اصلاحات کے مثبت ثمرات ہیں کہاں؟

آئی ایم ایف اور اے ڈی بی نے تو حکومت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے مگر ملک کے عوام کو تو وہ ثمرات نظر نہیں آ رہے


[email protected]

منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں اصلاحات کے مثبت ثمرات سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے معاشی اصلاحات کا اعتراف کرتے ہوئے پہلی مرتبہ بجٹ ڈسپلن کو بھی سراہا اورکہا کہ عوام کی زندگی میں تبدیلی کے لیے وسائل خرچ ہو رہے ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف ملک میں مثبت تبدیلی اور ترقی کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔

صدر ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پاکستان میں اقتصادی اصلاحات پر اطمینان کا اظہارکیا ہے۔ انھوں نے وزیر خزانہ سے ملاقات میں مارکیٹ اعتماد کو بھی سراہا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اے ڈی بی کے صدرکو نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔

 آئی ایم ایف اور اے ڈی بی نے تو حکومت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے مگر ملک کے عوام کو تو وہ ثمرات نظر نہیں آ رہے، نہ اقتصادی ترقی اور معاشی بہتری کے نتائج کہیں نظر آ رہے ہیں اور یہ ضرور نظر آ رہا ہے کہ حکومت نے پہلی ششماہی میں 1254 ارب روپے کے مزید قرضے لیے ہیں۔ یہ قرضے بیرونی تھے، جن میں آئی ایم ایف کا قرض شامل نہیں ہے۔ بیرونی طور پر لیے گئے، یہ مزید قرضے گزشتہ سال کی اسی مدت کی نسبت 29 فی صد زائد ہیں جس سے ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھا ہے۔

ادارہ شماریات نے تو عوام کو یہ بتایا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر ملک میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 4.18 فی صد پر برقرار ہے اور 12 ضرورت کی اشیا ضرور مہنگی ہوئی ہیں۔ سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی ہے جس کے جواب میں حکومت کی طرف سے ملکی موجودہ صورت حال کا ذمے دار پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت کو قرار دیا، جو اپریل 2022 میں ختم کرا دی گئی تھی جس کے بعد شہباز شریف سولہ ماہ وزیر اعظم رہے اور نئے انتخابات کے بعد موجودہ حکومت جو مسلم لیگ (ن) کی ہے کو دو سال مکمل ہونے والے ہیں کے بھی وہی وزیر اعظم ہیں مگر ان کی کابینہ میں شامل وزیر خزانہ مسلم لیگ کا نہیں ہے ۔ اسحاق ڈار (ن) لیگ حکومت میں ہمیشہ پسندیدہ وزیر خزانہ رہے ہیں جو صرف معیشت میں بہتری اور آئی ایم ایف معاملات کے لیے اہم اور قابل ترین سمجھے جاتے تھے مگر وہ اس بار وزیر خزانہ نہیں بنے۔ پی ڈی ایم حکومت میں مسلم لیگ (ن) کے ہی مفتاح اسماعیل چند ماہ کے لیے وزیر خزانہ بنے تھے جن کے بعد اسحاق ڈار کو لایا گیا جن کے بعد اب غیر سیاسی شخص وزیر خزانہ ہیں۔

پی ٹی آئی میں بھی اسد عمر کو قابل ترین سمجھ کر وزیر خزانہ بنایا گیا تھا جو آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کے حق میں نہیں تھے اور اسی وجہ سے انھیں بلند و بانگ دعوے کرنے والے وزیر اعظم نے ہٹا کر حفیظ سومرو کو وزیر خزانہ بنایا اور ان کی بھی ناکامی پر شوکت ترین کو لایا گیا اور یہ دونوں آئی ایم ایف کے قریب تھے جنھوں نے معیشت مزید تباہ کی اور اپنی ہی حکومت کی برطرفی کے بعد انھوں نے اپنے پنجاب و کے پی کے وزرائے خزانہ کو کہا کہ وہ آئی ایم ایف کو لکھیں کہ پی ڈی ایم حکومت کو قرض نہ دیں۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی کے سینیٹروں کو حکومت پر تنقید کے جواب میں بتایا گیا کہ انھی کی حکومت معیشت کی تباہی کی ذمے دار تھی جسے شہباز شریف حکومت بہترکرنے کی کوشش کر رہی ہے اور (ن) لیگی حکومت کے اچھے اقدامات کو عالمی ادارے مثبت قرار دے رہے ہیں۔

 جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت (ق) لیگ کی حکومت میں معیشت اتنی ابتر نہیں تھی جتنی بعد میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں ہوئی اور تینوں نے ہی ایک دوسرے کو اس کا ذمے دار قرار دیا اور یہ سلسلہ اب بھی چل رہا ہے اور عوام ان سب حکومتوں کی کارکردگی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف دور میں عوام کی حالت اتنی بری نہیں تھی، جتنی اب ہو چکی ہے۔ نئے تجربے کے طور پر دو سال قبل غیر سیاسی وزیر خزانہ لایا گیا تھا جن کی دو سالہ کارکردگی کو آئی ایم ایف اور اے ڈی بی نے مثبت قرار تو دیا ہے مگر اس کے اثرات عوام تک نہیں پہنچے بلکہ عوام مزید مہنگائی و بے روزگاری کا شکار ہو رہے ہیں جن کی فکر حکومت کو بالکل نہیں ہے۔ عوام کی فکر تو سیاسی حکومتوں، سیاسی وزیروں اور ارکان اسمبلی کو ہونی چاہیے کہ جنھیں عوام سے ووٹ لینے ہوتے ہیں مگر اب عوام کی فکر کسی کو بھی نہیں رہی جس کا ثبوت ن لیگ کی سابقہ اور موجودہ دو حکومتیں ہیں کہ جن کے سوا تین سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ ملک کے عوام مہنگی گیس اور بجلی خرید رہے ہیں مگر انھیں مطلوبہ مقدار میں بجلی مل رہی ہے نہ گیس۔ مہنگی بجلی و گیس کی وجہ سے صنعتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے ملازمین کی برطرفیاں ہو رہی ہیں اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے جب کہ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

 موجودہ حکومت میں جس طرح بیرونی قرضے لیے گئے وہ کہاں خرچ ہو رہے ہیں کوئی بتانے کو تیار نہیں۔ جتنی بڑی مقدار میں قرضے لیے گئے ان کے ثمرات عوام تک تو نہیں پہنچے صرف وزیروں، ارکان پارلیمنٹ، ججز اور بیورو کریٹس کی تنخواہیں اور مراعات بڑھیں۔ حکمرانوں کا غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور غربت مزید بڑھی ہے۔ غیر ملکی دوروں کے ثمرات بھی عوام تک نہیں پہنچے۔ بیرونی دوروں سے وہاں پاکستانیوں کے لیے ملازمتیں حاصل ہوئیں نہ غیر قانونی طریقوں سے باہر جانے کا رجحان کم ہوا۔ وزیر خزانہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت عوام کو سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کی پابند نہیں۔ نجی اداروں سے ملازم فارغ کیے جا رہے ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے ملک میں خودکشیاں بڑھ رہی ہیں۔ حکومت اپنے اخراجات کم نہیں کر رہی اور زور صرف ٹیکس وصولی پر ہے اور عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ غیر ملکی قرضوں کے یہی ثمرات ہیں اور پھر بھی شکایت ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے۔

مقبول خبریں