وہاں 16 اور یہاں 1 بار
پیپلز پارٹی کے بارے میں نتائج بتارہے تھے کہ اسے سندھ میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کامیابی ملے گی
ہندوستان کے عام انتخابات کے نتائج وہی سامنے آئے جن کی توقع کی جارہی تھی۔ تاہم، ان لوگوں کے لیے یہ نتائج غیر متوقع بھی تھے جن کا خیال تھا کہ بی جے پی کانگریس کے مقابلے میں زیادہ نشستیں ضرور حاصل کرے گی لیکن اسے لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سادہ اکثریت نہیں مل سکے گی، اسے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک مخلوط حکومت تشکیل دینی پڑے گی اور نریندر مودی وہ کچھ نہیں کرپائیں گے جس کا وعدہ وہ ہندوستانی عوام سے کرتے چلے آئے ہیں۔
ہمارے ملک میں عموماً ذاتی اور سیاسی پسند اور ناپسند کے پس منظر میں قیاس آرائیاں یا پیش گوئیاں کی جاتی ہیں۔ جدید ترین خطوط پر جو سروے کیے جاتے ہیں ہم انھیں صرف اسی وقت قبول کرتے ہیں جب وہ ہماری پسندیدہ سیاسی جماعت کے حق میں ہوتے ہیں بہ صور ت دیگر معتبر عالمی اداروں تک کے انتخابی جائزوں کو ہم جعلی، جانب دار اور اسپانسرڈ قرار دے دیتے ہیں۔ 2013کے عام انتخابات سے پہلے بہترین ساکھ اور تجربہ رکھنے والے ملکی اوربین الاقوامی اداروں کی جانب سے جو انتخابی سروے کیے گئے ۔ ان میں یہ بتایا گیا تھا کہ عام انتخابات میں نواز شریف کی مسلم لیگ دیگر جماعتوں پر سبقت حاصل کرے گی، اسے صوبہ پنجاب میں بھاری اکثریت ملے گی۔
پیپلز پارٹی کے بارے میں نتائج بتارہے تھے کہ اسے سندھ میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کامیابی ملے گی اور مسلم لیگ نواز سندھ میں پی پی پی کا مقابلہ نہیں کر پائے گی۔ 2013 کے عام انتخابات سے پہلے رائے عامہ اور ووٹروں کے رجحانات کا اندازہ لگانے کے لیے جتنے بھی سروے سامنے آئے ان سب میں یہ کہا گیا کہ عمران خان کی پی ٹی آئی خیبر پختونخوا اور ایم کیو ایم سندھ کے بڑے شہروں میں زیادہ نشستیں حاصل کرے گی جب کہ بلوچستان میں نتائج ملے جلے رہیں گے اور وہاں کسی بھی سیاسی جماعت کو بڑی کامیابی نہیں ملے گی۔ 2013کے انتخابی نتائج رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق آئے، فرق صرف یہ ہوا کہ مسلم لیگ نواز کو سادہ اکثریت باآسانی مل گئی جس کی زیادہ توقع نہیں کی جارہی تھی۔
ہندوستان کے حالیہ انتخابات میں بھی کم و بیش ایسی ہی صورت حال رہی۔ بی جے پی کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ کانگریس کے مقابلے میں زیادہ نشستیں لے گی لیکن عملاً یہ ہوا کہ اس نے لوک سبھا میں سادہ اکثریت بھی حاصل کرلی۔ جس طرح پاکستان کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنی خراب معاشی کارکردگی اور ناقص انتظامی کار گزاری کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوگی ویسا ہی ہندوستان میں کانگریس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈل، بدتر معاشی کارکردگی اور بدترین طرز حکمرانی جیسے عوامل اس کی شکست کی اہم وجہ بنیں گے۔ انتخابی نتائج توقعات کے عین مطابق آئے ۔ لوک سبھا میں کانگریس کا ویسے ہی صفایا ہوگیا جس طرح پاکستان کی قومی اسمبلی میں پی پی پی کا ہوا۔
کانگریس کو 44 نشستیں ملیں، حسن اتفاق دیکھئے کہ پاکستان پی پی پی کی حاصل کردہ نشستوں کی تعداد بھی 44 ہے ۔ انتخابات کے دوران ہندوستان کے ٹی وی چینل، اخبارات اور سوشل میڈیا پر عام آدمی پارٹی اور اس کے سربراہ کیجری وال کی بھی وہی دھوم تھی جو 2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی اور اس کے چیئرمین عمران خان کی ہوا کرتی تھی۔ عام آدمی پارٹی کے بارے میں میڈیا کچھ اور تصویر دکھا رہا تھا جب کہ انتخابی جائزے کچھ اور کہہ رہے تھے ۔ انتخابی جائزوں کے مطابق انھیں بی جے پی کے مقابلے میں خاص کامیابی ملنے کے امکانات نہیں تھے۔ تاہم میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا انھیں کانگریس اور بی جے پی دونوں کا سیاسی متبادل قرار دے رہا تھا۔
حالیہ لوک سبھا انتخابات میں عام آدمی پارٹی اور اس کے لیڈر کیجری وال کا بہت برا حشر ہوا ۔ موصوف دو نشستوں سے کھڑے ہوئے جہاں انھیں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔ ان کی جماعت نے ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں نشستوں سے امیدوار میدان میں اتارے تھے ۔ ان میں سے صرف 5 کو کامیابی مل پائی ، زیادہ تر اپنی ضمانت بھی ضبط کروا بیٹھے ۔ پاکستان میں عمران خان کے بارے میں بھی اخبارات، ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا میں یہ مہم چلائی گئی کہ پاکستان کے عوام پی پی پی اور مسلم لیگ نواز سے تنگ آچکے ہیں ، ان دونوں سیاسی جماعتوں نے بار بار اقتدار میں آنے کے باوجود عوام کے لیے کچھ نہیں کیا، ان کے لیڈر بدعنوان اور لیٹرے ہیں لہٰذا پاکستان کے عوام کی نظر میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی اور متبادل دستیاب نہیں ہے۔
یہاں بھی میڈیا کے تاثرات اور معتبر انتخابی جائزوں کے نتائج مختلف تھے۔ عمران کی جماعت خیبر پختونخوا میں سادہ اکثریت بھی نہیں لے سکی البتہ نواز شریف کی حکمت عملی کے باعث اس صوبے میں پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت قائم ضرور ہوگئی ۔ عمران خان نے ابتداء میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیجریوال جیسی بھیانک غلطی کرتے ہوئے لاہور کے ایک حلقے سے میاں نواز شریف کے مقابلے میں انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تھا ۔ وہ خوش قسمت تھے کہ انھیں چند جہاندیدہ سیاست دانوں کی حمایت تھی جنہوں نے ان کو اس اقدام سے باز رہنے کا صائب مشورہ دیا ۔ ورنہ ان سے بھی کیجریوال جیسی فاش غلطی ہوجاتی جنہوں نے بنارس کے ایک حلقے سے نریندر مودی کے خلاف انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا جو ان کے لیے سیاسی طور پر جان لیوا ثابت ہوا ۔
ہندوستان میں ایک جمہوری آئین کے تحت منعقد ہونے والے یہ سولہویں عام انتخابات تھے ۔ ہندوستان کی سیاسی جماعتوں، بڑے رہنمائوں اور کارکنوں میں طویل تجربے کے بعد شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے ۔ ہماری 67 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جمہوری حکومت نے عام انتخابات کے بعداقتدار دوسری کامیاب سیاسی جماعت کو منتقل کیا ہے۔ جو عمل ہمارے پڑوسی ملک میں 16 بار ہوا ہے وہ عمل ہمارے ملک میں ایک بار ہوا ہے اس لیے ہمارے سیاسی ماحول میں صبر، ضبط اور تحمل کی کمی ہے۔
سیاسی کارکن معمولی تنقید پر سیخ پا ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ خود کو قومی رہنما سمجھنے والے سیاست دان بھی ذرا سی بات پر جذباتی ہیجان میں مبتلا ہوکر پرانے دور کے کسی طالب علم رہنما کی طرح کف در دہن ہوجاتے ہیں ۔ ہمیں جمہوری ملکوں کے تجربوں سے سیکھنا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر تجربہ خود کیا جائے ۔ ہم اور ہمارا پڑوسی ملک ایک ساتھ آزاد ہوئے ۔ وہ آج کہاں ہے اور ہماری کیفیت کیا ہے؟ اس مسئلے پر بار بار سوچنے کی ضرورت ہے۔ حقائق سے نظریں چرانے سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے جو ہم مسلسل اٹھا رہے ہیں ۔
آج ہمارا پڑوسی ملک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن رہا ہے تو اس کے اسباب ہیں ۔ اس ملک کے رہنمائوں اور بانیوں نے چند اصول طے کیے اور پھر ان پر عمل کرنے کا عہد کیا ۔ پہلا اصول یہ طے پایا کہ ملک کو ایک وفاقی جمہوری آئین کے تحت چلایا جائے گا ۔ جناح کے پسندیدہ اچھوت رہنما ڈاکٹر امبیدکر کو آئینی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا، اس کمیٹی نے آزادی کے محض دو سال بعد ایک ایسا آئین تیار کیا جس نے ان گنت قومیتوں، زبانوں، بولیوں، مسلکوں، ذاتوں، مذہبوں، ثقافتوں اور معاشرتوں پر مشتمل ایک غریب ترین نو آزاد ملک کو نہ صرف متحد رکھا بلکہ جمہوری عمل کے ذریعے اس کے عوام کو ایک لڑی میں پرو دیا۔
تسلیم کیا جانا چاہیے کہ یہ کام ہم 1973 تک نہیں کرپائے۔ جب یہ ''کارنامہ'' ہم نے سر انجام دیا تو اس کے بعد اس آئین کا تقدس بار بار پامال کیا ۔ نتیجہ سامنے ہے ۔ ملک دو لخت ہوگیا اور آج بھی ہم نسلی، لسانی، مذہبی اور مسلکی نفرتوں کے جہنم میں جل رہے ہیں ۔ ہمارے پڑوسی نے دوسرا اصول یہ طے کیا کہ آئین اور قانون کے راستے کو کسی بھی قیمت پرنہیں چھوڑا جائے گا ۔ عام شہری اور طاقت ور ترین فرد قانون کے سامنے برابر ہوگا اور اپنے اعمال کا جواب دہ ہوگا ۔ ہم نے آئین اور قانون کو طاقت وروں اور غاصبوں کا غلام بنائے رکھا لہٰذا ہر طرف انتشار ہی انتشار ہے۔
پڑوسی ملک نے یہ اصول اپنایا کہ کسی بھی عالمی طاقت کا دم چھلہ نہیں بنا جائے گااور غیر وابستہ خارجہ پالیسی پرعمل کرتے ہوئے مشرق اور مغرب دونوں سے فائدے حاصل کیے جائیں گے ۔ اس حوالے سے ہماری ابتداء ہی غلط تھی ۔ ہم نے خطے کے ملکوں اور سوشلسٹ بلاک سے دشمنی مول لی، امریکا کے قدموں میں جا بیٹھے جس نے سرد جنگ میں ہمیں خوب استعمال کیا، ہم نے دوسروںکی جنگ کے لیے اپنی سرزمین خود پیش کی اور سب کے طعنے بھی سنے ۔
2014کے عام انتخابات کے نتیجے میں ہندوستان اور اس کی جمہوریت نے مہذب دنیا میں ایک قدم آگے بڑھایا ہے اسی طرح 2013 کے انتخابات کے ذریعے پاکستان نے بھی جمہوری شاہراہ کا ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ وہاں عوام جشن منارہے ہیں اور یہاں کچھ لوگ ماتم کناں ہیں ۔ یہ رویوں کے درمیان ایک بھیانک فرق ہے ۔ دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے ہمیں اس فرق کو ختم کرنا ہوگا۔