آج کے جدید اور ڈیجیٹل دور میں آن لائن خریداری بہت عام ہے، تاہم اس کے ساتھ دھوکا دہی کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین اگر چند بنیادی باتوں کا خیال رکھیں تو وہ زیادہ تر آن لائن فراڈ سے باآسانی بچ سکتے ہیں۔ خصوصاً پاکستان جیسے ممالک میں جہاں آن لائن مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہاں احتیاط مزید ضروری ہو جاتی ہے۔
سب سے پہلے صارفین کو ہمیشہ معتبر اور معروف ویب سائٹس کا انتخاب کرنا چاہیے۔ مشہور برانڈز کی ویب سائٹس یا مستند پلیٹ فارمز سے خریداری کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ کسی بھی نئے اسٹور سے خریداری سے پہلے اس کی ریٹنگ، ریویوز اور صارفین کے تجربات ضرور دیکھنے چاہییں۔ جعلی ویب سائٹس عموماً انتہائی کم قیمتوں یا غیر معمولی آفرز کے ذریعے صارفین کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں، اس لیے ایسی ڈیلز پر فوراً بھروسا کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ادائیگی کرتے وقت بھی احتیاط ضروری ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ آن لائن خریداری ہمیشہ محفوظ پیمنٹ گیٹ ویز کے ذریعے کی جائے اور غیر معروف بینک ٹرانسفرز یا براہِ راست اکاؤنٹ نمبر بھیجنے سے بچا جائے۔
کیش آن ڈیلیوری اگر دستیاب ہو تو اسے ترجیح دی جائے، خاص طور پر پہلی بار آرڈر کرتے وقت۔ اس کے علاوہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی معلومات صرف محفوظ اور HTTPS والے پلیٹ فارمز پر درج کی جانی چاہییں۔
ان احتیاطی مشوروں کے علاوہ پروڈکٹ کی تفصیلات پڑھنا اور اصل تصاویر دیکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ جعلی اسٹورز اکثر انٹرنیٹ سے لی گئی غیر متعلقہ تصاویر استعمال کرتے ہیں جب کہ معتبر اسٹورز اپنی مصنوعات کی اصل تصاویر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ اگر ویب سائٹ پر واٹس ایپ نمبر دیا گیا ہو تو گفتگو کے اسکرین شاٹس محفوظ رکھنا بھی دانشمندی ہوتی ہے تاکہ کسی مسئلے کی صورت میں ثبوت موجود ہو۔
ڈلیوری کے وقت پارسل کھولنے کی اجازت نہ ملے تو اسے فوراً قبول کرنے کے بجائے ویڈیو بناتے ہوئے کھولنا بہتر ہے۔ اس طرح اگر پروڈکٹ مختلف ہو، ٹوٹی ہوئی ہو یا کم قیمت کی چیز بھیج دی گئی ہو تو آپ کے پاس ثبوت موجود رہے گا جو کمپنی یا بینک کے پاس شکایت درج کرانے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ صارفین کو اعتماد صرف ان برانڈز یا آن لائن اسٹورز پر کرنا چاہیے جو واضح ریٹرن پالیسی، کسٹمر سروس اور مکمل معلومات فراہم کرتے ہوں۔ احتیاط، تحقیق اور ذمہ دارانہ خریداری نہ صرف دھوکے سے بچاتی ہے بلکہ آن لائن شاپنگ کے تجربے کو بھی بہتر بناتی ہے۔