خصوصی بچوں کی تعلیم، محض ہمدردی نہیں ان کا حق ہے

یہ بچے ہمدردی کے محتاج نہیں، بلکہ اپنے ان حقوق کے حقدار ہیں جو ریاست اور معاشرے نے انہیں دیے ہیں


ثوبیہ حشمت January 25, 2026

ہمارے معاشرے میں جب بھی کسی معذور یا ’اسپیشل‘ بچے کا ذکر ہوتا ہے، تو عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں پہلا جذبہ ’ہمدردی‘ یا ’ترس‘ کا آتا ہے۔

لوگ ان بچوں کو دیکھ کر افسوس تو کرتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ بچے ہمدردی کے محتاج نہیں، بلکہ اپنے ان حقوق کے حقدار ہیں جو ریاست اور معاشرے نے انہیں دیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم حق ’تعلیم‘ کا ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے 2023 کے ڈیجیٹل مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی کل آبادی کا تقریباً 3.1 فیصد حصہ کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہے۔ یونیسف (UNICEF) اور نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (NCRC) کی 2024 کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ بچے معاشرے کے سب سے زیادہ پسماندہ طبقے میں شامل ہیں جنہیں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسر (ASER) پاکستان کی 2024 کی رپورٹ ایک لمحہ فکریہ پیش کرتی ہے کہ ملک میں تقریباً 14 لاکھ معذور بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

خصوصی تعلیم کیا ہے؟

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اسپیشل بچوں کو اسکول بھیجنا وقت کا ضیاع ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ خصوصی تعلیمِ کا مقصد ان بچوں کو معاشرے کا ایک خود مختار حصہ بنانا ہے۔ یہ محض حروفِ تہجی سکھانے کا نام نہیں، بلکہ ان کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی صلاحیتوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرسکیں۔

والدین کا کردار اور چیلنجز

ماہرِ تعلیمِ خصوصی ہونے کے ناتے میں نے محسوس کیا ہے کہ سب سے بڑی رکاوٹ والدین کی ’مایوسی‘ ہے۔ جب کسی گھر میں اسپیشل بچہ پیدا ہوتا ہے، تو والدین اسے بوجھ یا قسمت کا لکھا سمجھ کر گھر کے ایک کونے تک محدود کر دیتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر بچہ مختلف ہوتا ہے۔ اگر ایک بچہ بول نہیں سکتا تو اس کے پاس اشاروں کی زبان ہے، اگر ایک دیکھ نہیں سکتا تو اس کے پاس چھونے کی حس (Braille) موجود ہے۔

معاشرتی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت

ہمارے تعلیمی نظام میں ’شمولیتی تعلیم‘ (Inclusive Education) کا تصور ابھی نیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 11 فیصد اسکولوں میں معذور بچوں کے لیے رسائی ممکن ہے۔ ہمیں اپنے عام سکولوں کے اساتذہ اور طلبا کو اس بات کی تربیت دینی ہوگی کہ وہ ان بچوں کو اپنے ساتھ بٹھائیں اور انہیں قبول کریں۔ جب ایک عام بچہ ایک اسپیشل بچے کے ساتھ کھیلے گا، تو اس کے اندر بچپن ہی سے قبولیت اور انسانیت کا جذبہ پیدا ہوگا۔

حکومتی اور انفرادی سطح پر اقدامات

حکومت کو چاہیے کہ ہر علاقے میں اسپیشل تعلیم کے مراکز کو جدید سہولیات سے لیس کرے، لیکن اس سے زیادہ ذمے داری ہم پر بطور معاشرہ عائد ہوتی ہے۔ ہمیں ان بچوں کو ’بے چارہ‘ کہنا چھوڑنا ہوگا۔ انہیں ہمدردی کے بجائے ’مواقع‘ فراہم کرنے ہوں گے۔

اسپیشل بچے اللہ تعالیٰ کی وہ خاص تخلیق ہیں جن کے پاس کوئی نہ کوئی ایسی صلاحیت ضرور ہوتی ہے جو عام انسانوں میں نہیں ہوتی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم ان کی اس چھپی ہوئی صلاحیت کو پہچانیں اور انہیں وہ تعلیمی حق دیں جس کے وہ حقدار ہیں۔ یاد رکھیے، تعلیمِ خصوصی ان پر کوئی احسان نہیں، بلکہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
ثوبیہ حشمت
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں