ایرانی میزائل خطرہ، اسرائیلی ایئرلائنز طیارے بیرونِ ملک منتقل کرنے کو تیار

دوسری جانب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسرائیل نے دفاعی الرٹ میں اضافہ کر دیا ہے


ویب ڈیسک January 22, 2026

اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیلی حکومت نے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگوف نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر اسرائیلی ایئرلائنز اپنے طیاروں کو عارضی طور پر بیرونِ ملک منتقل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

میری ریگوف کے مطابق اگرچہ تاحال طیاروں کی منتقلی کے باقاعدہ احکامات جاری نہیں کیے گئے، تاہم اسرائیلی ایئرلائنز پہلے سے تیار کردہ منصوبوں کے تحت کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق قومی ایئرلائن کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ اس وقت فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اہلکار نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران طیاروں کو اسرائیل سے باہر منتقل کرنا پڑا تھا۔ اس موقع پر بعض طیارے قبرص اور ایتھنز منتقل کیے گئے تھے جبکہ کئی طیارے تھائی لینڈ، امریکا اور یورپ کے مختلف ممالک میں موجود تھے۔

دوسری جانب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسرائیل نے دفاعی الرٹ میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی قیادت کسی بھی امریکی کارروائی کے جواب میں اپنی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔

اسرائیلی فضائیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کسی بھی مرحلے پر اسرائیل کو اس تنازع میں شامل کر سکتا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران اسرائیل کو براہِ راست پہلا ہدف بنائے گا یا نہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکا اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ بھی برقرار ہے۔

مقبول خبریں