سانحہ گل پلازہ؛ آتشزدگی کا شکار ایک ہی دکان سے 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہوگئی

دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، تمام 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں، ڈی آئی جی ساؤتھ


ویب ڈیسک January 21, 2026

کراچی میں آگ سے تباہ ہونے والےگل پلازہ میں سرچ آپریشن کے دوران مزید 30 لاشیں ملی ہیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 61 تک جا پہنچی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ملبہ ہٹانےکا کام روک دیا گیا ہے، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔

گل پلازہ میں آگ لگنےکے بعد لوگوں نے خود کو بچانےکے لیے دکان میں بندکرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ گل پلازہ کے گراونڈ فلور پر واقع ایک دکان سے متعدد انسانی اعضا ملے ہیں،انسانی اعضا اسپتال منتقل کیے جارہے ہیں۔

ڈی سی ساوتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ میز نائن فلور پر کراکری کی شاپ سے بیس سے پچیس لاشیں ملی ہیں، ملنے والی لاشیں بالکل خراب حالت میں ہیں، لاشوں کی باقیات ریسکیو اہلکاروں کو سرچ آپریشن کے دوران ملی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ میں جانی نقصان کے اضافے پر افسوس کا اظہار کیا اور نئی ملنے والی لاشوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ملبہ ہٹانے کا کام روک کر لاشوں کو منتقل کیا جائے، لاشوں کی شناخت اور منتقلی سمیت لواحقین کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں، انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں لیکن لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

پولیس سرجن کے مطابق آج ملبے سے نکالی گئی مزید باقیات کی جانچ کا عمل بھی جاری ہے تاہم مزید اموات کا اندیشہ ہے۔

قبل ازیں ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں پولیس سرجن نے بتایا تھا کہ مجموعی طور پر 28 لاشیں موصول ہوئیں، ابتدائی طور پر 6 لاشیں مکمل اور قابلِ شناخت تھیں، ایک لاش تنویر نامی شخص کی سی این آئی سی کے ذریعے شناخت ہوئی اور باقی لاشوں کے ڈی این اے سیمپلز سندھ فرانزک ڈی این اے لیب بھجوا دیے گئے۔

ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ گزشتہ رات مزید 3 لاشیں شناخت ہونے کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں، آئندہ ایک دو گھنٹوں میں مزید 3 سے 4 ڈی این اے رپورٹس آنے کی توقع ہے، آگ کی شدت کے باعث ڈی این اے شدید متاثر ہوا، شناخت کا عمل مشکل ہے۔

پولیس سرجن نے مزید بتایا کہ سندھ فرانزک ڈی این اے لیب 24 گھنٹے کام کر رہی ہے، بیشتر لاشیں مکمل نہیں بلکہ ٹکڑوں کی صورت میں موصول ہوئیں اور فریگمنٹری ریمینز سے ڈی این اے حاصل کرنا زیادہ وقت لیتا ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ مل لاشوں کی تعداد صرف 6 سے 7 تھی، مجموعی طور پر 51 ورثا کے ڈی این اے سیمپلز لیے گئے، ورثا کے سیمپلز والدین اور بچوں سے ترجیحی بنیاد پر لیے گئے، والدین یا بچے موجود نہ ہوں تو بہن بھائیوں سے ڈی این اے لیا جاتا ہے۔

ریسکیو 1122، ایدھی، چھیپا

ایدھی حکام کے مطابق گل پلازہ عمارت سے مزید دو لاشوں کے اعضاء سول اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق ملبے سے مزید ایک لاش ملی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 29 تک پہنچ گئی جبکہ سرچ آپریشن کے دوران کچھ انسانی باقیات ملیں، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مزید ایک لاپتا شہری کے اہل خانہ نے مسنگ پرسنز ڈیسک سے رابطہ کر لیا، 65 سالہ جہانگیر شاہ کے اہل خانہ نے مسنگ پرسنز ڈیسک پر اندراج کروا دیا جس کے بعد لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی۔

گزشتہ روز، 21 ناقابل شناخت میتوں میں سے مزید تین کی شناخت کی گئی تھی، جن میں ایک میت لڑکی 15 سالہ مریم جبکہ دو مردوں 33 سالہ شہروز اور 26 سالہ رضوان کی تھیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق سی پی ایل سی نے ڈی این اے کے ذریعے شناخت کی جس کے بعد لواحقین میتیں لینے سرد خانے پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل دن میں 7 افراد کی لاشوں کو شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا تھا جس کے بعد سرد خانے میں 21 ناقابل شناخت لاشیں موجود تھیں اور ان میں سے مزید تین کی شناخت ہوگئی۔

واضح رہے کہ ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور لاپتا افراد کی تلاش میں آپریشن شروع کیا تاہم کام کے دوران بھی عمارت کے مختلف حصوں سے آگ بھڑک اٹھتی تھی جس سے ریسکیو کا کام متاثر ہوا۔

ڈی سی ساؤتھ کی گفتگو

گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ پلازہ کا سالم حصہ بھی سرچ کیا جا رہا ہے لیکن فی الحال عمارت کے گرے ہوئے حصے کی طرف توجہ ہے، عمارت کے درمیان میں جانے کا راستہ بنایا جا رہا ہے، جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرا کر ملبہ اٹھا لیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پہلے دن سے انفرمیشن ڈیسک قائم کر دی تھی اور تمام سہولیات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ گرے ہوئے حصے میں مشکل پیش آرہی ہے، اندر ابھی بھی دھواں اور گرمائش ہے تاہم کولنگ بھی کی جا رہی ہے، جہاں تک پہنچ سکتے ہیں وہاں سرچ کیا گیا ہے۔ بلڈنگ پر موجود بھاری سامان اتار لیا گیا ہے، اس وقت مشین سے اور مینولی بھی کام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 28 لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں سے 11 شناخت ہو چکی ہیں جبکہ 85 شہری لاپتا افراد کی فہرست میں ہیں، کچھ نام ڈبل ہوگئے ہیں جن کی جانچ کی جا رہی ہے۔ کوشش ہے جلد از جلد لاشوں کی شناخت بھی ممکن ہو۔

جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ عارضی طور پر ساتھ والے رمپا پلازہ کو سیل کیا گیا ہے، ایس بی سی اے کی رپورٹ کے بعد کہا جا سکے گا کہ رمپا پلازہ خطرناک ہے یا نہیں۔ کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تکنیکی ٹیم موجود ہے جو اس حوالے سے مکمل جانچ کر رہی ہے اور تکنیکی معاملات کو مدنظر رکھے ہوئے ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن جاری ہے۔

ایک سوال کے جوان میں ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ غائب ہونے والے دو ڈمپر کے حوالے سے پولیس تفتیش کر رہی ہے۔

لاپتا افراد کے لواحقین کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اتوار کے دن سے ملبہ اٹھایا جانا شروع کیا گیا، ملبے میں کہیں انسانی باقیات تو نہیں جا رہی، ہمیں شک ہے کہیں ایسا نہ ہو۔

مقبول خبریں