کراچی، سندھ میں رواں برس زیبیز کے باعث پہلی ہلاکت رپورٹ ہو گئی

مجموعی طور پر سگ گزیدگی کے کیسز کی تعداد 3438 سے تجاوز کر گئی ہے


دعا عباس January 27, 2026

کراچی:

سندھ میں رواں برس زیبیز کے باعث پہلی ہلاکت رپورٹ ہو گئی ہے۔آوارہ کتوں کے بڑھتے حملے شہریوں کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے مہینے میں ہی شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہزاروں افراد سگ گزیدگی کا شکار ہو چکے ہیں. 

طبی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سال بہ سال سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات صحت کے نظام اور بجٹ پر اضافی دباؤ ڈال رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں رواں برس زیبیز کے باعث پہلی ہلاکت رپورٹ ہو گئی، ضلع سانگھڑ کے شہر جھول سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ بچی ڈیڑھ ماہ قبل آوارہ کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئی تھی۔

مختلف سرکاری اسپتالوں میں بروقت اور مکمل علاج نہ ملنے کے باعث بچی میں پانی اور ہوا سے خوف جیسی خطرناک علامات ظاہر ہو گئیں۔ جس کے بعد متاثرہ بچے کو کورنگی کے انڈس اسپتال منتقل کیا جہاں وہ گزشتہ روز جان کی بازی ہار گئی۔

کراچی کے مختلف اسپتالوں میں سگ گزیدگی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انڈس اسپتال میں 1500، جناح اسپتال میں 800، سول اسپتال میں 400 سے زائد، قطر اسپتال میں 500 سے زائد، سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اسپتال میں 128، لیاقت نیشنل اسپتال میں 10 اور سندھ گورنمنٹ نیو کراچی اسپتال میں 50 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

مجموعی طور پر سگ گزیدگی کے کیسز کی تعداد 3438 سے تجاوز کر گئی ہے۔ گزشتہ سال کراچی کے دو بڑے سرکاری اسپتالوں میں ریبیز کے سبب 20 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راشد خانزادہ کے مطابق ریبیز پریوینشن کلینک میں روزانہ دو اقسام کے مریض آتے ہیں، جن میں نئے اور فالو اَپ کیسز شامل ہوتے ہیں۔

یومیہ مجموعی طور پر 100 سے زائد اندراجات ہوتے ہیں، جن میں 30 سے 40 نئے کیسز شامل ہوتے ہیں۔ رواں سال اب تک اسپتال میں 1610 مریض رپورٹ ہوئے، جن میں سے 568 نئے کیسز تھے۔

ڈاکٹر راشد خانزادہ نے ریبیز سے متعلق اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2023 میں اینٹی ریبیز ویکسین (اے وی آر) کی 7,903 ڈوزز لگائی گئیں، مالی سال 2024 میں یہ تعداد 12,709 تک پہنچ گئی، جبکہ مالی سال 2025 میں 17,157 ڈوزز استعمال ہوئیں۔

مالی سال 2026 کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی 8,809 ڈوزز لگ چکی ہیں، جو سال کے اختتام تک 17 سے 18 ہزار تک پہنچنے کا امکان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اینٹی ریبیز ویکسین کی ایک ڈوز کی قیمت 1200 سے 1800 روپے کے درمیان ہے، اس کے علاوہ پین کلرز، اینٹی بایوٹکس، پٹیاں اور اے ڈی ایس انجیکشن بھی دینا پڑتے ہیں۔

صرف مالی سال 2025 میں استعمال ہونے والی اے آر وی ویکسینز پر 2 کروڑ 57 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جو صحت کے بجٹ پر اضافی دباؤ ہے۔

اگر ایک اسپتال کا یہ حال ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سندھ بھر کے اسپتالوں میں یہ اخراجات کتنے ہوں گے، حالانکہ یہ رقم دیگر روٹین مریضوں پر خرچ ہونی چاہیے تھی۔

ڈاکٹر راشد خانزادہ کا کہنا تھا کہ سال بسال سگ گزیدگی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے،اگر ریبیز پر قابو پانا ہے تو آوارہ کتوں کی تعداد کم کرنا ہوگی اور متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد آج تک کوئی مریض نہیں بچ سکا۔

انہوں نے عوام کو آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ سگ گزیدگی کے فوراً بعد زخم کو صابن اور صاف پانی سے 15 سے 20 منٹ تک اچھی طرح دھوئیں، پھر زخم کو اسٹیرلائز کریں۔

زخم پر ٹانکے نہ لگوائیں اور نہ ہی ایسی ڈریسنگ کریں جس سے جراثیم باہر نکلنے کے بجائے اندر ہی پنپتے رہیں اور دماغ تک پہنچ جائیں، زخم دھونے کے بعد فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

انہوں نے بتایا کہ ویکسین کے دو آپشن ہوتے ہیں۔ اگر اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ کتا ریبیڈ تھا تو زخم کے اردگرد امیونوگلوبلن لگائی جاتی ہے، جس کا آدھا ڈوز متاثرہ شخص کے بازو میں بھی دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری اینٹی ریبیز ویکسین بھی لگائی جاتی ہے۔

ویکسین اپنا اثر 14 دن بعد شروع کرتی ہے، جبکہ امیونوگلوبلن فوری اینٹی باڈیز فراہم کرتی ہے جو فوج کی طرح ریبیز کے جراثیم کے خلاف کام کرتی ہیں۔

جو زخم دماغ کے جتنا قریب ہو، اسے اتنی ہی سنجیدگی سے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر بچے کتوں کے کاٹنے کا شکار ہو کر چہرے پر زخم کر لیتے ہیں، جس سے جراثیم کے دماغ تک پہنچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ریبیز کی علامات میں تیز بخار، متلی، قے، غنودگی، پانی اور ہوا سے خوف شامل ہیں۔ متاثرہ فرد کی اذیت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ گلے میں پانی پھنسنے لگتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اندرون سندھ بعض ناخواندہ افراد سگ گزیدگی کے بعد زخم پر مرچیں بھر دیتے ہیں یا سکے باندھ دیتے ہیں، یہ نسخے اور گھریلو ٹوٹکے انتہائی خطرناک ہیں۔ جس کے خاتمے کے لیئے ریبیز کے حوالے سے عوامی سطح پر آگاہی ناگزیر ہے۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ محلوں میں آوارہ کتوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے،لیکن متعلقہ ادارے مؤثر کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔

شہریوں کے مطابق کئی بار کتوں کو دور دراز علاقوں میں چھوڑا گیا، مگر وہ دوبارہ آبادیوں میں واپس آ جاتے ہیں۔

مقبول خبریں