ہماری فوج زندہ باد
ہماری فوج کو بدمعاش فوج کہا جا رہا ہے اور یہی وہ بات ہے جو طارق عظیم کی برداشت سے بھی باہر تھی
پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر جنگ و جدل کا سلسلہ جاری رہتا ہی ہے۔ ٹی وی کے ایک پروگرام میں ایک پاکستانی سیاستدان کو دیکھ کر بہت کچھ یاد آ گیا اور یہ سیاستدان ان دنوں بہت مضطرب اور غصے میں تھا۔ ایک شام یہ اس حال میں آیا کہ برطانوی اخبارات اس کی بغل میں تھے اور زبان پر نہ جانے کیا کیا تھا۔ یہ لندن کی ایک شام تھی اور یہ پاکستانی کاروباری شخصیت طارق عظیم ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ پا رہا تھا۔
بے چینی کے عالم میں یہ بار بار جگہ بدلتا اور میری اس درویشانہ بیٹھک میں بقول مصحفیؔ کبھی اس سے بات کرتا کبھی اس سے بات کرتا مگر اس کے دل کا غصہ اور بے کلی بڑھتی ہی جاتی۔ بالآخر اس نے بغل میں سے برطانیہ کے ایک معروف اخبار کا ورق کھولا۔ اس ورق پر ایک بڑا اشتہار تھا جس میں پاکستانی فوج کو بدمعاش فوج کہا گیا تھا جو اس کے لیے ناقابل برداشت تھا پھر اس نے تفصیل کے ساتھ اس اشتہار کا پس منظر بیان کیا کہ بھارت نے کس پروگرام کے تحت یہ اشتہار چھپوایا ہے۔
ان دنوں بھارت پاکستان آرمی کے خلاف ایک نیا محاذ کھل چکا تھا اور طارق عظیم اس اشتہار کا جواب اشتہار میں ہی دینا چاہتا تھا مگر اس بے حد مہنگے اشتہار کی قیمت کہاں سے آتی۔ اسے معلوم تھا کہ وہ اس وقت جن لوگوں کے سامنے بے چین ہے وہ اس کی کوئی مالی مدد نہیں کر سکتے چنانچہ وہ کھانا کھائے بغیر چلا گیا اور پھر ہم نے دیکھا کہ جوابی مہم شروع ہو گئی۔ طارق نے کیا کیا یہ ہمیں معلوم نہیں کیونکہ وہ خود اس قدر مالی طاقت نہیں رکھتا تھا صرف پاکستان سے محبت کا ایک جذبہ تھا اور بس۔ بہرکیف اس کی حب الوطنی نے کوئی راستہ نکال لیا اور اس متوسط پاکستانی نے بھارتی کمبخت کو خاموش کر دیا۔
راولپنڈی کے طارق عظیم کے ساتھ میرا تعارف تو پہلے سے تھا لیکن اس پاکستانی کی حب الوطنی نے ایک ایسا بے لوث رشتہ قائم کر دیا جو اب تک باقی ہے۔ یہاں پاکستان آنے کے بعد وہ ن لیگ کے وزیر بھی رہے لیکن میرے لیے وہ بھارت سے دو دو ہاتھ کرنے والے طارق عظیم ہی رہے۔ ان دنوں وہ وزیر نہیں لیکن اب بھی وہ میرے طارقعظیم ہیں جو ان دنوں بھارت کی بدلتی ہوئی صورت حال میں جہاں بھی ہیں بے تاب ہیں۔ وہ پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک مستقل طارق عظیم ہیں جو بے چینی کے عالم میں بھات کے ساتھ اپنا حساب کتاب صاف کرنے پر تیار رہتے ہیں اور یہی وہ تیاری ہے جو پاکستانی کو پکڑنی چاہیے ورنہ بقول ڈاکٹر عبدالقدیر خان راجہ بازار میں دھوتیاں لہرا رہی ہوں گی۔
میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے غیر مشروط نیاز مندی کے باوجود ان کی بعض پالیسیوں کی وجہ سے خوش نہیں ہوں لیکن آج ہر پاکستانی کو وہ جہاں بھی ہو قدیر خان کو جھک کر سلام کرنا چاہیے کیونکہ اطمینان کے جو لمحے ان دنوں اس قوم کو نصیب ہیں وہ ڈاکٹر صاحب کی حب الوطنی کا ثمر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے میں بہت لکھا جا چکا ہے لیکن جب بھی بھارت کا ذکر آئے گا تو پاکستانی قوم اٹھ کر اور سر جھکا کر ڈاکٹر صاحب کو سلام کرے گی۔ شاید ہی کوئی قوم ہو جس پر اس کے کسی شہری نے اتنا بڑا احسان کیا اور بے ساختہ محسن قوم کہلایا ہو۔
ڈاکٹر صاحب کا احسان بہت بڑا ہے لیکن ان کی اس پاکستانی محبت سے کہیں کہیں اور پھر لاتعداد چراغ روشن ہوتے ہیں۔ ایک تو وہی ہے جس کا ذکر میں نے شروع میں کیا ہے کتنے ہی پاکستانی ہیں جو ڈاکٹر صاحب کی عقیدت اور پیار میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی ٹیم کے کئی ارکان سے میرا جذباتی تعلق رہا ہے ان میں سے کوئی کہیں کا تھا کوئی کہیں کا۔ ڈاکٹر صاحب خود بھوپال کے تھے لیکن ان کے ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد ملک بھر سے تعلق رکھتی تھی۔ ان کی بیگم بھی غیر ملکی تھیں لیکن ان کی عظیم شخصیت صرف پاکستانی تھی۔
وہ کسمپرسی کی حالت میں مہاجر بن کر آئے لیکن ایسے ارادوں کے ساتھ کہ انھوں نے اپنے اس نئے ملک کو چار چاند لگا دیے اور پوری زندگی اس ملک کی خدمت کے لیے وقف کر دی ان کے ساتھ زیادتیاں بھی ہوئیں لیکن جب تک ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم رہا حکم تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی فرمائش بلا تعطل پوری کی جائے۔ جناب غلام اسحاق سیکریٹری تھے اور ڈاکٹر صاحب کی ہر فرمائش فوراً پوری کر دی جاتی تھی۔ اس پٹھان نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ورنہ اس وقت جو افسر شاہی تھی اس نے ڈاکٹر صاحب کے کام کو روکنے کی بہت کوشش کی۔
یہ تو وہ زمانہ تھا جب بھٹو صاحب نے عزم کر رکھا تھا کہ وہ ایٹم بم بنا کر رہیں گے لیکن بعد میں بھی جہاں تک ایٹمی پروگرام کا تعلق تھا کسی نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ یہ پروگرام تو گویا پاکستان کی بقا کا پروگرام بن گیا اور جب ہمارے دشمنوں نے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی تو عام پاکستانی بھی اپنی طاقت سے بڑھ کر ڈٹ گئے کیونکہ یہ فوج پاکستان کی فوج ہے بھارت کی نہیں اور اسی فوج نے بھارت کو اس کی اوقات میں رکھا ہوا ہے اور خدا کا شکر ہے کہ پوری قوم آج بھی پاکستان کی فوج کے ساتھ ہے اور ان دنوں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک بھر میں فوج کی حمایت میں کیا ہو رہا ہے۔
دوسرے الفاظ میں ہماری فوج کو بدمعاش فوج کہا جا رہا ہے اور یہی وہ بات ہے جو طارق عظیم کی برداشت سے بھی باہر تھی اور کسی بھی پاکستانی کی برداشت سے باہر ہے اور ہر پاکستانی کی برداشت سے باہر ہی رہے گی۔ وجہ بڑی واضح ہے کہ بھارت کو خوب معلوم ہے کہ اس کا ہاتھ ہماری فوج ہی روک سکتی ہے اور یہ بات ہر پاکستانی کو بھی معلوم ہے کہ ہمیں دشمن سے کون بچا سکتا ہے۔ ہماری فوج زندہ باد۔