تھائی لینڈ میں چین کے تعاون سے جاری ہائی اسپیڈ ریل منصوبے پر ایک بڑا حادثہ پیش آیا ہے، جہاں تعمیراتی کرین گرنے سے ایک مسافر ٹرین پٹری سے اتر گئی۔
حادثے کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہو گئے، جبکہ متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ حادثہ بدھ کے روز تھائی لینڈ کے صوبے ناکون راچاسیما میں پیش آیا، جہاں ایک تعمیراتی کرین اچانک مسافر ٹرین پر آ گری، جس سے ٹرین کے کئی ڈبے الٹ گئے اور آگ بھی لگ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثے سے قبل زور دار آواز سنی گئی، جس کے بعد دو دھماکے ہوئے۔ ایک مقامی شہری نے بتایا کہ کرین کا لوہے کا ڈھانچہ ٹرین کے دوسرے ڈبے پر گرا، جس سے وہ ڈبہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔
ضلعی پولیس چیف نے تصدیق کی کہ اب تک 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 80 سے زائد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کچھ زخمیوں کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو اہلکاروں نے متاثرہ ٹرین کے الٹے ہوئے ڈبوں سے مسافروں کو نکالنے کے لیے طویل کارروائی کی، تاہم بعد میں کیمیائی مواد کے اخراج کے خدشے کے باعث امدادی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئیں۔
حکام کے مطابق ٹرین بینکاک سے اوبن راچاتھانی جا رہی تھی اور اس میں 195 مسافر سوار تھے۔ تھائی وزیرِ ٹرانسپورٹ نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
یہ حادثہ 5.4 ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے پر پیش آیا، جس کے تحت تھائی لینڈ کو چین کے شہر کنمنگ سے بذریعہ لاؤس ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کے ذریعے جوڑا جانا ہے۔ یہ منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ تھائی لینڈ میں صنعتی اور تعمیراتی حادثات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث متعدد جان لیوا واقعات رونما ہو چکے ہیں۔