ٹرمپ کی دھمکیوں پر گرین لینڈ کا سخت ردِعمل، نیٹو کے اندر نیا بحران؟

عوامی سروے بھی ظاہر کرتے ہیں کہ گرین لینڈ کے عوام امریکی قبضے کے سخت خلاف ہیں


ویب ڈیسک January 13, 2026

گرین لینڈ کی حکومت نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں امریکا کی جانب سے جزیرے پر قبضہ قبول نہیں کرے گی۔

یہ ردِعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا گرین لینڈ کو “کسی نہ کسی طریقے سے” اپنے کنٹرول میں لے گا۔

گرین لینڈ کی حکومت نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے جزیرے پر قبضے کی خواہش کو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ حکام کے مطابق گرین لینڈ ایک خودمختار جمہوری معاشرہ ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت عمل کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ گرین لینڈ امریکا کی قومی اور عالمی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے اور اگر امریکا نے کنٹرول حاصل نہ کیا تو روس یا چین ایسا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا گرین لینڈ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم نتیجہ بہرحال امریکا کے حق میں ہوگا۔

گرین لینڈ کی حکومت نے کہا کہ جزیرہ ڈنمارک کی خودمختار سلطنت کا حصہ ہے اور نیٹو کا رکن ہونے کے ناطے اس کا دفاع بھی نیٹو کے فریم ورک کے تحت ہی ہونا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ تمام نیٹو ممالک، بشمول امریکا، گرین لینڈ کے دفاع میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ نے ڈنمارک کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے گرین لینڈ کی خودمختاری کی حمایت کی تھی۔ یورپی یونین کے کمشنر برائے دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے فوجی طریقے سے گرین لینڈ پر قبضہ کیا تو یہ نیٹو کے لیے شدید بحران ثابت ہو سکتا ہے۔

گرین لینڈ اگرچہ صدیوں تک ڈنمارک کے زیرِ اثر رہا، تاہم 1979 کے بعد اسے اندرونی خودمختاری حاصل ہوئی اور تمام سیاسی جماعتیں مستقبل میں مکمل آزادی کے امکان کی حامی ہیں۔ عوامی سروے بھی ظاہر کرتے ہیں کہ گرین لینڈ کے عوام امریکی قبضے کے سخت خلاف ہیں۔

مقبول خبریں