کبھی آپ نے کسی کو کہتے سُنا کہ تازی ہَوا، تازی سبزی، تازے پھل، تازی آب ہَوا اور تازی فکر ہماری صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے؟ اچھا تو کسی شاعر کو کہتے سُنا کہ ’کوئی تازی ہَوا چلی ہے ابھی‘.....ارے بھئی وہ اپنے ناصر ؔ کاظمی کہہ گئے نا:
دل میں اِک لہر سی اُٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہَوا چلی ہے ابھی
تو اَگر وہ ’تازی‘ ہوا کہہ دیتے تو کیا حرج تھا؟ بھئی سیدھی سی بات ہے کہ انبالے سے لاہور ہجرت کرنے والے ناصرؔ کاظمی کو معلوم ہونا چاہیے تھا نا کہ ہَوا مؤنث ہے اور تازہ کی تانیث ’تازی‘ ہے، پھر بھی اُس نے تازی نہیں کہا تو کیوں؟
قارئین کرام بھی حیران پریشان ہوں گے کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ اصل میں قصہ یہ ہے کہ چنددن پہلے ہمارے ایک فاضل معاصر،’’ماہرِ لسانیات‘‘ (لسانیات میں پی ایچ ڈی سند کے حامل، سابق رُکن بزم زباں فہمی) نے بڑی شدّومَدّ سے یہ مُدّا (مُدّعا کی تحریف) اُٹھایا ہے کہ چونکہ اردو بول چال میں لفظ ’تازہ‘ کی تانیث ’تازی‘ موجود ہے اور اِس کے ادبی زبان میں استعمال کی بعض مثالیں بھی موجود ہیں، اس لیے اِس کا استعمال رَوا ہے اور اِسے غلط قرار دینے والے چونکہ ’’اپنی رِوایت سے ناواقف ہیں، اس لیے جاہل ہیں‘‘۔ انھوں نے سند میں اپنے دو مدّاحوں کی طرف سے بھیجے ہوئے دو شعر بھی پیش کیے جو غیرمعروف شاعروں نے کہے اور اِن میں ’تازی‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔ بندہ بصد احترام عرض کرتا ہے کہ زبان کی سند میں ہمیشہ اوّل اوّل یہ دیکھا جاتا ہے کہ قُدَمائے سخن نے اپنی نظم ونثر میں فُلاں لفظ یا ترکیب کیسے باندھی یا اُسے رَوا رکھا، صحیح قراردیا کہ نہیں، اس کے بعد متوسطین ومتأخرین سے اور پھر آخر میں مابعد کے مستندومعتبر شعراء و اُدَباء کے یہاں سند دیکھی جاتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مستند ومعتبر کی تعریف میں ہر مشہور یا مقبول شاعر نہیں آتا۔ کتنے ہی مشہور شعراء کے کلام میں زبان وبیان کی صریح اغلاط ہیں اور اُنھیں کبھی بھی مستند نہیں مانا گیا۔ اسی طرح جب رسمی، معیاری، کتابی و اَدبی (بشمول شعری) زبان میں کوئی بھی مستثنیٰ لفظ یا ترکیب کوئی بھی شاعر حسبِ ضرورت استعمال کرتا ہے تو ناقد اور اَدبی قاری یہ دیکھتا ہے کہ استعمال کرنے والا خود کتنا معتبر ہے۔ آج کل کا کوئی بھی شاعر بلاسندواعتبار ایسا کوئی بھی کام کرلے اور ہم مان لیں....یہ محال ہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ محقق ہیں تو آپ کا اسلوب بھی معتدل ہونا چاہیے ;کسی کو اپنے حسبِ منشاء مؤقف کا حامل نہ پائیں تو فوراً جاہل نہ قراردیں، ہوسکتا ہے کہ اُس کی طرف سے بھی شدید ردّعمل کا سامنا کرنے پڑے۔
اب ہم ذرا لفظ ’تازہ‘ کا متنوع استعمال اشعار میں دیکھتے ہیں:
اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک
پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا
(میر تقی میرؔ)
جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
(نظم: تخلیق، مجموعہ کلام:ضربِ کلیم۔ علامہ اقبال)
خورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں
آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں
(علامہ اقبال)
جتنے غم چاہیے دے جا مجھے یا رب لیکن
ہر نئے غم کے لیے تازہ جگر پیدا کر
(فانیؔ بدایونی)
اگر فرصت ہوتو مزید مثالیں تلاش اور پیش کی جاسکتی ہیں۔
ایک بالکل جدید شاعرہ نے لفظ ’تازہ ‘ یوں برتا ہے:
تاکِ تازہ پر اَدائے تازہ تر رکھ دیجیے
کچھ نہ کچھ بخشش صبا کے ہاتھ پر رکھ دیجیے
(عبیرہ احمد)
میں سمجھتا ہوں کہ اُردو شاعری کی پوری تاریخ میں عوامی بول چال یا بولی ٹھولی کا سب سے زیادہ استعمال نظیر ؔ اکبر آبادی نے کیا ہے، مگر حیرت ہے کہ اُن کے مشہور کلام میں بھی لفظ ’تازی‘ کا استعمال نہیں ملتا۔
یہاں ایک اور نکتہ قابل غور ہے۔ محقق موصوف نے ’تازی‘ کے معیاری زبان میں استعمال کی سند پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اعلیٰ حضرت احمدرضاخان بریلوی (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنے مشہور ترجمہ قرآن مجید بعنوان ’’کنزالایمان‘‘ میں انیسویں سورہ ’’مریم‘‘ کی پچیسویں آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے لفظ’ تازی‘ استعمال کیا ہے:
’’ اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا، تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی‘‘
یہاں اُن کا ادنیٰ مدّاح یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ دیگر علمی کتب کے برعکس، قرآن مجید کے ترجمے میں اپنے وقت کے جیّد اور بے بدل عالم نے سادہ، آسان اور قدرے عوامی زبان استعمال کی ہے تاکہ قاری کو کسی قسم کا ابہام نہ ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ ترجمہ اس لحاظ سے بھی بے نظیر ہے کہ یہ لکھا نہیں، لکھوایا گیا۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے خلیفہ وتلمیذِخاص ’صدرالَافاضل علامہ مفتی سید نعیم الدین مرادآبادی (رحمۃ اللہ علیہ) کو اِملا کروایا تھا۔ (یہی طرزصدرالافاضل کا بھی تھا جن کی اسی ترجمے پر لکھی گئی تفسیر ’خزائن العرفان‘ عوام وخواص میں مقبول ہے، جبکہ صدرالافاضل کے تلمیذِخاص علامہ مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ) کی تفسیر ’نورالعرفان‘ بہت علمی پیرائے میں لکھی گئی ہے اور ہر کس وناکس کے لیے اُسے سمجھنا آسان نہیں!)۔ میرا خیال ہے کہ اگر کسی سبب اعلیٰ حضرت کو نظرِثانی کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ شاید اس لفظ اور اِس طرح کے الفاظ کے استعمال پر دوبارہ غور فرماتے۔ یوں بھی اس سے مفہوم پوری طرح ادا ہورہا ہے، کسی قسم کا ابہام نہیں!
آئیے لگے ہاتھوں قرآن کریم کے دیگر اُردو تراجم سے بھی خوشہ چینی کرتے چلیں:
ا)۔ ’’اور ہلا اپنی طرف سے کھجور کی جڑ، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ)
ب)۔ ’’اور ہِلا طرف اپنی، تنے کھجور کے کو، ڈالے گا اوپر تیرے، کھجورتازہ‘‘ ( شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ)
ج)۔ ’’اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ وہ تم پر تازہ عمدہ کھجوریں گرائے گا‘‘۔ ( فتح محمد جالندھری دیوبندی صاحب)
د)۔ ’’اور تو کھجور کے تنہ کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر پکی تازہ کھجوریں گریں گی‘‘۔ (احمدعلی لاہوری دیوبندی صاحب)
ہ)۔ ’’اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے تروتازہ پکی کھجوریں گرا دے گا‘‘۔ (محمدجوناگڑھی صاحب)
و)۔ ’’اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ وہ تم پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرا دے گا‘‘۔
(عرفان القرآن ازڈاکٹرطاہرالقادری صاحب)
{جملہ معترضہ: فتح محمد جالندھری صاحب نے اپنے دوست ڈپٹی نذیر احمد صاحب کے ترجمہ قرآن کو اَپنے نام سے شایع کروا دیا تھا۔ یہ تحقیق ہمارے بزرگ محقق اور اُستادگرامی حضرت مفتی محمد اطہر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کے فاضل دوست، پروفیسر ڈاکٹر مسعوداحمد مرحوم کی ہے جسے ہمارے ایک اور محترم بزرگ معاصر محقق ڈاکٹر مجید اللہ قادری صاحب نے اپنی کتاب ’اردو تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ‘‘ میں نقل کیا۔ یہ موصوف کا پی ایچ ڈی کی سند کے لیے لکھا گیا مقالہ ہے جو اس موضوع پر ماقبل لکھے گئے کتابچوں اور مضامین کا بالتحقیق وسیع احاطہ کرتا ہے۔ اسی طرح بعض حضرات نے بیان کیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا ترجمہ قرآن اور متعدد دیگر کتب، درحقیقت ڈاکٹر دلدار احمد قادری (اور شاید دیگر) کی خامہ آرائی ہے}۔
محقق موصوف کے بھی علم میں ہے کہ اردو میں عربی گھوڑے کے لیے فارسی ترکیب ’اسپِ تازی‘ مستعمل ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اُس کا پس منظر مختلف ہے، اس لیے لفظ تازہ کی مؤنث تازی سے خلط ملط کیے بغیر یہ تسلیم کیا جائے کہ اِس کا استعمال صحیح ہے۔ یہاں راقم عرض کرتا ہے کہ قدیم لغات ازقسمے ’لغاتِ کشوری‘ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ فارسی میں ’تازی‘ کے مفاہیم میں عربی زبان، عربی گھوڑا، عربی کُتّا (شکاری) اور عرب آدمی شامل ہیں۔ فرہنگ ِ آصفیہ سے مزید تصدیق ہوتی ہے کہ دیگر مفاہیم کے ساتھ ’غیرعجمی حروف‘ بھی مراد لیے جاتے ہیں۔ اس فرہنگ میں ’تازی خانہ‘ بمعنیٰ ’’عربی کتّوں کا طویلہ‘‘ اور ’’کتّوں کا طویلہ‘‘ بھی درج ہے۔ (یہ لفظ تبدیل ہوکر طبیلہ بن گیا اور اَب اسے طبیلہ بھی کہا جاتا ہے)۔ اس ضمن میں نوراللغات کا مطالعہ بھی ناگزیر ہے جس میں ’تازی‘ کا استعمال بولی ٹھولی سے لیا گیا جیسے تازی مٹھائی اور تازی بات۔ یہاں مولوی نورالحسن نیّر صاحب نے کسی نامعلوم شاعر کا شعر بھی نقل کیا ہے:
رکھّا ہے رُخ کو اُس بُتِ کمسن نے ہاتھ پر
تازی ہے بات، رحل، حمائل کی ساتھ ہے
(میرا خیال ہے کہ کاکوری کے نامور وکیل، مصنف ولغت ساز اور حضرت محسن ؔ کاکوروی کے فرزند ِ دلبند نیّر صاحب نے لکھنؤ کی بولی ٹھولی سے مثالیں نقل کی ہیں)۔ علمی لغات میں بھی فرہنگ آصفیہ ودیگر کا اتباع کیا گیا ہے۔
یہی لفظ ’تازی‘ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوکر ’تاژی ‘ اور پھر ’تاژیک‘ ہوگیا جسے بعداَزآں تاجیک اور پھر تاجِک کہا جانے لگا۔ اب کہاں عرب اور کہاں فارسی کی ہم رشتہ (درحقیقت دَری کی بہن) قدیم زبان تاجِک بولنے والے لوگ؟؟
یہاں ہم رخصت لیتے ہیں کہ اس موضوع پر گفتگو میں اتنی وسعت نہیں کہ حوالے نقل کرتے چلے جائیں اور بات طُول پکڑ جائے۔