اسلام آباد:
اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول واپس لینے کے نوٹی فکیشن کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا، تاہم عدالت نے فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لینے سے متعلق الیکشن کمیشن کے نوٹی فکیشن کے خلاف دائر کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
عدالت نے فوری حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی جب کہ کیس کو اسی نوعیت کے دوسرے کیس کے ساتھ سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
جسٹس محمد اعظم خان نے جماعت اسلامی اسلام آباد کے صدر نصر اللہ رندھاوا کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے قبل لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈی نینس کو چیلنج کیا گیا تھا اور اب الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لے لیا ہے۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ 2015 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے جن کی مدت 5 سال بعد ختم ہو چکی ہے۔ قانون یہ کہتا ہے کہ مدت ختم ہونے کے بعد 120 دنوں کے اندر نئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہونا لازم ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ الیکشن شیڈول واپس لینے سے متعلق نوٹی فکیشن کو کالعدم قرار دے کر بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا جائے۔ مزید یہ کہ مرکزی کیس 27 جنوری کو مقرر ہے، اس وقت تک مذکورہ نوتی فکیشن کو معطل کیا جائے، جس پر عدالت نے فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔