الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب بلدیاتی انتخابات کی ٹائم لائن پر عمل درآمد نہ کرنے پر وزیراعلی پنجاب کو طلب کرنے کا عندیہ دے دیا، چیف الیکشن کمشنر نے خبردار کیا کہ اگر ٹائم لائن پر عمل نہ ہوا تو الیکشن کمیشن معاملات اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔ ضرورت پڑنے پر 20 فروری کو وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔
چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں کیا چیز مشترک ہے، جس پر ممبر پنجاب نے جواب دیا کہ دونوں جگہ ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔
الیکشن کمیشن حکام نے خبردار کیا کہ آئین اور قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جن میں نااہلی کی سزا بھی شامل ہو سکتی ہے۔
سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے بتایا کہ معاملہ پنجاب کابینہ کی کمیٹی کو بھجوایا گیا تھا جہاں تاخیر سے پیش رفت ہوئی۔ یونین کونسلز اور ٹاؤنز کی ڈیمارکیشن پر اعتراضات نمٹائے جا رہے ہیں اور 26 جنوری تک ڈیمارکیشن مکمل کر لی جائے گی۔
چیف سیکرٹری پنجاب نے کمیشن کو بتایا کہ کچھ مجبوریوں کے باعث ایک سے سوا ماہ کی تاخیر ہوئی، جبکہ اربن اور رورل علاقوں کی نشاندہی سب سے بڑا مسئلہ بنی، کیونکہ ہر علاقہ خود کو اربن قرار دلوانا چاہتا ہے۔ الیکشن رولز دوبارہ ڈرافٹ کر لیے گئے ہیں اور الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد نوٹیفائی کر دیے جائیں گے۔
پہلے رولز کی منظوری وزیر اعلیٰ دیتے تھے، تاہم اب یہ اختیار صوبائی کابینہ کے پاس ہے، جس کے باعث کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں اور عمل میں تاخیر ہوتی ہے۔ یقین دلاتا ہوں کہ اضلاع کی سطح پر ڈیمارکیشن کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئیے کہ یہ انتہائی شرمندگی کی بات ہے کہ پنجاب میں 2021 سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے اور اگر مقامی حکومتیں نہیں ہوں گی تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں رہتا۔الیکشن کمیشن نے اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت کی کہ پنجاب حکومت کی کمیٹی اس کے ساتھ مل کر کام کرے۔ دونوں کمیٹیوں کو 10 فروری تک کام مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے سماعت 20 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اب ٹائم لائن پر عمل نہ ہوا تو الیکشن کمیشن معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیگا۔ ہمیں مجبور نہ کریں کہ وزیر اعلیٰ کو طلب کر کے یہاں بٹھا لیں۔آپ وزیر اعلیٰ پنجاب کو معاملہ کی حساسیت بارے میں بتائیں۔