افغانستان اور تاجکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی اور کابل میں حالیہ دھماکے کے بعد چین نے اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
چینی حکام نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ افغانستان–تاجکستان سرحدی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صورتحال کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔
چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تاجکستان میں مقیم یا سرحدی علاقوں کے قریب موجود چینی شہری بروقت اور مناسب انداز میں ان علاقوں کو چھوڑ دیں۔
سفارتخانے نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقامی سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھیں اور ہر ممکن احتیاطی تدابیر یقینی بنائیں۔
یہ ایڈوائزری ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب تاجک بارڈر فورسز نے اتوار کے روز افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے چار دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاجک حکام کے مطابق یہ واقعہ سرحدی علاقے میں پیش آیا جہاں حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ادھر گزشتہ روز کابل میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک چینی شہری سمیت سات افراد ہلاک جبکہ 13 زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے خطے میں چینی شہریوں کی سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق افغانستان سے دہشت گردوں کی سرحد پار سرگرمیاں نہ صرف تاجکستان بلکہ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے باعث علاقائی سلامتی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔