزمین پر پنجے نہ گاڑ دیں۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس سے ہم بھی دوچار ہتے ہیں۔ پولیو پھیلانے کی سزا میں ہم پر بین الاقوامی سفر کے حوالے سے پابندیاں عائد ہوں اور حکومت پولیو کے قطرے پلانے پر اصرار کرے تو اسے بھی امریکی سازش قرار دیا جاتا ہے اور کچھ لوگ اس کا تعلق اسامہ بن لادن کے قتل سے جوڑتے ہیں۔ ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہوا، وہ سابق صدر زرداری، اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت اور بین الاقوامی برادری کی گہری دلچسپی کے سبب جاں بر ہوئی اور اب دنیا کے مختلف شہرت یافتہ اداروں میں ہماری نمائندگی کرتی ہے تو وہ بھی امریکی ایجنٹ کہلاتی ہے، یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس پر ہونے والا حملہ محض ایک 'ڈراما' تھا۔

اس تناظر میں دیکھیے تو بوکو حرام کے چنگل میں پھنسی ہوئی یہ مظلوم لڑکیاں بھی کسی نہ کسی دن امریکی ایجنٹ کہلائیں گی اور ان کا اغوا امریکی ڈرونز کی پروازوں کے لیے کیا جانے والا ڈراما قرار دیا جائے گا۔ 1960ء میں نائیجیریا جب آزاد ہوا تو وہاں بے روزگاری اب سے بہت کم تھی۔ اس وقت وہاں کی 60 فیصد سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان بھیانک اعداد و شمار کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے کہ وہاں لوگوں میں غصہ اور نفرت کس انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ مشکل یہ ہے کہ اس غصے اور نفرت کو تعلیم اور ہنر مندی سے کم کیا جا سکتا ہے لیکن اسی پر قدغن اور بندشیں ہیں۔

15 اپریل کو جو لڑکیاں اغوا کی گئی تھیں، ان میں سے تقریباً 50 لڑکیاں رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر بوکو حرام کے لڑاکوں سے بچ نکلیں۔ گھنے جنگل اور اجنبی کچے راستوں سے گزرتی ہوئی یہ لڑکیاں اپنے گھروں کو پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں اور اس وقت وہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔

ہمارے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپنے علاقے کی غربت اور جہالت کو ختم کرنے کی کوششوں کے بجائے اپنے مسلک کو سب پر مسلط کرنے کا جو انتہاپسندانہ راستہ اختیار کیا گیا، اس سے نائیجیریا کے مسلمانوں کو فائدہ پہنچا یا نقصان؟ کل اگر اسی بہانے امریکا، یورپ اور چین اس علاقے میں اپنا اثر و نفوذ قائم کر لیں تو اس میں نقصان کس کا ہوگا؟ مذہبی انتہاپسندی سے نمٹنے کے ضمن میں مسلمان ملکوں کو اجتماعی طور پر کوئی مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا لیکن او آئی سی کے ایک نیم دلانہ بیان کے سوا ابھی تک اس سلسلے میں کوئی مستحکم نقطہ نظر نہیں اختیار کیا گیا ہے جس سے دنیا کے تمام مسلمان رہنمائی حاصل کر سکیں۔

مقبول خبریں