ٹی 20 ورلڈ کپ اور پاکستان

کیا پاکستان کو صرف ہندوستان سے میچ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟


سہیل یعقوب January 27, 2026

اس وقت پاکستان کے عوام میں بالعموم اور کرکٹ کے حلقوں میں بالخصوص یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کیا پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کرنی چاہیے؟ یا ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟

اس پہلے کہ ہم اس سوال کا جواب دیں ایک ضمنی سوال اور ہے کہ کیا پاکستان کو صرف ہندوستان سے میچ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟

بنگلادیش نے جو موقف اپنایا ہے وہ ایک اصولی موقف اور آئی سی سی نے ماضی میں نہ صرف اس موقف کی تائید کی ہے بلکہ اس کے حق میں فیصلہ بھی دیا ہے۔ اس لحاظ سے بنگلادیش کے ساتھ نہ صرف تعصب برتا جارہا ہے بلکہ زیادتی کی جارہی ہے۔

اس وقت بنگلادیش اور ہندوستان میں تناؤ کی کیفیت ہے، جس کی وجہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی ہے۔ کیونکہ بنگلادیش ہندوستان کے حلقہ اثر سے آزاد ہونا چاہتا ہے۔ اس معاملے میں پاکستان کی حمایت ایک اصولی موقف کی تائید ہے، لیکن بدقسمتی سے کرکٹ کی دنیا آئی پی ایل کی چکا چوند اور پیسے کی چمک کی وجہ سے صحیح اور غلط میں تفریق نہیں کرنا چاہتی۔ یہ مفادات کا معاملہ ہے اور اخلاقی طور پر کمزور لوگوں کے سامنے ہمیشہ اصول پیسے کے آگے ہار جاتا ہے۔ یہ ایک ہندوستانی گانے کے ہی بول ہیں ’’نہ باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیہ‘‘۔

پاکستان نے اب تک اس معاملے میں بنگلادیش کا صحیح ساتھ دیا ہے لیکن آگے جو پاکستان کرنے جارہا ہے یا جائے گا وہ فیصلہ جوش کے بجائے ہوش سے کرنے کی ضرورت ہے۔

میری معلومات کے تحت پاکستان کے پاس اس ٹی 20 ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ ہمارے میچز ہماری خواہش پر پہلے ہی سری لنکا منتقل کیے جاچکے ہیں، تو صرف اس بات پر کہ کھیل کے ایک ممبر ملک کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے کسی دوسرے ’’اکیلے‘‘ ملک کا بائیکاٹ غیر منطقی نظر آتا ہے۔

اگر ہم نے واقعی بنگلادیش کا ساتھ دینا تھا تو ہمیں کم از کم ایک سے دو مزید ممبر ممالک کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرنی تھی۔ اس وقت دنیا میں تائید کیسے حاصل کی جاتی ہے وہ سب کو پتہ ہے اس لیے اس پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں اور پھر ہندوستان کو اس کے ہی کھیل میں شکست دیتے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔

یہ سمجھنا کہ کوئی ملک اس زیادتی پر اخلاقی طور پر بنگلادیش کا ساتھ دے گا تو یہ دیوانے کے خواب والی بات ہے۔ اخلاقیات تو ویسے بھی بھرے ہوئے پیٹ کی کہانی ہوتی ہے اور آج کل حرص کی وجہ سے سب کے پیٹ خالی ہیں۔ ہندوستان منہ کے بل ضرور گرے گا لیکن اس میں ابھی وقت لگے گا۔

ہندوستان سے میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ اگر کیا گیا تو یہ اور بھی غلط فیصلہ ہوگا اور یہ ہندوستانی ذرائع ابلاغ کو یہ موقع دے گا کہ پاکستان نے یہ میچ تو ویسے ہی ہارنا تھا اس لیے میدان سے بھاگ گئے ہیں۔ میرے خیال سے ہمیں ان کا میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے اور ایک اچھی حکمت عملی بنا کر انھیں کھیل کے میدان میں بھی شکست دینی چاہیے۔

یہ تو طے ہے کہ آنے والے دنوں میں کرکٹ کی دنیا تقسیم ہونے جارہی ہے اور انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو بھی احساس ہوجائے گا کہ ہندوستان کو انھوں نے عفریت بنادیا ہے اور یہ عفریت اپنے خودغرضانہ مقاصد کےلیے ایک ایک کرکے کرکٹ کھیلنے والے ممبر ملک کو کھاتا جائے گا۔ یہ بالکل شیر اور چار بیل والی کہانی ہے اور بیلوں کی بقا ان کے متحد رہنے میں ہے۔ اس لیے ابھی وقت ہے کرکٹ کی دنیا اس عفریت کا سدباب کرے اور ان حالات میں پاکستان کو بائیکاٹ کر کے بیٹھ جانے کے بجائے ان کے درمیان رہتے ہوئے ہندوستان کو اس کی اوقات میں لانے کی حکمت عملی بنانی چاہیے۔

مجھے یقین ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کو بھی شعور آئے گا اور آخری فتح حقیقی اور اصولی موقف کی ہی ہوگی۔ ہم نے اپنا نقطہ نظر پیش کرنا تھا سو کردیا۔ ہماری قوم ایک جذباتی قوم ہے، ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگ اس سے اختلاف کریں جو کہ ان کا حق ہے لیکن قومیں جذباتی فیصلوں کی وجہ سے نہیں بلکہ سمجھداری سے کئے گئے فیصلوں سے آگے بڑھتی ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
سہیل یعقوب
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں