’’پاکستان رمضان‘‘ میں فوج کو خراج تحسین پیش کیا جائیگا عامر لیاقت

پاکستان انتہاپسندی پر قابو پاکر نیا جنم لےگا اور ہم ملکر دوبارہ اس کے مقام پر واپس لانے کی کوشش کریں گے، عامر لیاقت


رمضان المبارک کے بعد ایکسپریس انٹرٹینمنٹ پر فیملی گیم شو کرونگا، عامر لیاقت فوٹو : فائل

ایکسپریس نیٹ ورک کے صدر اور گروپ ایڈیٹر مذہبی امور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ میں نے ایکسپریس میں اس بنا پر شمولیت اختیار کی کیونکہ یہاں اظہار کی مکمل آزادی ہے۔ ایکسپریس بہت قابل قدر نیٹ ورک ہے جس میں بہت زیادہ صلاحیتیں ہیں، میرا ارادہ ہے کہ میں بطور صدر اسے پاکستان کا بہترین چینل بنا دوں، میری خواہش ہے کہ میں اس میں بہترین پروگرامنگ لاؤں اور ایکسپریس انٹرٹینمنٹ کو ایک فیملی چینل بنا دوں۔

ایکسپریس ٹریبیون کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ایکسپریس کی اس سال رمضان ٹرانسمیشن ''پاکستان رمضان'' کا منصوبہ بہت خوبصورت ہے، ''پاکستان رمضان'' میں حب الوطنی، دہشت گردی کیخلاف جنگ' معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور ملک کے شہریوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے میں توجہ مرکوز ہوگی اور بالخصوص اس میں پاک فوج کو اس کی شجاعت اور بہادری پر خراج تحسین پیش کیا جائیگا۔ اس سال پاکستان انتہاپسندی پر قابو پا کر ایک نیا جنم لے گا اور ہم ملکر اس پاکستان کو دوبارہ واپس لانے کی کوشش کریں گے جو ہم نے1947ء کے رمضان المبارک میں حاصل کیا تھا۔ انھوں نے کہا رمضان ٹرانسمیشن کے دوران میں زیادہ سے زیادہ تین گھنٹے روزانہ سوتا ہوں اور کبھی کبھی بالکل ہی نہیں سوتا، چونکہ میں پرفیکشن چاہتا ہوں یہی عزم مجھ میں توانائی پیدا کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے کبھی رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو کاروبار نہیں بنایا، میری رمضان المبارک کی تمام نشریات عظیم فلاحی مقاصد کیلیے ہوتی ہیں۔ ہاں میں نے ایسی بڑی نشریات کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک ٹرینڈ ضرور قائم کیا ہے، دوسروں نے میرے خیالات اور افکار کی نقالی کی ۔

تاہم جسے وہ نقل نہیں کر سکے وہ اس مقدس مہینہ کیلیے کسی مراعات کے بغیر میری خدمات ہیں۔ میں نے کبھی رمضان کو نہیں بیچا بلکہ اس کے ذریعے اوروں کو کچھ دیا ہی ہے۔ رمضان کے بعد میں ''فیملی گیم شو'' کروں گا، اس کے علاوہ مذہبی پروگرام کرونگا جس کا مقصد معاشرے کی اصلاح اور سماجی برائیوں مثلاً غیرت کے نام پر قتل، خواتین سے ناانصافی وغیرہ کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ میں اقلیتیوں کے حقوق کیلیے خصوصی طور پر آواز بلند کرونگا۔ ایک سوال پر ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ سخت محنت اور صرف سخت محنت ہی کامیابی کا راز ہے، آپ کو حسد نہیں کرنا چاہیے اور اپنے قیمتی وقت کا ایک ایک لمحہ خود کو بنانے سنوارنے میں استعمال کرنا چاہیے۔

اپنے اہداف کو کبھی ترک نہ کریں۔ میں مستقبل کی طرف نہیں دیکھتا، حال سے محبت کرتا ہوں، جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ میں آئندہ پانچ دس سال میں کہاں ہوں گا تو اس کا جواب ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ مجھے رکھنا چاہے گا یا عوام مجھ کو دیکھنا چاہیں گے۔ اپنے ناقدین کو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ مجھے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا رہے ہیں، آپ خواہ مخواہ کی کردار کشی بند کر دیں کیونکہ اس سے آپ کو کچھ نہیں ملے گا۔ انھوں نے کہا میں آج جس مقام پر ہوں اس کیلیے میں نے بڑی سخت محنت کی ہے۔ ایک ایسا وقت بھی تھا جب میری جیب میں ایک سو روپے کا نوٹ بھی نہیں ہوتا تھا، میں اپنے بیٹے کیلیے دودھ تک نہیں خرید سکتا تھا لیکن میں ثابت قدمی سے کھڑا رہا اور اللہ کی رحمت پر بھروسہ کیا۔

زندگی بہت سخت استاد ہے لیکن آپ کو اتنا عقل مند ضرور ہونا چاہیے کہ آپ فیصلہ کر سکیں کہ آپ نے کون سی راہ اختیار کرنی ہے۔ انھوں نے کہا مجھے بمشکل ہی فارغ وقت ملتا ہے تاہم اگر ایسا ہو تو میں کتابیں پڑھتا ہوں، فلمیں دیکھتا ہوں، میری پسندیدہ فلم اسپائیڈر مین ہے۔ اپنے بچپن کے حوالے انھوں نے کہا میں جب 10 برس کا تھا تو میں اپنی انگریزی کی ٹیچر پر عاشق ہو گیا اور جھٹ اسے شادی کی پیشکش کر دی لیکن اس نے مجھے پھینٹی لگا دی جس سے عشق کا بھوت فوراً ہی سر سے اتر گیا۔

مقبول خبریں