کراچی:
سندھ کے سینئر وزیر اور وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما فاروق ستار کو استعفیٰ دے کر ان کے مقابلے میں دوبارہ الیکشن لڑنے کا چیلنج دیا ہے اور ساںحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو عدالتی کمیشن بنایا جائے گا۔
شرجیل انعام میمن کی نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فاروق ستار کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو عدالتی کمیشن بنایا جائے گا، وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ان کے ٹائم ٹیبل پر چلیں لیکن ہم ان کے ڈکٹیشن پر نہیں چلیں گے، ہم اپنی سیاست اپنے حساب سے کرتے ہیں، فاروق ستار کے کہنے پر نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جینئن مینڈیٹ کے ساتھ آئی ہے، فاروق ستار کی طرح خیرات میں ملنے والے جعلی مینڈیٹ پر نہیں، ہم عوام کے ووٹوں سے آئے ہیں، ان کے طریقے سے نہیں آئے، ان کے لیے پہلے بھی "ٹھپہ مافیا" کی اصطلاح مشہور تھی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فاروق ستار کو مقابلے کا شوق ہے تو میں بھی استعفیٰ دیتا ہوں اور وہ بھی دیں، پھر مقابلہ کریں گے، دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے، یہ جعلی مینڈیٹ والے ہیں، بیوقوفانہ باتیں فاروق ستار ہی کرتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر انہیں اپنے لیے اسلام آباد سے پولیس منگوانی ہے تو منگوا لیں، کس نے منع کیا ہے، جو لوگ مجاز ہیں ان کے پاس پولیس کی نفری موجود ہے، ان کے کہنے پر ایم کیو ایم کے ہر فرد کو سیکیورٹی فراہم نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستار الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہیں، کوئی سمجھ داری کی بات نہیں کر رہے، لہٰذا ان کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیا جائے، ایم کیو ایم ایک دن ایک بات اور دوسرے دن دوسری بات کرتی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فارنزک لیب میں تیزی سے کام ہو رہا ہے، ہماری نیک نیتی تھی کہ ہم نے پنجاب سے فارنزک ماہرین کو بلایا اور کمشنر کی سربراہی میں اگر رپورٹ جامع ہوگی تو اسے دیکھا جائے گا، اگر کسی قسم کی کمی بیشی ہوئی تو عدالتی کمیشن بنایا جائے گا۔