پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی لہر سے معیشت مستحکم ہونے لگی

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حقیقی اعداد و شمار پیش کردیے


ویب ڈیسک January 23, 2026

اسلام آباد:

ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے سے پاکستانی معیشت مستحکم ہونے لگی۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حقیقی اعداد و شمار پیش کردیے، خرم شہزاد کے مطابق معاشی استحکام اور سازگار سرمایہ کاری کے ماحول نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے پُرکشش اور اولین انتخاب بنادیا ہے۔

حالیہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی ) سرمایہ کار سینٹیمنٹ سروے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری پر اعتماد 61 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ریکارڈ کیا گیا، نیسلے نے پاکستان میں 60 ملین ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری اور پاکستان کو علاقائی ایکسپورٹ حب بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیسلے پاکستان سے 26 ممالک کو برآمدات کے ذریعے مقامی مینوفیکچرنگ کو مستحکم اور پیداواری صلاحیت کو وسعت دے گا۔

مشیر وزیر خزانہ کے مطابق آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی اسٹیٹ آئل کمپنی آف آذربائیجان ریپبلک (سوکار) فروری میں پاکستان کے تیل و گیس شعبے میں سرمایہ کاری کو حتمی شکل دے گی۔ سوکار پاکستانی مارکیٹ کی صلاحیت اور وسعت کی معترف ہے، کمپنی نے پاکستان کو طویل المدتی توانائی کا شراکت دار قرار دیا ہے

مشیر وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ 15 سے 18 ماہ میں 20 غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان پہنچے، پاکستان آنے والی غیر ملکی کمپنیوں میں گوگل، بی وائی ڈی، آرامکو، وافی، ابو ظہبی پورٹس، سیمسنگ، ٹرکش پٹرولیم، نووا منرلز اور دیگر شامل ہیں۔

خرم شہزاد نے بتایا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں مالی سال 2026 کے جولائی تا نومبر کے پانچ ماہ میں 6 فیصد ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا،  مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں گاڑیوں کی فروخت میں 32 فیصد، سیمنٹ کی فروخت 10 فیصد، کھاد کی فروخت میں 24 فیصد اور موبائل فونز کے فروخت میں 20 فیصد زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو صارف اور صنعت کے اعتماد کی بحالی کی نشانی ہے۔

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں 1.17 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس معیشت کی بحالی کی علامت ہے، مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 سال میں پہلی بار2.1 ارب امریکی ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا، مہنگائی 23.4 فیصد سے کم ہوکر 4.5 فیصد پر آ گئی۔

خرم شہزاد نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، قرضہ جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد پر ریکارڈ ہوا، بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کا 2.4 فیصد رہا۔

مشیر وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 26 کے پہلے نصف میں ترسیلات زر 19.7 ارب یعنی 11فیصد اضافہ کے ساتھ ریکارڈ ہوئیں، ٹیکنالوجی ایکسپورٹس 437 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، درآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ خام مال، درمیانی اجزاء اور سرمایہ کاری کی اشیاء پر مشتمل تھا جو پیداواری سرگرمیاں مستحکم ہونے کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا سازگار ماحول اور معاشی استحکام ملک کے مضبوط معاشی مستقبل اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اہم اشارہ ہے۔

مقبول خبریں