مجید صاحب
نوائے وقت میں ہم نظامی صاحب مرحوم حمید نظامی کو کہتے تھے مجید نظامی صرف مجید صاحب تھے۔
نوائے وقت کے بانی حمید نظامی کا جب انتقال ہوا تو میں ان دنوں ان کے اخبار ہی میں ملازم تھا اور یہ ملازمت مجھے نظامی صاحب نے لاہور کے کافی ہاؤس سے بلا کر خود اپنی فرمائش پر دی تھی۔ میں جماعت اسلامی کا کارکن تھا جس کے حمید نظامی سخت خلاف تھے مگر پھر بھی وہ مجھ پر بہت زیادہ مہربان تھے۔
بہر کیف نظامی صاحب کے انتقال پر مجید صاحب لندن سے پاکستان پہنچے۔ انھیں مرحوم آغا شورش کاشمیری نے ان کے بھائی کی شدید علالت کی اطلاع دی تھی۔ اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھ کر مرحوم نے کہا کہ تم آ گئے مجھے تمہارا انتظار تھا۔ رات کے وقت دفتر نوائے وقت میں اس ادارے کے خصوصی ارکان کا اجلاس ہوا جس میں مجید صاحب کو بھائی کا جانشین منتخب کر لیا گیا۔ اس طرح پاکستان کی نظریاتی صحافت کے سب سے بڑے اردو زبان کے مرکز میں وراثت منتقل ہو گئی اور بانی ایڈیٹر کے بھائی کے حصے میں آ گئی۔ وہ کوئی 53 برس تک نوائے وقت کے سب کچھ رہے۔ اس دوران انھوں نے حمید نظامی مرحوم کی اولاد کو اس ادارے سے رخصت کر دیا اور اپنی اجارہ داری برقرار رکھی۔
میں کوئی 27 برس تک مجید صاحب کا چیف رپورٹر رہا۔ چیف رپورٹر کسی ایڈیٹر کا سفیر ہوتا ہے اور وہ باہر کی دنیا کو زیادہ تر اس سفیر کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اس طرح میں مجید صاحب کا کسی حد تک رازدار اور ساتھی رہا۔ میں نے رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ کالم نویسی شروع کر دی تو مجید صاحب بہت خوش ہوئے۔
نوائے وقت میں ہم نظامی صاحب مرحوم حمید نظامی کو کہتے تھے مجید نظامی صرف مجید صاحب تھے۔ کالم نویسی کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ وہ کتنے بلند پایہ ایڈیٹر ہیں۔ عجیب اتفاق اور ان دونوں مرحوم بھائیوں کی خوش قسمتی کہ وہ اپنے اپنے وقت میں سب سے بڑے ایڈیٹر تھے اور یہ اعتراف ان کے مخالفوں فیض صاحب اور سید سبط حسن کا تھا جو اس وقت ایک ہفت روزہ لیل و نہار کے ایڈیٹر تھے اور میں اس ادارے کے اسٹاف میں شامل تھا۔ یہ ایک الگ قصہ ہے۔
مرحوم، جی ہاں چند ساعتیں پہلے کے مرحوم، جن کی تدفین ہوئی ہے، کالم دیکھتے تھے اور اس میں بعض ایسی چھوٹی موٹی الفاظ کی یا چند اشاروں کی ترمیم کر دیتے کہ یہ کالم آسمان سے باتیں کرتے۔ حیرت ہوتی کہ اتنا بڑا ایڈیٹر میری قسمت میں ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ اردو صحافت میں اپنے دور کے وہ سب سے بڑے ایڈیٹر تھے جس طرح ان کے بھائی حمید نظامی اپنے وقت میں تھے۔ مجید صاحب طنز نویسی کے بادشاہ تھے اور تحریر میں ہلکا سا مزاح بھی تھا۔ یہ طنز و مزاح ان کی ذات میں مکمل ہو جاتا تھا اور میرا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ وہ اپنے وقت کے سب سے بڑے ایڈیٹر تھے۔
مجید صاحب ایڈیٹر تھے اور ایڈیٹری صرف لکھ لینے کا ہی نام نہیں ہے خصوصاً ایک نظریاتی اخبار کی ایڈیٹری جس سے آپ نہ صرف متفق ہوں بلکہ اس کے کارکن اور قائد بھی ہوں۔ مجید صاحب اس دور میں نوائے وقت جیسے نظریاتی پاکستانی اخبار کے ایڈیٹر تھے جب اس نظریے کی مخالف صحافت بھی عروج پر تھی اور میاں افتخار الدین کے اخبارات کا مضبوط ادارہ موجود تھا جس کے بارے میں امریکی رسالے ٹائم نے لکھا تھا کہ دنیا میں سوویت یونین کے باہر کمیونزم کی صحافت میں یہ سب سے بڑا ادارہ ہے۔
چھوٹے موٹے دوسرے ادارے اور سیاسی خانوادے بھی تھے۔ پاکستان کی اس جنگ میں نوائے وقت اکیلا تھا اور اپنے دو ایڈیٹروں کا نام تھا پہلے حمید نظامی پھر مجید صاحب۔ جس جوانمردی سے ان دونوں بھائیوں نے اس محاذ پر جنگ لڑی اور جاری رکھی اس پر حیرت ہوتی ہے۔ ان دونوں کا پس منظر قطعاً زمیندارانہ نہ تھا۔ وہ ایک عام خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن نظریاتی دولت سے مالامال تھے اور رؤساء میں شمار ہوتے تھے۔
ایک دن مجید صاحب سے ملنے ان کے دفتر میں ایک معزز میاں بیوی آئے تو مجید صاحب ان کے احترام میں گویا حد سے گزر گئے اور بار بار کہتے رہے کہ آپ کیوں آئے مجھے کیوں نہ طلب کر لیا۔ بعد میں مجید صاحب نے خود بتایا کہ ان میاں بیوی کا ہمارے خاندان پر احسان ہے۔ اب میں یہاں ہوں اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس خاندان کا کس طرح استقبال کروں۔ دونوں بھائی زیر تعلیم بچوں کی مالی امداد باقاعدگی کے ساتھ کیا کرتے تھے۔
بات مجید صاحب کی ایڈیٹری کی ہو رہی تھی۔ وہ ایک بار کہنے لگے کہ اخبار کی ایڈیٹری ایک آرٹ ہے اور ملک کے حالات سے نپٹنا اور ان کو سنبھالنا ہوتا ہے اپنے اداریوں میں۔ سیاست دان آپ کے خلاف ہوتے ہیں۔ ملک کے دوسرے با اثر لوگ بھی آپ کو پسند نہیں کرتے۔ آپ کی آمدنی بھی محدود ہوتی ہے جب کہ واسطہ ملک کے رؤساء سے ہوتا ہے۔ اس طرح دوسرے کئی طبقات ہیں جو آپ کو قبول نہیں کرتے مثلاً سرکاری ملازمین اور فوج۔ علاوہ اس کے بھی دوسرے کئی محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے۔
آپ زیادہ سے زیادہ ایک متوسط طبقے سے ہو کر ملک کے بڑے اور با اثر لوگوں کا سامنا کرتے ہیں اور اس سے اگر بچ نکلتے ہیں تو یہ آرٹ نہ ہوا تو اور کیا ہوا۔ مجید صاحب اپنی ہمت اور جرأت رندانہ سے اپنی ایک خاص حیثیت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ بے حد خوش پوش شخص تھے اور قیمتی لباس زیب تن کرتے تھے۔ وہ ایک شاندار زندگی بسر کرتے تھے اور مزاج میں سخت گیر تھے۔ کسی سے دب کر نہیں رہتے تھے اور اپنی مدیرانہ زندگی کے اثرات اور آداب کو خوب جانتے تھے اور ان کا استعمال بھی خوب کرتے تھے۔
آخری زندگی میں وہ بہت زیادہ خود پسند ہو گئے تھے اور خود ستائی پر اتر آئے تھے جس سے میرے خیال میں ان کے نظریاتی اخبار کو نقصان بھی ہوا۔ میں اس سوال پر ان سے گفتگو کرنے والا تھا مگر ان کی علالت کی وجہ سے بات نہ ہو سکی اور میں نے بھی سوچا کہ اب ایسی کوئی بات مناسب بھی نہیں ہے۔ مجید صاحب کی زندگی کسی ایک کالم میں سمیٹی نہیں جا سکتی پھر اس شخص کے کالم میں جس کی صحافتی زندگی ان کی سرپرستی میں گزری۔
یہ اتفاق ہے یا بے پناہ خوش قسمتی کہ اپنے وقت کے دونوں بڑے اور بے مثال ایڈیٹروں سے میں نے فیض حاصل کیا اور ایک نے مجھے صحافت کا راستہ دکھایا دوسرے نے اس راستے کو میرے لیے ہموار کیا۔ اب تو دونوں کی یادیں ہیں اور کوئی ایسا نہیں جس سے میں کچھ مزید حاصل کر سکوں لیکن جو کچھ ہے وہ بھی بہت ہے جس کا ذکر کرتا رہوں گا۔ اس وقت تو اس مہربان کی یادوں کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ دعائے مغفرت کے ساتھ کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ قدرت نے ان کی دعائے مغفرت میرے حق میں لکھی ہوتی لیکن بہرحال لاہور میں میرا یہ مہربان قابل اعتماد محسن چلا گیا۔ میرا بہت بڑا ذاتی نقصان۔