پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس؛ صدر مملکت کے اعتراضات اور اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود بلز منظور

صدر مملکت نے دانش اسکولز اتھارٹی اور گھریلو تشدد سے متعلق بلز پر اعتراضات کیے تھے


ویب ڈیسک January 23, 2026

اسلام آباد:

پارلیمنٹ کے مشرکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور  صدر مملکت کی جانب سے اعتراضات کے باوجود بلز منظور کرلیے گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں مقررہ وقت سے 35 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، جس میں قانون سازی کے متعدد اہم نکات زیر بحث آئے ۔ اس موقع پر ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔

مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد سے متعلق بل پر اعتراضات سامنے آئے، جن میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت دانش اسکولز اتھارٹی بنانے سے قبل صوبوں کے ساتھ مشاورت کرے۔ اسی طرح گھریلو تشدد سے متعلق بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے تجویز کردہ سزاؤں پر بھی اعتراض کیا گیا اور کہا کہ گھریلو تشدد سے متعلق بل کو موجودہ شکل میں منظوری دینے کے بجائے اس پر دوبارہ غور کیا جائے۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل منظور

مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل پیش کیا گیا، جو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان میں پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے بل میں ترمیم پیش کی، جس کی حکومت نے حمایت کی۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق بل پر جے یو آئی کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں، جو سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران نے پیش کی تھیں۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔

دانش اسکولز اتھارٹی بل کی منظوری

دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 بھی مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دانش اسکولز بل پر صوبوں کو اعتماد میں لینے سے متعلق صدر مملکت کی ایڈوائس ایوان میں پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے بلز پر صوبوں سے مشاورت کا کہا تھا جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے اور وفاق صوبوں کی حدود میں مداخلت کر رہا ہے۔

اس دوران اسپیکر نے اپوزیشن کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے منظوری کا عمل شروع کر دیا، جس پر اپوزیشن نے نعرے بازی کی۔ دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے جب کہ اپوزیشن اراکین ایوان میں نعرے لگاتے رہے۔

پی ٹی آئی کے اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے بھی نعرے بازی کی جب کہ بیرسٹر گوہر نے دہشت گرد دہشت گرد نامنظور کے نعرے لگائے۔  اس موقع پر محمود خان اچکزئی اور سینیٹر راجا ناصر عباس کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین کا اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج جاری رہا  جب کہ دیگر اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی بھی جاری رہی۔

اپوزیشن کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باوجود پارلیمنٹ نے دانش اسکولز اتھارٹی بل کی بھی منظوری دے دی۔

گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل کی منظوری کا عمل

بعد ازاں گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025منظوری کے لیے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر جے یو آئی ارکان نے گھریلو تشدد بل پر صدر کے اعتراضات ایوان میں پیش  کیے، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ صدر کے اعتراضات کو نظراندازنہ کیا جائے ۔ عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن گھریلو تشدد بل پر بات کرنا چاہتے ہیں ، تاہم اسپیکر نے ریمارکس دیے کہ جس رکن نے ترامیم پیش نہیں کیں،  اسے بات نہیں کرنے دوں گا ۔ بعد ازاں ایوان نے  سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران کی ترامیم مسترد کردیں۔

بعد ازاں پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج ختم کردیا اور اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے، تاہم اقبال آفریدی اور انجینئر حمید حسین کا تیراہ آپریشن سے متعلق احتجاج جاری رہا۔

اسی دوران ایوان میں گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025کی منظوری کا عمل شروع کردیا۔  وزیر مملکت  طلال چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو تشدد بل میں مردوں کو بھی پہلی بار شامل کیا گیا ہے۔ مرد بے چارے تو کبھی ایسے بل میں آتے ہی نہیں تھے اچھا ہوگیا ان کو بھی گھریلو تشدد سے تحفظ ملے گا ۔

سانحہ گل پلازہ پر حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ قرارداد منظور

ایوان میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر حکومت اور اپوزیشن کی دستخط شدہ مشترکہ  قرارداد پیش  کی گئی۔  اس موقع پر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس قرارداد پرہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ہم نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ سانحہ گل پلازہ ایک سنگین حادثہ تھا۔ ہم اس قرارداد کو سراہتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے کسی شہر کا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے۔ وفاقی حکومت بھی امداد فراہم کرے ۔ سارے ملک کے باشندے وہاں رہتے ہیں۔

بعد ازاں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں  سانحہ گل پلازہ پر متفقہ قرارداد منظور کرلی  گئی، جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان گل پلازہ میں شہید ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے ۔ یہ ایوان گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین سے اظہار یک جہتی کرتا ہے ۔ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ آگ سے بچاؤ کے انتظامات کیے جائیں۔ علاوہ ازیں سانحے کے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے ۔

شیری رحمان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ حادثے سے متعلق تفصیلات سامنے آرہی ہیں ۔ اس موقع پر اقبال آفریدی نے تقریر  میں مداخلت کی کوشش کی، جس پر اسپیکر نے کہا کہ اگر آپ مداخلت کریں گے تو اجلاس ملتوی کردوں گا ۔

شیری رحمن نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کراچی اور شہریوں کی مکمل ذمہ داری لیتی ہے ۔ اس معاملے کو سیاست یا لسانیت کا مسئلہ نہ بنایا جائے ۔ یہاں پر فوراً اٹھارویں ترمیم کی بات کردی جاتی ہے ۔ آپ کے وزرا کراچی کو الگ کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ ہم نے اس ملک کے لیے قربانیاں دیں، آپ اس وقت کہاں تھے۔ لاشوں پر سیاست نہ کریں آپ کے ووٹ اس سے بڑھیں گے۔

غزہ پیس بورڈ کی مخالفت

علامہ راجا ناصر عباس نے مشترکہ اجلاس میں  تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا ایک حساس موڑ سے گزر رہی ہے ۔ غزہ کے لوگ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ عالمی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا  ہے، جو کام نیتن یاہو نہ کرسکا وہ اب پیس بورڈ کے نام پر شروع ہوا  ہے۔ نیتن یاہو آئے دن حملے اور قبضے کر رہا ہے ۔ ہم اتفاق رائے کے بغیر پیس بورڈ کا حصہ بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں ہے ۔ نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیں تو ہماری عزت میں اضافہ ہوگا۔ ہمیں نہیں پتا کہ پیس بورڈ کے نکات کیا ہیں ۔ ہم اس پیس بورڈ کو قبضہ بورڈ کہتے ہیں ۔ ہمیں  اس پیس بورڈ کے خلاف قرارداد منظور کرنی چاہیے ۔ یہ ہماری عزت و وقار اور غیرت و حمیت کا مسئلہ ہے۔

بورڈآف پیس میں نہ جاتے تو کہا جاتا پاکستان تنہا رہ گیا، احسن اقبال

مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے اپنی آزادی اور خود مختاری کی مثال قائم کی، جب امریکا نے ایٹمی دھماکے روکنے کے لیے 5 فون کالز کیں۔ پوری دنیا کے دباؤ کے باجود جرات کے ساتھ فیصلہ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے محافظ ہیں ۔ اس حکومت کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کوئی میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا ۔ ہمیں کوئی بزدلی اور غفلت کا طعنہ نہیں دے سکتا ۔ کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو آنکھیں نوچ لیں گے ۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ غزہ کی وجہ سے ہمارے دل چھلنی ہیں۔ بورڈ آف پیس میں پاکستان نہ جاتا تو یہ کہتے پاکستان تنہا رہ گیا ۔ ہم برادر اسلامی ملکوں کے ساتھ غزہ کے امن کے لیے اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ کیا سعودی عرب، ترکیہ، قطر، متحدہ عرب امارات مسلمان ملک نہیں ہیں؟۔ کیا یہ تمام ممالک پاکستان کے دوست نہیں ہیں؟۔

دانش اسکولز اتھارٹی ایکٹ 2025ء کی منظوری

بعد ازاں دانش اسکولز اتھارٹی ایکٹ 2025 پارلیمنٹ سے منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت دانش اسکولز کے نظم و نسق کے لیے دانش اسکولز اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ اس ایکٹ کا اطلاق اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پر ہوگا ۔ قانون کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے جب کہ کم آمدن  والے گھرانوں کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی میں ترجیح دی جائے گی۔

ایکٹ میں دانش اسکولز اتھارٹی کے قیام سے متعلق شقیں بھی واضح کی گئی ہیں، جن کے مطابق اتھارٹی ایک باقاعدہ قانونی ادارہ ہوگی جسے معاہدے کرنے اور مقدمہ دائر کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اتھارٹی کو مستقل جانشینی اور سرکاری مہر بھی دی گئی ہے جب کہ ایکٹ کے تحت پہلے سے قائم دانش اسکولز کو بھی اس اتھارٹی میں شامل کیا جائے گا۔

قانون کے مطابق دانش اسکولز اتھارٹی کے چیئرمین وزیرِاعظم پاکستان ہوں گے جب کہ متعلقہ وفاقی وزیر کو اتھارٹی کا وائس چیئرمین مقرر کیا جائے گا۔ متعلقہ ڈویژن کے سیکریٹری اتھارٹی کے رکن ہوں گے ۔ وفاقی وزارتِ خزانہ اور وزارتِ منصوبہ بندی کے سیکریٹریز کو بھی اتھارٹی میں شامل کیا گیا ہے۔  اسی طرح بی ایس 21 یا اس سے اوپر گریڈ کے افسران کو اتھارٹی کی رکنیت دی جائے گی۔

ایکٹ کے تحت دانش اسکولز اتھارٹی میں 3 معروف ماہرینِ تعلیم کو رکن بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں نجی شعبے سے 2 ممتاز شخصیات بھی اتھارٹی کا حصہ ہوں گی۔ منیجنگ ڈائریکٹر دانش اسکولز اتھارٹی کے سیکریٹری کے طور پر فرائض انجام دیں گے جب کہ چیئرمین کو سرکاری یا نجی ماہرین کو بطور رکن شامل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ ماہرین کی نامزدگی 3 سال کے لیے ہوگی، جس کی مدت میں توسیع کی جا سکے گی اور چیئرمین کی غیر موجودگی میں وائس چیئرمین چیئرمین کے فرائض انجام دیں گے۔

قانون کے مطابق دانش اسکولز اتھارٹی کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ اتھارٹی کو اپنے اجلاسوں کے طریقۂ کار طے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ دانش اسکولز کے لیے نصاب، کورسز اور مراکزِ امتیاز کی منظوری اتھارٹی دے گی جب کہ دانش اسکولز اور مراکزِ امتیاز کے معائنے کا اختیار بھی اتھارٹی کو حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کو سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

بعد ازاں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

مقبول خبریں