سائنس دانوں نے سعودی عرب کے شمالی علاقے سے حنوط شدہ چیتوں کی باقیات دریافت کر لیں۔ اس دریافت میں سات عدد ممی اور دیگر 54 چیتوں کی ہڈیاں شامل ہیں۔
شہر عرعر کے قریب ایک جگہ سے ملنے والی یہ باقیات 1800 برس سے پہلے کی ہیں۔ مردے کو گلنے سے بچانے کا عمل یعنی حنوط کا عمل صحرا کی مٹی جیسے ماحول میں قدرتی طور پر ہو سکتا ہے۔
دریافت ہونے والے ان نئے حنوط شدہ چیتوں کی آنکھیں گدلی تھیں جبکہ پیروں پر جھریاں تھیں جیسے خشک بھوسی ہو۔
جرنل کمیونیکیشنز ارتھ اینڈ انوائرنمنٹ میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق محققین کو اس متعلق علم نہیں کہ ان چیتوں کو کس طرح حنوط کیا گیا لیکن غار کے خشک ماحول اور مستحکم درجہ حرارت نے اس میں کردار ادا کیا ہوگا۔
اس کے علاوہ محققین یہ بات جاننے سے بھی قاصر رہے کہ ان غاروں میں اس تعداد میں چیتے کیوں تھے۔ ممکنہ طور پر یہ ایسی جگہ ہو جہاں مادہ چیتا بچوں کو جنم دیتی اور ان کو پالتی ہو۔