اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایران کے معاملے پر ہنگامی اجلاس ہوا۔ اقوام متحدہ میں متعین امریکی سفیر مائیک والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکا ایران کے ’’بہادر عوام‘‘ کے ساتھ کھڑا ہے، جب کہ روسی مندوب نے کہا کہ امریکا ایران میں خوف و ہراس پھیلا رہا ہے، ہم ایران میں بیرونی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردی ہیں۔
عرب ممالک کی حکومتوں کے ذرائع کا کہنا ہے ان کا خیال ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم ہوئی ہے، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، عمان اور مصر ٹرمپ انتظامیہ کو ایران پر حملے سے باز رکھنے پر اصرار کررہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امکان ظاہرکیا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت گر سکتی ہے۔
ایران میں حالیہ دنوں کے دوران سامنے آنے والی صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست کے لیے ایک نازک اور فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سیاسی خلفشار کی لپیٹ میں ہے، ایران کے اندرونی حالات کو بیرونی قوتوں سے جوڑنے والے انکشافات نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ کہ حالیہ پُرتشدد مظاہروں میں ملوث ایک خاتون نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے براہِ راست رابطوں کا اعتراف کیا ہے، بظاہر ایران کے اس دیرینہ مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ ملک میں ہونے والی بدامنی محض عوامی غصے کا اظہار نہیں بلکہ اس کے پیچھے منظم بیرونی مداخلت کارفرما ہے۔
ایران طویل عرصے سے یہ الزام لگاتا آ رہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھنے کے لیے ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، اور حالیہ اعترافات اس بیانیے کو مزید مضبوط بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کے معاملے میں یہ پہلو اس لیے زیادہ حساس ہے کہ یہ ملک نہ صرف خطے میں امریکا اور اسرائیل کے لیے ایک اسٹرٹیجک چیلنج سمجھا جاتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی کا مرکز بھی بن چکا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایران پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عرب ممالک کے سفارتی ذرائع یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔
یہ تضاد بظاہر امریکی پالیسی میں موجود ابہام کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف پابندیوں کا سخت ہونا اور دوسری طرف مذاکرات کے لیے وقت دینا، یہ دونوں رویے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا خود بھی کسی واضح حکمتِ عملی پر متفق نظر نہیں آتا۔ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، عمان اور مصر جیسے اہم علاقائی ممالک کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رہنے کا دباؤ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خطے کے ممالک کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ عراق، شام، یمن اور غزہ میں جاری تنازعات پہلے ہی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہیں، اور ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے، کیونکہ سوئٹزرلینڈ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتا رہا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں فریقین واقعی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے سنجیدہ ہیں یا یہ محض وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات، جن میں وہ ایک طرف ایران کی حکومت کے گرنے کا امکان ظاہر کرتے ہیں اور دوسری طرف رضا پہلوی کی مقبولیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہیں، اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ واشنگٹن میں بھی ایران کے مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح خاکہ موجود نہیں۔ امریکا ماضی میں کئی ممالک میں حکومت کی تبدیلی کی پالیسی آزما چکا ہے، لیکن اس کے نتائج اکثر اس کے اپنے اندازوں کے برعکس نکلے ہیں۔ ایران جیسے مضبوط ریاستی ڈھانچے، نظریاتی بنیادوں اور علاقائی اثر و رسوخ کے حامل ملک میں بیرونی دباؤ کے ذریعے نظام کی تبدیلی ایک نہایت پیچیدہ اور خطرناک تجربہ ہو سکتا ہے، اسی تناظر میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو لکھا گیا خط اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اس معاملے کو عالمی فورمز پر لے جا کر بیرونی مداخلت کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔
ایران کا یہ مطالبہ کہ اس کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی مذمت کی جائے، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ اگرچہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن کسی بھی خودمختار ریاست کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت عالمی نظام کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔ ترک وزیر خارجہ کا یہ بیان کہ ایران کے اصل مسائل انھیں خود حل کرنے چاہئیں اور ترکیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہے، خطے میں ایک ذمے دارانہ اور متوازن موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ترکیہ بخوبی جانتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی ایک ملک میں عدم استحکام پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اسی طرح قطر اور عمان جیسے ممالک، جو پہلے بھی سفارتی ثالثی میں کردار ادا کرتے رہے ہیں، اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بات چیت اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایران کے معاملے پر ہنگامی اجلاس اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ امریکی سفیر کی جانب سے یہ کہنا کہ امریکا ایران کے ’بہادر عوام‘ کے ساتھ کھڑا ہے اور قتل عام کو روکنے کے لیے تمام آپشنز میز پر موجود ہیں، ایک بار پھر اس خدشے کو جنم دیتا ہے کہ انسانی حقوق کے نام پر فوجی کارروائی کا جواز تلاش کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں عراق، لیبیا اور افغانستان میں ایسے ہی بیانات کے بعد ہونے والی مداخلتوں نے ان ممالک کو طویل المدت عدم استحکام، خانہ جنگی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ روسی مندوب کا یہ کہنا کہ امریکا ایران میں خوف و ہراس پھیلا رہا ہے اور بیرونی مداخلت کی مذمت کرنا ضروری ہے، عالمی طاقتوں کے درمیان موجود گہری خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔
چین کی جانب سے اقوام متحدہ میں امریکا کو ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی کوشش ترک کرنے کا مطالبہ اس بات کی دلیل ہے کہ بیجنگ کسی بھی ایسی کارروائی کے خلاف ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کو جنم دے۔ چین کا مؤقف کہ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور مسائل کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے، دراصل عالمی نظام میں استحکام اور کثیرالجہتی کی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔ چین جانتا ہے کہ خطے میں جنگ اس کی توانائی کی ضروریات، تجارتی راستوں اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ روسی نمائندے کی جانب سے یہ کہنا کہ امریکی بیانات کسی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف ہیں اور ایرانی عوام کی بڑی تعداد اپنی حکومت اور سپریم لیڈر کی حمایت میں موجود ہے، اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بیرونی طاقتیں زمینی حقائق کا درست اندازہ لگانے میں اکثر ناکام رہتی ہیں۔
امریکا کے لیے بھی یہ لمحہ غور و فکرکا ہے۔ ایران پر مسلسل دباؤ، پابندیاں اور دھمکیاں نہ تو خطے میں امن لا سکی ہیں اور نہ ہی ایران کو اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی پر مجبور کر پائی ہیں۔ اس کے برعکس، ان اقدامات نے ایران کو مزید سخت مؤقف اختیار کرنے پر آمادہ کیا ہے اور خطے میں کشیدگی کو بڑھایا ہے۔ اگر امریکا واقعی ایران کے عوام کی بہتری چاہتا ہے تو اسے ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو عام شہریوں کی زندگی کو مزید مشکل بناتے ہوں۔ پابندیاں اکثر حکمران طبقے کے بجائے عام عوام کو متاثر کرتی ہیں، اور یہی بات عالمی سطح پر امریکا کے دعوؤں کو کمزور کرتی ہے۔
عالمی برادری کے لیے یہ ایک امتحان ہے کہ آیا وہ طاقت کے بجائے مکالمے، سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کو ترجیح دیتی ہے یا ایک بار پھر طاقتور ممالک کی مرضی کو عالمی اصولوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کا کردار اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ اگر سلامتی کونسل واقعی عالمی امن کی ضامن بننا چاہتی ہے تو اسے یکطرفہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ اگر عالمی طاقتیں واقعی مشرقِ وسطیٰ میں امن چاہتی ہیں تو انھیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایران کے معاملے میں تحمل، دانشمندی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ ایک اور جنگ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔