وزارت پٹرولیم گیس چوری روکنے کیلیے مضبوط نظام وضع کرے پی اے سی

وزارت مذہبی امورکو19حج کمپنیوں کی دستاویزات کی3آڈٹ فرموں سے ازسرنوجائزہ لینے کی ہدایت


Numaindgan Express May 21, 2014
وزارت مذہبی امورکو19حج کمپنیوں کی دستاویزات کی3آڈٹ فرموں سے ازسرنوجائزہ لینے کی ہدایت

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے وزارت پانی و بجلی کے مالی سال 1998-99 کے آڈٹ اعتراضات کونمٹادیاجبکہ سابق ایم ڈی پی ایس او کیخلاف انکوائری کے بعدان کی 3 انکریمنٹس روک لی گئیں۔

پی اے سی کی ذیلی کمیٹیوں کے الگ الگ اجلاس کنونیئرسید نوید قمر اورشفقت محمود کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئے، نوید قمر نے کہاکہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سرکاری ملازمین کے مرنے یاریٹائرڈہونے کے بعدانکوائری کی جاتی ہے،پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے وزارت پٹرولیم کوگیس چوری روکنے اور نقصانات کم کرنے کیلیے مضبوط نظام وضع کرنے کی ہدایت کی ہے اورمختلف آڈٹ اعتراضات پرنیب کی جانب سے انکوائری رپورٹ نہ دینے پربرہمی کااظہارکیاہے،رکن کمیٹی راجا جاویداخلاص نے ایم ڈی نیسپاک سے استفسارکیاکہ کیا میٹروبس منصوبے سے سی ڈی اے کے ماسٹرپلان میں تبدیلی آئی ہے اورلاگت کتنی ہوگی؟

ایم ڈی نیسپاک نے کہاکہ سی ڈی اے کااپنامیٹروبس کامنصوبہ تھامگروہ منصوبہ ایک سیکٹرسے دوسرے سیکٹرتک کیلیے تھا،یہ ہمارامنصوبہ ہے میٹروبس منصوبے پر30 سے 32 ارب روپے لاگت آئیگی،کمیٹی نے 2 ہزار 4 میں پی ایس اوکے شیئرز 71.4فیصد سے کم ہوکر67 فیصد ہو جانے کے معاملے کونمٹادیا،سیکریٹری پٹرولیم نے بتایاکہ سینڈک منصوبے کاچینی کمپنی کیساتھ معاہدہ 2017 میںختم ہو جائیگاجسکے بعدسینڈک بلوچستان کومل جائیگا، ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران نے فاٹا میں اقلیتی عوام کیساتھ غیرمناسب سلوک پربرہمی کااظہارکیاہے،کمیٹی اراکین نے مطالبہ کیاکہ اقلیتی عوام کو قبائلی علاقوںمیںتحفظ اورمساویانہ حقوق فراہم کیے جائیں ، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کااجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرصالح شاہ کی سربراہی میں ہوا۔

فرح عاقل نے کہاکہ قبائلی علاقوں میں اقلیتی برادری کے لوگوں کیساتھ ناررواسلوک کیاجارہاہے، کوٹے پرکوئی عملدرآمدنہیں ہورہا، وفاقی وزیرسیفران جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ نے کہاکہ ڈومیسائل اورسرٹیفکیٹ صوبائی مسائل ہیں،ان کاوفاق سے کوئی تعلق نہیں،انتظامیہ کی جانب سے اقلیتی برادری کیساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہیے،کمیٹی اراکین نے سفارش کی کہ فاٹاکے عوام کوترجیحی بنیاد پرگیس کمپنیوںمیں ملازمتیںدی جائیں،شمالی وزیرستان میں خاصہ داروں کی تنخواہوں کی ادائیگی کووزارت یقینی بنائے۔دریں اثنا قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے مذہبی امورنے وزارت حکام کوہدایت کی کہ گزشتہ سال جن19 حج کمپنیوں کوکوٹا الاٹ کیاگیاان کے دستاویزات کادوبارہ 3 آڈٹ فرموں سے ازسرنوجائزہ لیا جائے اوران کمپنیوں کافیصلہ خالصتاًمیرٹ پرکیا جائے۔

کمیٹی کے چیئرمین عمران شاہ نے کہاہے کہ وزارت حکام کمیٹی کے 5 جون کوہونے والے اجلاس میں4ٹرفرموں کی نظرثانی کے بعدمیرٹ پرپورااترنے والی100 حج کمپنیوںکی لسٹ بھی کمیٹی ارکان کوفراہم کریں۔ادھرآن لائن کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعدوضوابط نے وفاقی دارالحکومت میں E-12سیکٹر کوڈیولپمنٹ کرنے کی تاخیرکے حوالے سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس میں ترقیاتی کام جلدشروع کیے جائیں جبکہ کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے کی اجلاس میں عدم شرکت پربرہمی کااظہار کیا،وزیرمملکت شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے سی ڈی اے کاحال بھی پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل مل جیسا کردیاہے،وہ زبوں حالی کا شکارہیں،رکن کمیٹی شفقت محمود نے کہا کہ میٹرو بس کے نام پرگرین ایریاکوتباہ کیاجارہاہے۔

کمیٹی اجلاس چیئرمین افضل کھوکھرکی زیرصدارت ہوا ،وزیرمملکت شیخ آفتاب احمد نے کہاکہ حکومت ترقیاتی کاموں پرخصوصی توجہ دے رہی ہے،ماضی میں التوا شدہ منصوبوں کو تکمیل کررہے ہیں۔اے پی پی کے مطابق قو می اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین سراج محمد خان نے کہاہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس میں چیئرمین کی تقرری اوربورڈ آف ڈائریکٹرزکے معاملے میں ممبران کے تجربے اورمشاورت سے تعیناتی کی جائے تواس سے اچھے اور قابل لوگوں کاانتخاب عمل میں لایا جاسکتاہے،کراچی میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اسٹینڈنگ کمیٹی اسٹیٹ لائف کے مسائل کو حل کرے گی اورجوبھی معاملات ہیں انھیں قومی اسمبلی سے بھی حل کرائے جائیں گے۔

مقبول خبریں