محسن پاکستان میرا مہربان
ہم پاکستانی اس وقت حالت جنگ میں ہی نہیں ایک باقاعدہ جنگ میں ہیں
DHAKA:
ہم پاکستانی اس وقت حالت جنگ میں ہی نہیں ایک باقاعدہ جنگ میں ہیں اور ہماری افواج اپنے زمینی اور فضائی اسلحہ سمیت اس مشکل محاذ جنگ پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں یا معذور اور زخمی حالت میں اب باقی کی زندگی بسر کریں گے۔ ایک فوج جو قربانی دے سکتی ہے وہ اس وقت دی جا رہی ہے۔ باعث الم یہ ہے کہ ہمارے سامنے بھی پاکستانی ہیں اور دونوں طرف کے پاکستانی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔ وہ پاکستانی جن کے خلاف ہم جنگ آزما ہیں ان میں بیشتر ہمارے پرانے اور پیدائشی دشمن کے ساتھی اور ایجنٹ ہیں۔
بھارت نے ہمارے خلاف جنگ کا یہ کامیاب طریقہ نکالا ہے کہ اپنی باقاعدہ فوج کی جگہ چند تخریب کار ایسے تیار کر لیے ہیں جو پاکستان کے اندر گھس کر پاکستانی زندگی کو معطل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تخریب کار اپنے قدیمی گھروں میں ہیں پہاڑوں کی غاروں میں یا پتھروں کی اوٹ میں، اس طرح ان چھپے ہوئے دشمنوں سے ہماری جنگ کس قدر مشکل اور پیچیدہ ہے اس کا اندازہ لگانا آسان ہے۔
ہمارے دشمن کے پیچھے اس کی ہم سے بڑی فوجی طاقت ہے اور ایک سپر پاور کی کھلی حمایت ہے اور ہمارے خلاف تخریب کاری کی خفیہ جنگ ہے اب تو ہمارے دشمن نے دنیا بھر کے اسلحہ سازوں کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی ہے کہ وہ اپنے کارخانوں کو بھارت کی سرزمین پر منتقل کر دیں اس سے ہر پاکستانی اپنے دشمن کے ارادوں کا پتہ چلا سکتا ہے اگرچہ ہم پاکستانیوں کو الیکشن میں بھاری تعداد میں ووٹ اس لیے ملے ہیں کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر سکیں۔
اتنا بڑا جھوٹ کوئی پاکستانی ہی بول سکتا ہے۔ بہر حال ہماری پاکستانی حکومت کے تمام گوشے بھارت کے لیے نرم ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ہم نے بھارت میں اس کے ایک بہت بڑے فولادی صنعت کے مالک سے خود اور اپنے برخوردار کو لندن سے فوری طور پر بلا کر ملوایا ہے نہ معلوم مستقبل کے کیا منصوبے ہیں لیکن فی الوقت تو پاکستان کے خوبصورت جوان بھارتی دشمنوں کے خلاف اپنا خون بہا رہے ہیں جو کسی بھی فولاد سے زیادہ توانا اور بیش قیمت ہے۔
بھارت جیسے مضبوط دشمن کے خلاف ہم بلا خوف و خطر ایک جنگی معرکے میں نبرد آزما ہیں اور معلوم نہیں اس اندھی جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ اندھی اس لیے کہ فریق ثانی گمنام ہے مگر ٹیلی وژن پر ہم نے اس جنگ کے کئی محاذوں کا جو نظارہ کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ہمارے جوانوں کی جانفشانی کا جذبہ ہے جو غاروں میں سے بھی دشمنوں کو باہر نکال رہا ہے اور انھیں کیفر کردار تک پہنچا رہا ہے۔ یہ غار کئی کلومیٹر تک گہرے اور لمبے ہیں۔ دشمن کے ٹھکانوں پر اسلحہ سازی کی فیکٹریاں دیکھیں اور گولہ باری کے بہت ہی بڑے ذخیرے لیکن پوری قوم دشمن کی ان تیاریوں اور ہولناک یلغاروں سے خوفزدہ نہیں ہے اور ہم اتنے طاقت ور ہیں کہ دشمن کے تازہ ترین اعتراف کے مطابق وہ دو سال بعد ہی پاکستان پر قبضہ کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔
یعنی مقصد اس کا پاکستان پر قبضہ ہے لیکن اس کے لیے ایک وقت درکار ہے اور ایسا کیوں ہے وجہ ایک پاکستانی جس کا نام ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہے اور جس نے کسی مسلمان ملک کو پہلا ایٹم بم دیا ہے۔ جی ہاں وہی بم جو دشمن کو بار بار سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ ہماری وہ طاقت ہے جو کسی جنگ میں ضروری ہے اور اسلحہ جتنا اچھا اور وافر ہو گا فوج اتنی ہی طاقت ور ہو گی اور قوم اپنے آپ کو کسی دشمن کے مقابلے میں اتنی ہی مضبوط سمجھے گی۔ قدیر خان نے اپنی عمر بھر کی کمائی قوم کی نذر کر دی اور جتنا ہنر حاصل کیا تھا وہ قوم کے حوالے کر دیا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان عالم اسلام کا پہلا ایٹمی ملک بن گیا اور وہ بھی ایٹم کے اعلیٰ ترین معیار کا۔ دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان کا بم تکنیکی اور فنی اعتبار سے بھارت سے بہت بہتر ہے۔ قوم نے اگر قدیر خان کو محسن پاکستان کہا تو یہ کوئی مبالغہ نہیں تھا۔ کسی قوم پر آج کے دور میں اس سے بڑا احسان کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے دشمنوں کو مرعوب کر دے اور ایک بددیانت اور حقیقی دشمن کو بے بس کر دے۔
ان دنوں ہم جس جنگ میں الجھے ہوئے ہیں وہ ایک مشکل ترین جنگ ہے جو قدیر خان نے آسان کر دی ہے اور وہ اس طرح کہ ہمارے پاس دشمن سے بہتر اسلحہ اور جوان ہیں۔ ہمارے ہوشیار دشمن کے ہوش ٹھکانے آ چکے ہیں کہ وہ اب دو برس بعد ہی پاکستان پر قبضہ کر سکے گا، کیا ہم ان دو برسوں میں سوتے رہیں گے بہر کیف ہمارا دشمن خود اس کے مطابق تو دو برس تک کا انتظار کرے۔
جنگ اور دشمن کی بات ہوئی تو ظاہر ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کی بات بھی ہو گی۔ اس شخص کا جنوں فارغ نہیں ہے اور اب وہ ایک اسپتال بنا رہے ہیں۔ مجھے ایک بات کا یقین ہے۔ ڈاکٹر صاحب یہ اسپتال کا کام بھی اعلیٰ درجہ پر کریں گے لیکن اس کے لیے ان کو قوم کی مدد کی ضرورت ہے اور انھوں نے اس سلسلے میں ایک خط لکھا ہے اس کو میں پیش کر رہا ہوں۔ خدا آپ کو توفیق دے اور آپ اس پاکستانی کی مدد کر سکیں جو سراسر پاکستانی ہے۔ اب خط ملاحظہ کیجیے۔
السلام علیکم
یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ نیو کلیئر پاور ہونے کے باوجود ہم اب تک اپنے ملک کو مسائل کے اندھیروں سے باہر نہیں نکال سکے۔ دیگر مسائل کی اہمیت اپنی جگہ مگر انسانی صحت کا مسئلہ اہم ترین ہے۔ ملک میں اسپتالوں کی کمی' علاج کی سہولیات کا فقدان ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ایک طرف پرائیویٹ اسپتالوں کا مہنگا علاج غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہے اور دوسری طرف سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم اور مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے غریب مریض زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔
اس سنگین صورت حال کے پیش نظر آپ کی دی ہوئی زکوٰۃ اور عطیات سے لاہور میں 200 بیڈز پر مشتمل جدید اور عالمی معیار کی طبی سہولیات سے آراستہ ڈاکٹر اے کیو خان کی تعمیر جاری ہے جس میں علاج اور سرجری کی بہتری سہولیات دستیاب ہونگی۔ ڈاکٹر اے کیو خان اسپتال کی بلڈنگ کی تعمیر کا تخمینہ لاگت 100 کروڑ روپے ہے اسپتال کی تعمیر کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے آپ کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں آپ نے میرا ساتھ دیا اور اب ڈاکٹر اے کیو خان اسپتال کو بنانے میں بھی آپ کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے اس سال اپنی زکوٰۃ دیتے وقت ڈاکٹر اے کیو خان اسپتال کو ضرور یاد رکھیں تاکہ اسپتال کی تعمیر جلد از جلد ممکن ہو سکے خدا تعالیٰ آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے اور اپنی رحمتوں سے نوازے (آمین)
دعا گو! آپ کا مخلص
ڈاکٹر عبدالقدیر خان (نشان امتیاز اینڈ بار' بلال امتیاز)
چیئرمین ڈاکٹر اے کیو خان اسپتال ٹرسٹ لاہور فون111-275-426
اور 042-35880144