قومی اضطراب

آج جو خبریں ہیں وہ تو زیادہ تر برصغیر پاک و ہند سے متعلق ہیں بلکہ یوں کہیں کہ ہم سے متعلق ہیں ۔۔۔


Abdul Qadir Hassan May 21, 2014
[email protected]

آج کی دنیا میں اضطراب کہاں نہیں اور شاید سب سے زیادہ میرے دل میں ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ موضوع قلم سے پھسل جاتا ہے اور میں ادھورا رہ جاتا ہوں مگر فی الحال میں ایک عوامی مسئلے کی بات کرتا ہوں جو ایک پردیسی مسئلہ ہے مگر ناروے سے جن لوگوں نے فون پر بار بار اصرار کیا ہے اس سے ان کے اضطراب کا اندازہ ہوتا ہے۔ پاسپورٹ جدید دور کی ایک ناگزیر ضرورت ہے اور اس کی تیاری کے لیے نئی نئی مشینیں ایجاد ہو گئی ہیں۔

ایک جدید مشین اوسلو میں بھی رکھ دی گئی ہے لیکن یہ صرف مشین ہے اس کو چلانے کے لیے جن لوگوں کی ضرورت ہے وہ اسلام آباد سے یہاں نہیں پہنچے چنانچہ یہاں کے پاکستانیوں کو پاسپورٹ کے لیے پڑوسی ملک جانا پڑتا ہے جس کے پاکستانی دفتر میں یہ مشین اور اسے چلانے والے موجود ہیں۔ رات وہیں آ جاتی ہے اور خواہ مخواہ خرچ کرنا پڑ جاتا ہے۔ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے، اسلام آباد کے متعلقہ دفتر میں غالباً یہ جنگ جاری ہے کہ اس غیر ملکی کام پر کون جائے اور کس کا مال بن سکے اس لیے ناروے والے پاکستانی صبر کریں اور اس بات کا دھیان رکھیں کہ جب کوئی پاکستانی اپنی ڈیوٹی پر جائے تو وہ یہ رپورٹ نہ دے کہ یہ مشین پڑے پڑے خراب ہو گئی ہے اس لیے اس کی مرمت ہوگی یا نئی آئے گی اور یوں پاکستانی پڑوسی ملک سویڈن کی سیر کرتے رہیں گے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمارے ہاں یہ ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا۔ ہم پاکستانیوں کو ذہنی طور پر اس کے لیے تیار رہنا چاہیے اگر ہم ایٹم بم جیسے زندگی بچانے والے آلے کی تیاری میں لاپرواہی کر سکتے ہیں تو یہ پاسپورٹ وغیرہ تو عام سی بات ہے، میں نے کل پرسوں بھی ذکر کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اپنی افسر شاہی کا کس دکھ کے ساتھ ذکر کرتے ہیں کہ اگر بھٹو ایٹم بم کی تیاری پر بضد نہ ہوتا تو ہم آج ایٹمی طاقت نہ ہوتے بھارت کا ایک صوبہ ہوتے اور مودی کی حکومت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں زندگی بسر کر رہے ہوتے۔

میں نے شروع میں اضطراب کا ذکر کیا تھا کہ یہ کہاں نہیں ہے اب پاکستانی غور فرمائیں کہ جس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ میڈیا ہو اس میں اضطراب نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا۔ میڈیا کا یہ مسئلہ ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے یعنی ایک تبلیغی ادارہ جس کا اصل کام عوام کو معلومات فراہم کرنا اور قوم کو صحیح صورت حال سے آگاہ رکھنا اگر اپنا اصلی فرض بھول جائے تو پھر یہی ہو گا جو ہو رہا ہے، جس ادارے کے لوگوں پر یہ واضح نہ ہوکہ انھیں کیا کہنا ہے اور کیا وہ ایک آزاد اور اسلامی جمہوریہ کے ادارے ہیں تو پھر ان کو یہ بنیادی بات کون یاد دلائے۔ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے اور اس کی رہنمائی کے لیے حکومت نے ایک ادارہ قائم کر رکھا ہے۔

پیمرا کے نام سے آج یہی ادارہ اپنے سرکاری اور غیر سرکاری اراکین کی وجہ سے اضطراب میں ہے اوراس سے کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا۔ جب صحافت شروع کی تھی یعنی میڈیا میں آئے تھے تو یہ صحافی کے دل کے اندر ایک پیمرا موجود تھا، یہ وہ ضمیر تھا جو قلم کے ساتھ جاگتا رہتا تھا اور قدم قدم اور لفظ لفظ پر رہنمائی کرتا تھا۔ ایک بار مجھ سے کوئی بڑی غلطی ہو گئی اور کاپی جب نیوز ایڈیٹر ذکریا ساجد کے پاس پہنچی تو انھوں نے غیض و غضب کے عالم میں مجھے طلب کیا اور بتایا کہ ہماری ذمے داریاں کیا ہیں ہمیں معاشرے کو پرامن بنانا ہے، لیڈروں کو لڑانا نہیں ہے۔ یہ لیڈر تو اپنی لیڈری کے لیے کچھ بھی کر گزرنے پر تیار ہو سکتے ہیں۔ یہ ہمارا کام ہے کہ ان کی نامناسب باتیں حذف کر دیا کریں۔

میری یہ خبر تو نیوز ایڈیٹر نے مسترد کر دی لیکن ایک لیڈر تک جب یہ خبر پہنچی کہ اس کی بات حذف کر دی گئی ہے تو وہ ناراض ہو گئے مگر ان کے پاس اس ناراضگی کا جواز نہیں تھا۔ یہ موچی دروازے اور قریب کے دلی دروازے کے دو جلوس کی رپورٹ تھی جس میں مخالف لیڈروں نے زور خطابت خوب استعمال کیا اور یہی ان کا مقصد تھا بس ہم نے یہ زور خطابت ختم کر دیا اگرچہ دونوں جلسے ناکام ہو گئے مگر قوم ایک اضطراب سے بچ گئی۔ آج بھی اگر ہمارا میڈیا دست احتیاط سے کام لے تو کئی تنازعے ختم ہو سکتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کون کس کا مخالف ہے ان کی زبان کو اگر ہم نرم کر دیں تو قوم ایک چھوٹے موٹے اضطراب سے بچ جائے۔

آج جو خبریں ہیں وہ تو زیادہ تر برصغیر پاک و ہند سے متعلق ہیں بلکہ یوں کہیں کہ ہم سے متعلق ہیں۔ ہم ان خبروں کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن ایک بڑی خبر جو بہر حال چھپ گئی ہے ہمارے قومی رہنمائوں کے بیرون ملک اثاثوں کے بارے میں ہے عدالت نے ان لوگوں کا نوٹس لیا ہے جو 26 سیاستدانوں اور 37 افسروں کے بارے میں ہے۔ یہ وہ خبر ہے جس کا پوری قوم کو مدت سے انتظار تھا لیکن کیا یہ خبر بار آور ثابت ہوگی یا اخباروں کی سرخیوں میں ہی رہ جائے گی۔

اس خبر سے چونکہ ہماری عدلیہ بھی متعلق ہے اس لیے یہ خبر بے نتیجہ نہیں جائے گی۔ ادھر کچھ عرصہ سے ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ اگر قومی دولت کچھ لوگ لوٹ کر باہر لے گئے ہیں تو ان سے باز پرس کون کرے گا۔ پاکستان کے بارے میں جو خبریں چھپتی ہیں ان میں اس دولت کا ذکر بھی ہوتا ہے بلکہ ہم نے ٹی وی پر اپنے سفارتی نمایندوں کو بھی حکمرانوں کی دولت کو چھپاتے اور ادھر ادھر کرتے دیکھا ہے لیکن خود حکمران اس میں ملوث تھے اس لیے کوئی کچھ کر نہ سکا۔ ہمارے تو بعض وزراء کے پورے کے پورے خاندان ہی غیر ملکی ہیں یعنی دہری شہریت رکھتے ہیں۔

ہمارے ایک گھن گرج والے لیڈر بھی دنیا جانتی ہے کہ وہ کس دوسرے ملک کے شہری ہیں بلکہ ان کا پورا خاندان نصف غیر ملکی ہے۔ ایسے دوغلے لیڈروں کے علاوہ دوسرے ایسے کئی لیڈر دندناتے پھرتے بھی ہیں اور وہ کسی بھی بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے پورے ملک کو مزید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے اور اب جب پڑوس سے ایک خطرہ سامنے آیا ہے تو یہ سب لوگ خاموش ہیں۔ یہی تو وقت ہے ان کے بولنے اور قوم کو حوصلہ دلانے کا۔ یہی وہ ہندو قوم تھی جس کو قائداعظم جیسے پرامن اور قانون کے پابند لیڈر نے نکیل ڈال دی تھی۔ یہ بات کل ہو گی فی الحال آپ اپنے اضطراب پر قابو پانے کی کوشش کریں۔

مقبول خبریں