معروف ریسرچ انسٹیٹیوٹ اپسوس نے انکشاف کیا ہے کہ ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے باعث مختلف اہم شعبوں میں سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے اور غیر قانونی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن پاکستان کے ٹیکس خسارے کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے جبکہ حکومت غیر قانونی تجارت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرکےٹیکس وصولی کے بلند اہداف حاصل کر سکتی ہے۔
اس حوالے سے ہفتہ کو یہاں سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ اعدادوشمار کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو موجودہ مالی سال کے پہلی ششماہی میں اپنے ہدف کے مقابلے میں 330 ارب روپے کی نمایاں کمی کا سامنا رہا ہے۔
یہ فرق معیشت میں بڑے پیمانے پر ریونیو کے نقصانات کی عکاسی کرتا ہے معروف تحقیقاتی ادارے اپسوس کی پانچ اہم شعبوں میں ٹیکس چوری سے متعلق تحقیق کے مطابق ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے باعث مختلف اہم شعبوں میں سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔
قانون کے سخت نفاذ اور معیشت کو دستاویزی بنانے پر توجہ دی جائے تو معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے درکار مالی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے جس کا باقاعدہ ٹیکس دہندگان اور دستاویزی کاروباری طبقے پر مزید بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔
پاکستان میں غیر دستاویزی معیشت معاشی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سالانہ تقریباً 500 ارب روپے کے ٹیکس کا نقصان ہوتا ہے جبکہ غیر قانونی تمباکو کی تجارت میں اسمگل شدہ اور بغیر ٹیکس ادا کی گئی سگریٹس شامل کی وجہ سے قومی خزانے کو مزید 310 ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔
ٹائرز، لبریکنٹس، فارماسیوٹیکلز اور چائے سمیت دیگر بڑی صنعتوں میں سالانہ مجموعی طور پر 200 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کار اسامہ صدیقی نے ٹیکس وصولی کے اہداف مکمل نہ ہونے اور ٹیکس چوری کے معاشی نقصانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ شعبے بڑی حد تک دستاویزی نظام سے باہر کام کر رہے ہیں۔
اس لیے اس بھاری ٹیکس چوری کا مالی دباؤ غیر منصفانہ طور پر محدود تعداد میں باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر منتقل ہو جاتا ہے اور نتیجے میں ایک ایسا منفی چکر جنم لیتا ہے جس میں زیادہ ٹیکس چوری مزید فروغ ملتا ہے اور تجارتی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
اسامہ صدیقی کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل ٹیکس کی شرحوں میں اضافے کے بجائے ٹارگٹ کرکے ٹیکس چوری کا خاتمہ ہے انہوں نے کہا کہ ٹیکس اہداف کے حصول کے لیے حکومت کو ان راستوں کو بند کرنا ہوگا جو ریونیو لیکیج کا سبب بنتے ہیں اور ٹیکس چوری میں ملوث عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ اقدامات کو تیز کرنا ہوگا۔
اسامہ صدیقی نے مزید کہا کہ ریاست کو غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور اسمگلنگ کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ صرف موجودہ وسائل پر انحصار کیا جائےمختلف صنعتوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹمز کے غیر مؤثر نفاذ سے غیر قانونی تجارت کے خلاف حکومتی عزم کی کمی واضح ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مالیاتی استحکام کی راہ اس حکمتِ عملی سے مشروط ہے جس میں پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں کے بجائے ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو ٹیکس نظام میں لایا جائے ریگولیٹری نفاذ کو مضبوط بناکر غیر قانونی تجارتی نیٹ ورکس کا خاتمہ کرتے ہوئے بلند ٹیکس اہداف بھی ہنگامی اقدامات کے بجائے ترقی اور مساوات کے ذریعے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔